
زہرا یاسمین / کراچی
یوم کشمیراورہمارے بچےاس تھیم کے تحت اسکول میں میڈم نے مجھے یوم کشمیرکےسلسلے میں سرگرمیوں کی ذمہ داری سپرد کی تو میں
نےچند بچوں کوتقریر کی تیاری اورکچھ کو کشمیرپرترانوں کی تیاری کروادی لیکن دل مطمئن نہیں ہورہا تھا،اس پرسوچا کہ بچوں کو کشمیر کے حوالے سے ڈاکومنٹری دکھائی جائے میں نے انٹر نیٹ پر تلاش کیا تو ایک مختصر اور جامع ڈاکومنٹری (دستاویزی فلم) مل ہی گئی جو کشمیر کی حقیقی تصویر پیش کر رہی تھی لہٰذا میڈم سے اجازت لی کہ ملٹی میڈیا روم میں یہ دستاویزی فلم بڑے بچوں کو دکھائی جائے گی,جب ڈاکومنٹری دکھائی تو پھر بچوں سےسوال وجواب بھی کیے۔بہت سے بچے کشمیر کی صورتحال سے واقف نہیں تھے۔ اسی دن بریک میں کچھ چھوٹے بچے میرے پاس آئے اور کہنے لگے ٹیچر پلیز ہمیں بھی کشمیر کے بارے میں بتائیں۔ میں نے کہا ان شا اللہ۔
میں کوشش کرتی ہوں میڈم کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہاآپ دکھادیں لیکن کوشش کریں۔وائلنس اورشہداکی تصاویرکےمناظر فوراًآگے بڑھا دیں کیونکہ بچے چھوٹے تھے کلاس ون ٹو اور تھری کے جب میں نے ان بچوں کو ڈاکومنٹری دکھائی تو میں نے ان میں بڑے بچوں سے زیادہ نظم وضبط خاموشی اور انہماک پایاجونہی برہان مظفر وانی کی تصویر آئی بچےبول اٹھے۔ وہ برہان وانی ہیں ۔ میں نے پوچھا آپ جانتے ہیں ؟ کہا یہ بہت اچھے بھائی ہیں ان کو انڈیا نے شہید کردیا۔
باہر جاتے وقت بچے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے میں برہان وانی بنوں گا۔ان کاجذبہ دیکھ کر آنکھیں بھر آئیں۔ اب تو وہ بچے کچھ بڑے ہوگئے ہوں گے۔ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ بزم ساتھی، اچھے ساتھی کے پروگرام میں گئے تھے تو وہاں ان کو کشمیر کے بارے میں پتا چلا ۔ انہوں نے سوچایہ باتیں سب کو معلوم ہونی چاہئیں۔ ٹیچر ہم برہان وانی بنیں گے۔ میں نے کہا ان شاءاللہ ایسے وانی جو کشمیر کو آزاد کروا سکیں ۔ آمین ۔




































