
زہرا یاسمین/ کراچی
صباحت ایک خوش شکل با صلاحیت اپرمڈل کلاس سے تعلق رکھنےوالی صوم وصلوٰۃ کی پابند لڑکی تھی پڑھائی میں بھی بہت اچھی تھی ہمیشہ اے گریڈ
لیتی۔ اسے شروع سے کچھ نہ کچھ کرنے اورسیکھنے کا بہت شوق تھا۔ پہلے میٹرک کےبعد تعطیلات میں پھرانٹراورگریجویشن کے بعد بھی کچھ نہ کچھ سیکھتی رہی۔ کوئی کورس وغیرہ کبھی انگلش کبھی چائینیز لینگویج کورس کیا۔ کبھی انٹرنیشنل یا نیشنل کوگنگ و بیکنگ وغیرہ فیشن ڈیزائننگ،یوگاایروبک، سیلف گرومنگ،بیوٹیشن کورس اور کمپیوٹر کورسز سب ہی سیکھا۔
خدمت خلق کا شوق بھی تھا اکثر این جی اوز کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لیتی۔ اسی لیے وہ سوشل ورک میں ماسٹرز کر رہی تھی ۔یونیورسٹی میں بھی صباحت نمایاں رہی ابھی ماسٹرز مکمل نہیں ہوا تھا کہ بہت اچھے گھرانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قابل لڑکوں کے رشتے آنے لگے ۔ کچھ اچھے رشتے اپر کلاس سے بھی آئے لیکن صباحت نے والدین سے کہا ہم جیسے ہیں ہمیں اپنے جیسے لوگوں میں ہی رشتہ کرنا چاہیے۔ کلاس کا فرق بعد میں مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ والدین اس کی سوچ سے متفق تھے۔اس لیے بہت دیکھ بھال کے قریبی جاننے والوں کے توسط سےمتوسط گھرانے کےاچھے اور قابل لڑکے سے ماسٹرز کے امتحانات کے فورا بعد اس کی شادی کردی گئی۔
شادی کے بعد صباحت نے اپنی قابلیت اور صلاحیتوں سے سسرال میں سب کا دل جیت لیا۔ کبھی نند کی گرومنگ کی اس کی شادی ہونی ہے۔ جٹھانی جن کو شوہر کے پاس لندن جانا تھا،انہیں انگلش سکھانا۔ سب کے لیے نت نئے اچھے اچھے کھانے پکانا۔ ساس کے ساتھ فلاحی کاموں میں حصہ لینا بہت مصروف رہنے لگی تو اس کے شوہر نے کہا میرے آفس سے گھر آجانے کے بعد کا وقت میرا ہے۔ اس لیے توازن رکھا کرو۔ صباحت کی ساس نے بھی اسے یہی نصیحت کی۔ پھر چند ماہ بعد نند کی شادی ہوگئی پھرجٹھانی شوہر کے پاس لندن، اب تو صباحت کے پاس بہت فرصت ہوتی تھی وہ کچھ کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اللہ نے اسے خوشخبری بھی دے دی۔ ایسے میں بہت آرام کرنا اسے بہت مشکل لگا تو آن لائن کچھ نہ کچھ کرلیتی،پھر یکے بعد دیگرے تین بچوں کی پیدائش اور ان کی مصروفیات میں مگن ہوگئی۔ دو بچے جب اسکول جانے لگے تو پھر کچھ نہ کچھ کرنے کی عادت کے باعث ایک این جی او جوائن کرلی۔
دن میں وہاں جایاکرتی اور شام و رات کے وقت گھر پر بچوں شوہر ساس سسر کےساتھ ہوتی تو فکر لگی رہتی کہ کب کیا پکے گا؟ کب کس کی دعوت کرنی ہے ؟کہاں جانا؟ کون آئے گا آنے والا ہےوغیرہ؟ سب چیزوں کا شیڈول ہفتہ بھر پہلےسے طے کردیا تھا دو کام والیاں بھی رکھ لی تھیں ایک تو کل وقتی تھی صبح سے گھر میں ہی ہوتی رات کو جاتی۔ دوسری وقت مقررہ پر کام کرکے چلی جاتی۔ جب صباحت آفس سے آتی تو گھر کے کچھ کام کرتی۔ بچوں سے ہلکی پھلکی بات کرتی اور آرام کرتی تاکہ تھکن اترےتو شام تک تازہ دم ہو جائے ۔ ایسے ہی دن گزر رہے تھے کہ اس کی نند دبئی سے اور جٹھانی لندن سے پاکستان ایک ماہ کے لیے آگئیں۔ گھومنا پھرنا دعوتیں سیرو تفریح سارا شیڈول ہی الٹ پلٹ گیا اسے اپنی جاب سے کچھ دن کی رخصت بھی لینی پڑی اس ایک ماہ میں گھر میں زیادہ وقت گزارنےکے باعث اس نے اپنے بچوں اورنند وجٹھانی کے بچوں میں واضح فرق محسوس کیا۔ اس کے بچےضدی ہوگئے ہیں۔بد تمیزی سے بات کرنے لگے ہیں ۔جواب دیتے ہیں۔ زور سے بولتے ہیں اور ان بچوں کے درمیان رہتے ہوئے احساس کمتری کا شکار محسوس ہوئے۔ ایک ماہ بعد جب سب واپس چلے گئے تو اس نے این جی او سے کچھ دن کی چھٹیاں لیں اور اپنے بچوں کا مسئلہ لےکر معروف پیرنٹنگ ایکسپرٹ سے وقت لے کر ان کو اپنے بچوں کا مسئلہ بتایا۔ انہوں نے تمام گھریلو ماحول اور مصروفیات کے حوالے سے کچھ فارم فل کروائے کچھ مطالعے کے لیے دعا دو ورکشاپس کروائیں بچوں اور دیگر گھر والوں سے ملاقات کی اورصورتحال کےمکمل تجزیے کے بعد صباحت کو یہ بتایا کہ بچوں کے لیے ماں باپ کی توجہ خصوصاً ماں کی توجہ بہت اہم ہے ۔ماں باپ تو بچوں کو دوست اور مزاج شناس ہوتے ہیں۔ آپ نے بچوں کو زبردستی کچھ مینرز کا پابند تو کردیا لیکن آپ کے بچوں کو آپ کی محبت و توجہ اسے اس طرح نہیں ملی جو ان کا حق تھا،وہ آپ سے دور ہوتے چلےگئے۔ اسی لیے بد مزاجی اور چڑچڑاپن ان کی طبیعت میں آرہا ہے دیگر جن بچوں کی آپ نے بات کی تو ان کو اپنےوالدین کی بھرپور توجہ ملی۔
وہاں پر جو لائف اسٹائل ہے، اس میں اور آپ کے لائف اسٹائل میں بہت فرق ہے۔ وہ بچےبہت سا وقت ماں کےساتھ گزارتےہیں چونکہ آپ ورکنگ وومن ہیں۔ آپ پر گھریلو ذمہ داریاں ،خاندان پڑوس محلہ داری نبھانے کے ساتھ اور ادارے کی بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد ہیں جس کی وجہ سے آپ کو بچوں کے لیے وقت نہیں ملتا جبکہ ان بچوں کی مائیں گھریلو خواتین ہیں۔ وہ ان کی سنتی ہیں۔مسائل حل کرتی ہیں۔
آپ نے اپنے اور اپنے بچوں کے درمیان بہت فاصلہ پیدا کردیا ہے۔آپ بچوں کووقت دیں اعتماد دیں ان کی دوست بن جائیں آپ کوکچھ عرصے اپنی کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی عادت کو پس پشت ڈالنا ہوگا،خود کو تھوڑا بدلنا ہوگا۔ ایک اچھی ماں بن کر بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
آپ تو بہت کچھ کرنا جانتی ہیں کرتی رہی ہیں سیکھتی رہی ہیں،سب آپ کو شعوری طور ماں کا حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اولاد بڑی نعمت ہے ۔اس کی آبیاری سے بڑا تو کوئی کام ہی نہیں۔ اسی لیے تو ہمارا دین بتاتا ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔
صباحت ان کا مشورہ سن کر شرمندہ ہوگئی اور اپنی مینٹور کا شکریہ ادا کرے ہوئے ماں اور مامتا کے فرائض اچھی طرح ادا کرنے کی ٹھان کر اٹھ کھڑی ہوئی۔




































