
زہرا یاسمین
شازمہ اپنی امی سے کہنے لگی امی آٹھ مارچ کو یوم خواتین کیوں مناتے ہیں؟مجھے ٹیچرنے یوم خواتین اور حقوق نسواں پر تقریر تیار کرنے
کا کہا ہے،پیاری امی جان پلیز میری مدد کریں ۔
امی بولیں: شازی بیٹا
جہاں تک عالمی یوم خواتین کا سوال ہے کہ یہ کیوں مناتےہیں؟ اس کی تاریخ کچھ یوں ہے؟اس دن کا آغاز 1908 میں نیویارک شہر سے ہواجب 15000 خواتین نے کم گھنٹے کام، بہتر تنخواہوں اور ووٹ کے حق کے لیے مارچ کیا۔ اس سال بعد سوشلسٹ پارٹی آف امریکا نے پہلا قومی یومِ نسواں منایا۔ خواتین کا عالمی دن ہرسال 8 مارچ کو منایا جاتا ہےاوراس کا مرکزی نقطہ صنفی مساوات ، تولیدی حقوق اور خواتین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی جیسےمسائل پر مبنی ہوتا ہے ۔ خواتین کا عالمی دن دنیا بھر میں مختلف طریقوں سےمنایا جاتا ہے،کچھ ممالک میں دوسروں میں سماجی ثقافتی یا مقامی طور پر خواتین کی کامیابیوں کی ستائش اورانہیں فروغ دینےکےلیےمنایا جاتا ہے۔
آٹھ مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین کےطورپرمنایا جاتاہے۔امریکا کےبعد یہ دن آسٹریا،ڈنمارک،جرمنی اورسوئٹزرلینڈ میں انیس سو گیارہ میں منایا گیا ۔ سن انیس سو پچھتر میں اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ،جب اقوام متحدہ نے اسے منانا شروع کیا ۔ سن انیس سو چھیانوے میں پہلی مرتبہ اسے ایک تھیم دیا گیا، جب اقوام متحدہ نے اسے ’’ ماضی کا جشن اور مستقبل کی منصوبہ بندی ‘‘ کے عنوان سے منایا ۔مساوات مردو زن کا نعرہ لگا کر اٹھنے والی اس تحریک نے آج تک خواتین کو ان کا حق نہیں دلایا ۔لیکچرز ہوتے ہیں واک ہوتی ہے ،سیمینارزرکھے جاتے ہیں پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ عورتوں کو ان کے حقوق آج بھی مغربی معاشرے میں نہیں دیےگئے۔نہ مشرق میں ملے ہیں البتہ دین اسلام ہی وہ واحد طریقہ زندگی ہے جو تحفظ حقوقِ نسواں کا حقیقی علمبردار ہے۔
عورت معاشرے کااہم ستون ہے۔عورت اورمرد مل کرگھرانہ یا خاندان بناتےہیں۔مرد کواللہ نےقوام بنایا ہے۔اس کوعورت سےزیادہ سخت جان بنایا ہے تاکہ ہر طرح کے حالات کا بخوبی مقابلہ کرسکے جبکہ نبی کریم ﷺ نےعورت کو نازک آبگینے قرار دیا ہے۔ عورت گھر بناتی ہے۔ وہ بچے پالتی ہے ۔ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کی کوئی عزت نہیں تھی ۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ پر قرآن نازل فرمایا اور خواتین کو عزت و تکریم دی۔ اسے حقوق دیے جو دنیا کےکسی مذہب اورقوم میں عورت کو نہیں دیے گئے ۔
مثالیں
اللہ تعالیٰ نے عورت کواسلام میں حفاظتی حصار اورعزت اور تکریم عطا کی ۔
عورت ماں ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے ۔
عورت نسلوں کی تعلیم و تربیت کی امین ہے،نپولین کہتا ہےتم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔
عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہر حیثیت میں عزت اور حقوق حاصل ہیں۔ عورت کا نان نفقہ ( اخراجات لباس کھانا رہائش وغیرہ) مردکی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کہ عورت کا کفیل و نگہبان و سرپرست اس کے محرم مرد باپ ،شوہر،بھائی اور بیٹے کو بنایا گیا ہے۔
نکاح کے لیے رضامندی اور مہرکا حق بھی اسلام نے عورت کو دیا ہے۔
علم حاصل کرنا عورت کے لیے بھی ضروری ہےاور یہ حق بھی اسلامنے دیا ہے ۔
حق وراثت بحیثیت ماں، بیوی،بیٹی،بعض صورتوں میں بحیثیت بہن بھی وراثت کا حق دار بنایا ہے۔ عورتوں کے حقوق کے نام نہاد مغربی پروپیگنڈے سے آج تک عورت کو معاشرے میں نہ مقام ملا ہے نہ حق، حقوق نسواں کے دعوے دار معاشرے میں آج بھی عورت کا استحصال جاری ہے۔صرف دین اسلام ہی تحفظ حقوق نسواں کا حقیقی علمبردار ہے۔
علامہ اقبال نے کہا ہے
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں




































