
زہرا یاسمین/کراچی
ادھر اُدھر کی باتیں لگانےوالی خواتین کو ماضی میں "بی جمالو" کہا جاتا تھا، پھر کچھ عرصے بعد انہیں "بی بی سی" اور اس کے بعد "سی این این" کا لقب مل گیا۔ یہ خواتین
بسوں کےدھکےکھاکردوردراز کےتمام رشتے داروں کی خبریں رکھتی تھیں،پھران خبروں میں نمک مرچ لگا کر ایک گھرسےدوسرے گھرپہنچاتی تھیں۔ان کی باتوں سےاکثر لڑائیاں، جھگڑے، تعلقات میں خرابی اور رشتوں میں دوریاں پیدا ہو جاتی تھیں۔
ان خواتین کو اس"خدمت"کےبدلےہرگھرکی خبر مفت میں ملتی، بلکہ بعض گھروں سےکھانے،چائے،ناشتہ اور بعض اوقات کچھ رقم بھی حاصل ہوجاتی۔ اس طرح ان کا خرچ بھی نکل آتا تھا۔
پھر زمانہ بدلا، ترقی ہوئی، ٹیلی ویژن پر نت نئے نیوز اورانٹرٹینمنٹ چینلزآگئے۔مزید ترقی کےساتھ کیمرا موبائل عام ہو گئےاور سستے موبائل پیکجز ہر فرد کی دسترس میں آگئے۔اب بی جمالو، بی بی سی اور سی این این طرز کی خواتین کی جگہ جدید ذرائع ابلاغ نے لے لی۔
یہ "خبری خواتین" صرف خواتین ہی نہیں ہوتیں بلکہ کچھ مردبھی اس کام میں پیش پیش تھےجو عرفِ عام میں نیوزویک،ہفتہ روفتہ یابابا جمالو کےنمائندےسمجھےجاتے تھےمگر اب ان سب کی جگہ ٹی وی چینلز اور موبائل ایپس نےلےلی ہےجو پہلےسے کہیں زیادہ طاقتور اور مؤثر ہو چکے ہیں۔
آج کےدورمیں فضول،بےبنیاداورجھوٹی خبریں پھیلانا، ایک ہی بات کی تکرار کرنا،غیر اہم باتوں کو بڑا مسئلہ بناکرپیش کرنا، نیوز چینلز کا معمول بن چکا ہے۔
دوسری جانب، انٹرٹینمنٹ چینلز کےسوپ سیریلزاورڈرامے بھی کسی زہر سےکم نہیں،ان ڈراموں میں اکثرمرد کوکمزوراورعورت کو بااختیار سازشی کردار میں دکھایا جاتا ہے۔ کبھی ماں یا ساس، کبھی بیوی، بہن، بیٹی یا بھابھی کے روپ میں عورت کو گھر میں سازشیں کرتےہوئے پیش کیا جاتا ہے۔
اس قسم کی ڈرامائی پیشکش سے:
رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں
بھروسہ اور اعتماد مجروح ہوتا ہے
گھروں کا ماحول میدانِ جنگ کی مانند ہو جاتا ہے
ہر گھر میں ایک متکبر، سازشی ماں یا ساس اورایک بدتمیز،منہ پھٹ، بےلگام لڑکی کوبہو،بیوی یابیٹی کےطورپر دکھایا جاتاہےحالانکہ حقیقی زندگی میں ایسے کردار شازو نادر ہی نظر آتے ہیں۔
یہ ڈرامےزیادہ تراپرکلاس یااپرمڈل کلاس کے گھرانوں کی نمائندگی کرتےہیں اوروہ بھی ایسی جوان طبقات کی حقیقی تصویر سے بہت دور ہوتی ہے۔
یہ سوپ سیریلز، ڈرامے اور نیوز چینلز اب ماضی کی بی جمالو، بی بی سی، سی این این خواتین اور ہفتہ رفتہ، بابا جمالو ٹائپ مردوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکے ہیں۔
اگرچہ پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) نے ان چینلز کےلیےبہت سےاصول وضوابط مقررکیےہیں،مگریہ چینلز ان کی متواتردھجیاں اُڑاتےنظر آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے کا مضبوط، محبتوں میں گندھا خاندانی نظام، خصوصاً مشترکہ خاندانی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
لہٰذا، یہ کہنا بجا ہوگا کہ:
آج کی "بی جمالو" اور "بابا جمالو" یہی چینلز اور موبائل ایپس بن چکے ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پیمرا ان اداروں کو وضع کردہ اصولوں کا پابند بنائے اور ان کی اصلاح کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ ہمارا معاشرہ مزید بگاڑ سے بچ سکے۔




































