
زہرایاسمین / کراچی
رسول کریم ﷺ ،حضور سرور کونین،خاتم الانبیاء ،رحمت للعالمین کی پیدائش کا مہینہ ہے ،سیرت کی کتب زیر مطالعہ ہیں، اچانک ذہن کے کسی گوشے میں
علامہ اقبال کی نظم جواب شکوہ یہ اشعار گونجے
*کون ہے تارکِ آئینِ رسُولِ مختار ﷺ ؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہوگئی کس کی نِگہ طرزِ سلَف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں، رُوح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغامِ محمّدﷺ کا تمھیں پاس نہیں
نظم کا یہ حصہ پڑھ کر میں گہری سوچ میں ڈوب گئی یا الٰہی یہ جو کچھ علامہ اقبال نے آج سے ایک سو بارہ سال پہلے یعنی 1913 میں، ایک صدی سے زائد عرصہ قبل یہ نظم لکھی تھی، آج طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مسلمانوں کا من حیث القوم مجموعی طور پرکچھ یہی حال ہے۔
اس کی وجہ آج بھی وہی ہےجوعلامہ اقبال نےاس وقت بیان کی تھی کہ مسلمان قرآن وسنت کواپنا آئین بنانےکےبجائےاسےترک کرچکےہیں۔ مصلحت پسندی کی آڑ میں ملک و قوم کی سالمیت و ترقی کے خلاف ملک و قوم کو نقصان پہنچانےکےمعاہدے اور سودے کیے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو ایک بڑی تعداد کو آج بھی شعائر اسلامی سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ ابھی تک اسی بدمستی اور نا عاقبت اندیشی میں مبتلا ہیں جو مغرب (یورپ و امریکہ) اور ہندوستان کے شعائر سےمتاثر ہوکر اان ہی کو اپنائے بیٹھے ہیں۔ اسی نظم میں علامہ اقبال نےکہا تھا
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود!
یہ مسلماں ہیں، جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود؟
آج بھی یہی حال ہے،فلسطین میں یہود کی چیرہ دستیاں، ظلم و بربریت پرمسلم حکمرانوں کی زبانوں پرتالےپڑے ہیں، خوشی کےموقع پر دیوالی کی طرح آتش بازی کے مظاہرے، چراغاں پٹاخے بم وغیرہ پھوڑنا، شادی بیاہ پرمہندی مایوں ( برائیڈل شاور)، پھر ستواسہ ( بے بی شاور) بچے کا عقیقہ جو سنت ہے ،وہ بھی نمود و نمائش کی نظر ہوجاتا ہے۔ اپنی اور گھروالوں کی (پیدائش کی، شادی کی، موت پر برسی منانا) یہ عیسائیت اور ہندو مت کے رواج ہرگز ہماری اقدار نہیں ۔ ہماری اقدار و روایات کیا ہیں؟ بہت آسان اورسادہ ہیں ،قرآن وحدیث اورسیرت النبی ﷺ میں واضح ہیں ۔
تہوار عیدین ، نمازجمعہ و خطبہ، نکاح، ولیمہ اور عقیقہ، بیمار کی عیادت،پنج وقتہ نماز،رمضان کےروزے،زکوٰۃ،صدقہ وخیرات،انتقال پرتجہیزوتکفین کے انتظامات اور نماز جنازہ کا اہتمام تین دن تک مرحوم / مرحومہ کے گھر کی خبر گیری ان کے طعام اور گھر کے کاموں کے لیے سہولت فراہم کرنا۔ ہم نے اس آسان دین پر عمل چھوڑ کر اغیار کے شعائر کو اپنا کر خود مشکل میں ڈالا ہوا ہےکیونکہ ہم اب بھی غفلت اور خود فریبی و خود غرضی کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں۔
مسلمانوں کو احساس ہی نہیں کیونکہ دلوں میں بےحسی چھائی ہوئی ہے جس نےاحساس، لحاظ ومروت بےلوث محبت ہمدردی وغم گساری کے اوصاف پر پردہ ڈال رکھا ہے، ضمیر مردہ ہے،روح و قلب پر دنیا پرستی کی ہوس چھائی ہوئی ہے۔ماہ ربیع الاول ہے جگہ محفل میلاد،سیرت النبی ﷺ کانفرنسیں ، نعت کی محفلیں مقابلے، نعتیہ مشاعرے اور دیگر پروگرامات منعقد ہورہے ہیں لیکن بہت سےروح سے خالی ہیں۔ پیغام محمد ﷺ کا اگر پاس رکھنا ہے جو خود نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنانا سیرت النبی ﷺ کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔
میری دعا ہےاللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو غفلت سےبیدارکردے،احساس کی دولت سے مالامال کردے،آمین۔
علامہ اقبال کی طرح میرابھی یہی مانناہے کہ
*دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے





































