
بنتِ نثار احمد
"دروازے پردستک ہوئی نائلہ نے ناول پڑھتے پڑھتےاندر آنے کی اجازت دی ۔دراصل یہ نائلہ کی چھوٹی بیٹی مدیحہ تھی جواپنی اسائمنٹ کی وجہ سے
پریشان تھی۔مدیحہ نائلہ سے مدد لینا چاہتی تھی۔کیونکہ اسے مطالعہ پاکستان کی ٹیچر نے بہترین جماعت منتحب کرنے کا کام دیا تھا۔نائلہ نے مدیحہ کا اداس چہرہ دیکھا اور ناول بند کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے مدیحہ سے اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی مدیحہ نے ساری بات ماں کو بتائی اور کہا ماما جان ہمارے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے اس ملک کو آزاد کروایا تھاتاکہ ہم ایک آزاد زندگی گزارسکیں لیکن ہمارے ملک میں بڑی سیاسی جماعتوں کی ناکامی کی وجہ سے ہمارے ملک میں پیدا ہونے والا بچہ بھی مقروض ہے۔کوئی بھی جماعت نظریہ پاکستان کے مطابق پاکستان کے قوانین لاگو نہیں کر رہی۔
پاکستان کی بنیاد کلمہءطیبہ پر رکھی گئی تھی۔ جو بھی حکومت میں آتا ہے کرپشن کرتا اور ملک کو معاشی بحران میں دھکیل جاتا ہے۔ہمارے ملک میں سیاسی مقابلہ بازی کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل پاکستان میں عام ہو رہے ہیں- امی پلیز آپ ہی مجھے بتائیں کیا کوئی جماعت اس ملک میں کرپٹ فری ہے؟۔۔۔۔۔۔۔اس پر نائلہ نےاپنی بیٹی کی طرف پیار بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اسے پاس بیٹھایا اور کہا: میری پیاری بیٹی " جماعتِ اسلامی " ملک کی سب سے پرانی اور بڑی نظریاتی جماعت ہے۔جس کا آغاز قیامِ پاکستان سے قبل شعبان ۱۳۶۰ھ26اگٔست1941 کو لاہور میں اسلامی مفکر " مولانامودودی رحمتہ اللہ علیہ" نے کیا تھا۔اس جماعت کا نظریہ اسلام پسندی،سماجی خدمت،اتحادِعالم اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نظام قائم کرنا ہے۔ جماعت اسلامی قرآن وسنت کی دعوت دیتی ہےاور ساری دنیا کے مسلمانوں کے اتحاد کی داعی ہے۔
جماعتِ اسلامی قومی آفات میں ہمیشہ قوم کی ہمدرد رہی ہے۔جس میں ایمبولینسیز،بلڈ ڈونیشین، قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کو نئے گھروں کی فراہمی،کپڑےاور خوراک وغیرہ فراہم کرتی ہے۔ایک مسلم حکمران کا معیار یہ ہونا چاہئے کہ وہ عوام کو برابر کے حقوق فراہم کرے ۔جماعتِ اسلامی دوسری ناکام پارٹیوں کی طرح جھوٹے دعوے نہیں کرتی بلکہ کارنامے سرانجام دیتی ہے۔ مدیحہ بولی اس دفعہ آپ اور ابو جماعتِ اسلامی کی اس بہترین کارکردگی کی وجہ سے اس سبز ہلالی پرچم کو ووٹ دیں گے۔نائلہ بولی ہاں بیٹا پاکستان کےمسائل کا حل صرف جماعتِ اسلامی ہے۔ووٹ عوام کے پاس ایک امانت ہے جس سے ملک کے لئے بہترین حکمران چُننا ہوتا ہے۔جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق میں ایک مسلم حکمران والی خوبیاں موجود ہیں۔
میں اس دفعہ اپنا ووٹ ضائع نہیں کروں گی اور ترازو پر مہر لگا کر پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کرنے میں جماعت اسلامی کی مدد کروں گی ۔اس پر مدیحہ بھی خوشی سے کلمہء طیبہ پڑھتی ہوئی ماں کے گلے لگی اور صحیح جماعت کا انتخاب کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
نوٹ: ایڈیٹرکا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو)




































