
زہرا یاسمین
کچھ دن قبل ایک اداکارہ کی اپنےگھرمیں موت لواحقین کواطلاع نہ ہونایہ خبرالیکٹرونک وپرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کی ہاٹ اسٹوری بنی ہوئی تھی، موت
برحق ہے . اپنے رب کے پاس جانا تو بہرحال ہم سب ہی کو ہے،کوئی آج کوئی کل کوئی کسی اور دن چلا جائے گا۔ مرنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرنا پیچھے رہنے والوں کا کام ہے۔
کوئی کیوں اور کیسے مرگیا، بیوی ہو یا شوہر؟والدین،اولاد کہاں ہیں کیسےہیں؟ کیا کررہے ہیں؟ رشتہ داربےمروت نکلے وغیرہ کس کےمرنے پران باتوں پر بحث کے بجائے اگرمرنے والا یا والی کے گھرانے کی ازروئےسنت خبر گیری کی جائے مثلاً گھرانے کا غم اورمسائل حل کرنے کی کوشش کی جائیں تو ازروئے شریعت یہ سب سے بہتر و مناسب طرز عمل ہے لیکن میں حیران ہوں کل لیاری کے علاقے بغدادی میں چھ منزلہ عمارت مکینوں سمیت ڈھے گئی۔
یہ واقعہ نہایت سنگین انتظامی غلطی کا شاخسانہ ہے،یہ واقعہ کیوں پیش آیا،پہلےسےاقدامات کیوں نہ کیےگئے؟اس سےکسی کوسروکارنہیں نہ ہی اس سے اس واقعے میں کتنے لوگ جان کے بازی ہار گئے ،کتنے زندہ اور زخمی ہیں ۔ملبے سے لوگوں کو نکالنا زخمیوں کا علاج معالجہ کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔۔۔ بس چند کھوکھلے بیانات اور قصہ ختم یہ وہی لوگ ہیں جو کچھ روز قبل ایک سابق بزرگ اداکارہ کی طبعی موت پر واویلا مچا رہے تھے۔ اب انہیں کیوں سانپ سونگھ گیا ہے،یقیناً مرحومہ اچھی اداکارہ اچھی مہربان و ہمدرد خداترس خاتون ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی اولاد کیسی ہے ،ہمیں اس سےکوئی سروکارنہیں ہونا چاہیےکیونکہ یہ مرحومہ اور ان کی اولاد کا ذاتی معاملہ ہے۔
لیکن بغدادی لیاری میں چھ منزلہ عمارت کےمنہدم ہونےپرمرنےاورزخمی ہونےسینکڑوں گمنام عام شہری تھے،اس لیےمیڈیا چینلزاورسوشل میڈیا ایکٹیویسٹ انکے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کررہے کیونکہ اس طرح انہیں مطلوبہ ریٹنگ نہ ملنے کا خطرہ ہے، حکومت کامعاملہ ہے چینل بھی تو چلانا ہے؟ یہ بے حسی کی انتہا نہیں تو اورکیا ہے؟ سوال یہ ہےکہ اس واقعے میں مرنے والا یا زخمی ہونے والا اپنے گھر بار سے محروم ہونے والا اگر عام غریب شہری ہے تو کیا وہ انسان نہیں؟ پھر انسانیت انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کی معروف نام نہاد این جی اوز خاموش ہیں لیکن وہاں صرف الخدمت جماعت اسلامی ریسکیو کے کام میں سب سے آگے موجود ہے




































