
صبا احمد
الیکشن 2024 پھردھاندلی اورکرپشن کاشکاررہا۔ ووٹ کا استعمال ہرشہری کا بنیادی حق ہے،ملک و قوم کی امانت اورگواہی ہے
مگر صبح 8 بجے لوگ پولنگ اسٹیشن پرموجود تھے، پولنگ ایجنٹ بھی مگر کچھ پولنگ اسٹیشن پر گورنمنٹ کاعملہ موجود نہیں تھا ، دس بجےکےبعد اورکچھ 12 بجے کے بعد میڈیاوالوں کوبلایا گیا۔ انہوں نے چیینلزپرواویلا کیا تورازفاش ہوا۔ پریزائیڈنگ آفیسرز آئے۔نارتھ ناظم آباد میں ٹی ٹی سی پولی ٹیکنیکل کالج اورایم ایس بی سلطان اسکول میں یہی صورت حال تھی۔
جواتین کےپولنگ اسٹیشن پرعملہ تھانا سامان ۔ ایک آفیسر نےخود پولنگ شروع کی۔ووٹ کی کتاب پرخود سائن کیے۔ لوگ سامان کرسیاں خودلائے۔سرکاری عملےکا رویہ تشویش ناک تھا۔
پہلی مرتبہ مرد وخواتین اورنوجوانوں نےانتخابات میں بھرپورحصہ لیا۔کیونکہ ملکی حالت کےپیش نظرعوام اپنا ووٹ ضائع نہیں کرناچاہتے تھے...
جن پولنگ اسٹیشن پرپولنگ تاخیرسےشروع ہوئی ،وہاں بہت رش رہا۔لوگو ں نے فالتو وقت لیا ۔ ہم بھی 4 گھنٹے لائن میں رہے۔ ضعیف بیمار اور ویل چیئر کے افراد کو طویل لائن میں گھنٹوں کھڑے دیکھ کرہم بھی موٹیویٹ ہوئے کہ جب وہ سینئر شہری ہوکراتنی دیرانتظارکرسکتے ہیں تو ہم کیوں ہمت ہاریں ،حالات بدلنے کیلئے قربانی دینا ہوگی ۔
.ملک میں مہنگائی ہرمحکمے کی کرپشن اورانٹرکےغلط رزلٹ نےعوام کو الرٹ کردیا ہے،اب تعلیمی مستقبل کو بھی خطرہ ہے۔ دوسیاسی حکومتی پارٹیوں نے بادشاہی نظام بنا رکھا ہےاورعوام ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مگر الیکشن کا رزلٹ مایوس کن ہیں۔
اس انتخابات میں وہی وراثتی پارٹیاں جیتی ہیں اوربلا آزاد امیدواران کابے کار.... میدان عوام پھرسے پریشان ہیں،مہنگائی کا بازارگرم ہونے والا ہے اورایم کیوایم کی سیٹوں کی جیت پرکراچی میں دہشت گردی اور بھتہ خوری بڑھنے کا خطرہ منڈلارہا ہے۔
جماعت اسلامی نے لوگوں کوخبردار کیا تھا،ووٹ کا سوچ سمجھ کر استعمال کر یں... مگر دھاندلی تو ہوئی اور پیپلز پارٹی تیسرے نمبرپر ہے،صرف کراچی میں کامیاب ہوئی ہے۔اس کی حکومت میں کراچی شہر کی ترقی بھول جائیں مگرہم اللہ تعالی سے پرامید ہیں وہ بہتر کارساز ہے،وہ اچھا کرے گا یا پھر جیسے عوام ویسےحکمران ۔۔۔ اب عوام کا ہوگا پھرامتحان۔ صبر کا برداشت کا سچائی اور عدل انصاف کا۔




















