
زہرا یاسمین/ کراچی
شرم و حیا انسان کا فطری وصف ہے، جب حضرت آدم و حوا سے لغزش پرلباس لےلیے گئےتو انہوں نے خود کو جنت کے پتوں سےڈھانکا اوراللہ سےگڑگڑا کر معافی مانگی۔
حیا مرد اورعورت دونوں کی زندگی میں اہم ہے جسم ہوستر دل اور بات( گفتگو الفاظ جملے) ہوں آنکھیں ہوں کان ہوں سب ہی میں حیادسری کا خیال رکھنےکی ضرورت ہے حیا جزو ایمان ہے۔ (حدیث)
عورت اور حیا
ستر پوشی مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے،عورت حجاب لیتی ہے اور چہرہ کسی حد ڈھانپتی ہے۔عورت کا مطلب ہی پوشیدہ رکھنے کی چیز ہے۔ اسی لیے اسلام میں عورت کو نگینے اور نازک آبگینے جیسی حساس اور نازک طبع اور قیمتی چیز سے تشبہہ دی گئی ہے تاکہ انہیں سنبھال کر احتیاط سے حفاظتی حصار میں رکھا جائے۔
ہم یہی دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر قیمتی اور نایاب شے کی حفاظت کی جاتی ہے اسےحفاظت کی خاطر لاکرز الماریوں شیشے کے کیسوں میں پہرہ داروں کی نگرانی پر رکھا جاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا حفاظتی حصار
اللہ تعالیٰ نے اپنی بےشمار نعمتوں کو حفاظتی حصارمیں محفوظ رکھا ہے۔
مثال
قیمتی موتی سیپ کےحصار میں محفوظ ہوتا ہے۔قیمتی دھاتیں سوناچاندی منوں مٹی کےنیچےسےنکالتےہیں، ہرپھل، سبزی اور اناج پرچھلکا ہوتاہے، خشک میوےاخروٹ،کاجو، پستہ،بادام وغیرہ سخت خول میں بند ہوتے ہیں، سمندر اور دریاؤں کو حدود میں رکھنے کے لیے پہاڑوں چٹانوں اور ٹیلوں کا جال بچھایا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی کاریگری ہے کہ اس نے اپنی نعمتوں کی قدر اور حفاظت کا سارا اہتمام کیا ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ
"پس اے جن اورانس ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے" ؟
کعبہ مسلمانوں کا قبلہ و مرکز مقدس مقام ہے اسے غلاف سے ڈھانپاگیاہے،قرآن مجید کو خوبصورت قیمتی ریشمی،مخملی بنارسی و کمخواب کےجزدانوں،شیشے یا لکڑی کے بکسوں میں رکھا جاتا ہے۔ عورت کا حفاظتی حصار اس کے محرم مرد اور اس کی چادر برقعہ و عبایا کوٹ اسکارف بڑا دوپٹہ ستر پوش لباس ہے۔ حیا اور حجاب عورت کے تقدس و تحفظ کی علامت ہیں، عورت کا وقار عورت کی عظمت کی نشانی ہیں۔
ذکر حیا اور حجاب کی ا ہو تو مروہ الشربینی ضرور یاد آتی ہیں۔
مروہ الشربینی بہادر مصری مسلمان خاتون جس نے جرمنی میں رہتے ہوئے اپنےغیرمسلم پڑوسی کےتضحیک آمیز رویےحجاب کی بےحرمتی کا سامنا کرنا پڑا ۔اس نے اپنے حجاب اور تحفظ کے لیے قانونی جنگ لڑی اور قانوناً یہ جنگ جیت بھی لی،مجرم کو جرمانہ اور قید کا حکم ہو اس نے بھری عدالت میں اس فیصلے کی دھجیاں اڑا تے ہوئے مروہ پر حملہ کرکے 4 ستمبر کو جرمنی میں بھری عدالت میں شہید کردیاجس پرانہیں شہیدۃ الحجاب* قرار دیا گیا۔
*عورت ہے تو تری تو یہ پہچاں حجاب ہے
مشکل سمجھ لیا کیوں یہ آساں حجاب ہے*
(ڈاکٹر محمد اظہر خالد)




































