
زہرا یاسمین/ کراچی
کنجوسی
عموماً کنجوسی سےمراد کھل کر خرچ نہ کرنا ہاتھ روک کر یا کھینچ کر خرچ کرنا یعنی پیسہ بچانا اور بہت کم خرچ کرنا یہی لی جاتی ہے۔ پیسہ ہو نے کے
باوجودجائز ضرورت پر بھی بہت مشکل سے اور گزارے کی حدتک خرچ کرنا کنجوسی ہے۔ عام طور پر روپے پیسے کی کنجوسی ہی کنجوسی سمجھی جاتی ہے جس کی الٹ یا ضد ہے فضول خرچی یعنی فضول اور غیرضروری چیزوں پر ضرورت سے زیادہ پیسہ لٹانا۔پیسہ خرچ کرنے میں حدسےتجاوز کرناوغیرہ جبکہ خرچ میں اعتدال اور کفایت شعاری دین میں پسندیدہ ہےکیونکہ یہاں بات ہورہی ہے کنجوسی کی تو کنجوسی اور کنجوس افراد کے بہت سارے قصے اور ڈھیروں کہانیاں سب ہی سنتے ہی رہتے ہیں اور ہم یقیناً ایسی کنجوسیوں سے دورہی رہتے ہیں۔
الفاظ اور جذبات کے اظہار کی کنجوسی
لیکن کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی موقع پر ہم بھی کنجوسی کر جاتے ہیں اور یہ کنجوسی مال اور روپے پیسے کی نہیں ہوتی بلکہ
الفاظ اور جذبات کے اظہار کی کنجوسی ہے مطلب یہ ہے کہ الفاظ اور جذبات کا موقع ومحل کے مطابق درست اظہار نہ کرپانا، مثلاً اچھے کھانے کی تعریف، کپڑوں یا چیزوں کی تعریف میں بخل یا کنجوسی کرنا۔ خصوصا کھانے کے بعد اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو چند لفظوں میں خیرخواہی اور محبت اور تعریفی کلمات سے نوازنا۔ اس میں جیب سےتو کچھ نہیں جاتا البتہ گھر کا ماحول بہتر ہوجاتا ہے۔ رشتوں میں محبت اور قربت کا احساس رہتا ہے۔ محبت کے اظہار،اپنائیت کے احساس کو الفاظ کے قالب میں ڈھال کر کہنے میں جیب سےتوکچھ نہیں جاتا البتہ اجر ضرور ملتا ہے اور یہ بات باہمی خوش گوار تعلقات کی استواری کا باعث ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر دعائیہ انداز میں تعریف کرنا، خوشی کے موقع پر مبارکباددینا،غم پر تسلی دینا، مسکرا کر ملنا۔ وغیرہ
* اظہار کی کنجوسی کی شکلیں*
کھانا کیسا تھا؟ لمبی سی ہوں۔۔۔۔۔ ہاں بس ٹھیک تھا،
*کامیابی ملنا۔ میں بہت اچھے گریڈ سے کامیاب ہوا /ہوئی ہوں
اں ہاں۔۔۔۔ اچھاٹھیک ہے۔
وہ کتنی پیاری یاکتنا پیارالگ رہا ہے؟
لمبی سی ہوں ہاں،اچھا ہی ہے۔ وغیرہ ۔
جبکہ جواب میں یہ بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ
ماشاءاللہ بہت خوب بہت مزے دار کھانا تھا۔ شاباش اللہ رزق کشادہ کرے برکت دے۔
الحمد للہ ۔ماشا اللہ بہت مبارک ہو اللہ مزید کامیابیاں عطا کرے۔ماشاءاللہ بہت حسین بہت پیارا/ پیاری ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی خوش اور آباد رکھے۔ آمین ثم آمین ۔ وغیرہ وغیرہ۔
کہنے میں کیا جاتا ہے؟ اس پر تو ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا، تو پھر اس میں کنجوسی کرنے کی کیا تک بنتی ہے؟ کسی کودعا دینا،اس کاحوصلہ بڑھانا، تعریف کرنا، مسکرا کر ملنا اپنے الفاظ اور جذبات کے اظہار سے کسی کو خو ش کرنے سے اجر ملتا ہے۔اس طرح یہ بات تو ہمارے فائدے کی ہوئی، یعنی اجر بھی مل رہا ہے اور جیب سے بھی کچھ نہیں جارہا بلکہ ماحول خوش گوار اور تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اظہار کےمعاملے میں کنجوسی کریں ہی کیوں؟خواہ یہ کنجوسی الفاظ کے استعمال کی ہو جذبات یا تاثرات کے اظہار کی؟ کنجوسی تو بہرحال کنجوسی ہی کہلاتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اس کنجوسی میں کوئی بچت ہی نہیں بلکہ الٹا اجر سے محرومی اور تعلقات میں کھنچاؤ کا نقصان بھی ہے تو پھر ہم ایسی کنجوسی کیوں کریں؟ عقلمند کو اشارہ کافی ہے ۔ ایسی صورتحال پر ہم تو یہ کہنےپر مجبور ہیں کہ ایسی بھی کیا کنجوسی ؟




































