
زہرا یاسمین /کراچی
ہمیشہ سے مؤدب، پڑھنے لکھنے میں ہوشیار اور ہنس مکھ نادرجسےسارے خاندان میں پسند کیا جاتا اور اس کی مثالیں دی جاتی تھیں اس کے بہت سے
دوست تھے، نادر نے سوچا پڑھائی کےساتھ پارٹ ٹائم ٹیوشن پڑھا کر یونیورسٹی کاخرچہ اٹھاسکوں گا،انٹر کے امتحانات کے بعد اس نے ٹیوشن پڑھانا شروع کردی۔رزلٹ آیا تو نادر کا میرٹ پر انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا۔ یونیورسٹی کے ساتھ ٹیوشن کا سلسلہ جاری تھا،اس نے سیکنڈ ہینڈ بائیک لےلی تھی،آمدورفت میں آسانی کے لیے ایم ای کے سیکنڈائیر کے آخری سیمسٹرکے پیپرز سے فارغ ہوکر ایک گھر سےٹیوشن پڑھا کر اپنے گھر واپس جارہا تھا۔ نادر صبح امی سے رات میں پلاؤ کی فرمائش کرکے نکلا تھا۔ آدھا راستہ خیرو عافیت سے گزرگیا نادربائیک کبھی تیز نہیں چلاتا تھا،اسی لیے اس کا کبھی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا۔ تھوڑا آگے گیا گھر سے کچھ فاصلے پر سڑک پیچھے سے آنے والے تیز رفتار ڈمپرکی ٹکر سے بائیک سمیت اچھلتاہوا قریبی فٹ پاتھ پر جاگرا، ڈمپر والا تو بھاگ گیا کچھ رحم دل لوگوں نے اسے فلاحی ادارے کی ایمبولینس سے قریبی ہسپتال منتقل کردیا لیکن وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔ دوسری جانب گھر پرسب اس کے منتظر تھے۔ نادر آئے تو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ آج تو اس کامن پسند پلاؤ بنا ہے۔ بہن نے کسٹرڈ بھی بنالیا تھا۔ کافی دیر تک انتظار کے بعد جب نادر گھر نہیں پہنچا تو اس کے ابو نے اس کا فون ملایا جو بندجارہا تھا۔ وہ خود اسے تلاش کرنے باہر نکل پڑے،پڑوسی آفتاب صاحب نے بتایا کی نزدیکی سڑک پر خونی ڈمپر نے آج پھر ایک جان لے لی ہے ۔اس ایکسیڈنٹ میں نوجوان لڑکا جان کی بازی ہارگیا۔ نادر کے والد نے نادر کے اب تک گھر نہ آنے پر تشویش کا اظہار کیا نادر کے دوست پڑوسی سب اسے ڈھونڈنے نکل گئے۔تھوڑی ہی دیر میں قریبی ہسپتال سے نادر کے انتقال کی اطلاع محلے بھر میں پھیل گئی۔ بھاگ دوڑ مچ گئی۔
پلاؤ فورا قریبی کچی بستی میں تقسیم کردیا گیا تھا،اگلے دن ظہر پر جنازہ تھا۔ رات سے ہی ہر آنکھ اشکبار تھی۔ نادر کی اچھائیوں کا ذکر ہورہا تھا ،ایک قیمتی ہیرے جیسا لڑکا پھر کسی خونی ڈمپرکاشکار ہوگیا تھا۔ آفتاب صاحب نادر کےوالد احمد سے کہنے لگے کہ بہت ہوگیا،اب ہمیں ان خونی ڈمپرز کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ ہم کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔ اس موقع پر کچھ چینلز کے نمائندے رپورٹنگ کےلیے موجود تھے۔نادر کے والد سے بات کرنی چاہی تو وہ غم کے مارے کچھ نہ کہہ پائے لیکن اس موقع پر آفتاب صاحب نے موجود میڈیا چینلز کے نمائندوں سے التجا کی کہ خدارا چینل کی ریٹنگ کے لیے کوریج سے زیادہ سارے شہر میں دندناتے خونی ڈمپرز کی کارستانیوں کو اپنے چینل پر پیش کریں۔ یہاں کوئی تماشا نہیں ہورہا۔ جوان موت کا غم ہے، سب کےدل غم سے چھلنی ہیں۔ ماں باپ کا سہارا سب کا راج دلارا جسے قوم کا تابناک مستقبل بننا تھا خونی ڈمپرز نے ہم سے چھین لیا ۔ یہ قتل ہے اس سے پچھلے ہفتے ساتھ والے محلے میں بھی ایک نوجوان ان ڈمپرز کی وجہ سے جان کی بازی ہار گیا تھا۔ آپ اپنے چینل پر ہمارے لیے صرف اتنا کریں کہ ان ڈمپرز کے خلاف ایکشن لیں حکومتی اہلکاروں کو متوجہ کروائیں،ڈمپرز کو شہر میں اوقات کار اور ٹریفک کے ضابطوں کا پابندبنادیں۔ تاکہ آئندہ کوئی ڈمپر کسی اور ماں کا لعل باپ کامان اور قوم کا قیمتی سرمایہ ان سے نہ چھین سکے ۔




































