
زہرا یاسمین / کراچی
دورہ قرآن میں جب شجر طیبہ اورشجر خبیثہ کی مثال آئی تو یہی اصول عمل کے لیے لیاشجرطیبہ بننا ہے، مثال کھجور کے درخت سے کہ جو دنیا سے لیتا کم
ہے اور دنیا کو دیتا زیادہ ہے ،مثلا سارا سال پھل دیتا ہے۔ تپتی دھوپ وصحراوریگستان میں اگ جاتا ہے ،سایہ دیتا ہے،زمین سےاضافی پانی جو سیم و تھور کا سبب ہوتا ہے اسے کم کرتا ہے۔ زمین میں گہر ی جڑیں پھیلا کر اپنے لیے خودہی پانی کا بندوبست کرلیتا ہے۔اس کے پتے دستی پنکھے ،چٹائیاں، ٹوکریاں بنانے کے کام آتے ہیں۔
قدرتی مٹھاس،مکمل غذائیت اورآئرن سے بھرپور کھجورکی بےشماراقسام ہیں ۔یہ جنت کی نعمت ہے۔مومن کی مثال بھی ایسی ہی ہے ہمیں کھجور کے درخت کی مانند مومنانہ اوصاف یعنی خود مشکلات جھیل کر دوسروں کو فائدہ دینے کا طرز عمل اپنانا ہے۔ سبحان اللہ شجر خبیثہ قوم کا کانٹے دار، بے سایہ، بے فائدہ درخت جس سے نکلنے والا مادہ کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے ۔یہ جہنم کے لوگوں کا کھانا ہے۔ اللہ تعالیٰ سےدعا ہے کہ وہ ہمیں شجر طیبہ کے مثل بنائے اور شجر خبیثہ بننے سے دور رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔
اس کے لیے ہمیں دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے کےمصداق قرآن و سنت کےعلم کی طلب کے ساتھ اخلاص نیت سے ان تعلیمات پر عمل کرکےشجر طیبہ بننے کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی لانی ہے ۔




































