
ثمینہ کوکب
آج کافی دنوں کے بعد دھوپ نکلی تھی۔فضا دھلی دھلی اور خوشگوارتھی۔ لگتا تھا ہر طرف ماحول پر سکون ہے۔ عثمان یونیورسٹی جانے کی تیاری کرتے
ہوئے کچھ گنگنا رہا تھا جو اس کے اطمینان کا مظہر تھا۔
"عثمان! جلدی آؤ ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔" امی نے پکارا۔
"جی آیا امی جان" وہ کہہ کر ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ جہاں معمول کےمطابق سب ناشتے کے لئے بیٹھے تھےاور اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ ناشتے کے دوران ٹی وی لاؤنج سے خبروں پر تبصرے کی آوازیں آ رہی تھیں جہاں غزہ کی صورتحال پر مبصرین تبصرہ کر رہے تھے۔۔۔۔۔ روزانہ کی طرح بس صرف تبصرہ۔۔۔زیر لب عثمان بڑبڑایا۔
ابا جان دفتر،حنا کالج اور عثمان اپنی یونیورسٹی روانہ ہو گئے۔ عثمان پولیٹیکل سائنس میں بی ایس آنرز کر رہا تھا۔ کلاس میں اکثر اوقات پاکستانی سیاست پر بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ عثمان پاکستانی سیاست، ہسٹری اور انٹرنیشنل سیاست پر تقابلی جائزہ ہو ،اس پر کافی معلومات رکھتا تھا ۔اور اسی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں کافی مقبول تھا۔اپنےمذہبی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے اکثر اوقات لغو باتوں سے بھی گریز کرتا تھا۔
کم گو نہیں تھا۔ مگر خواہ مخواہ کی بحث میں بھی نہیں پڑتا تھا۔ اس کےاساتذہ کو اس کی یہی خوبی بہت پسند تھی۔
پہلا پیریڈ خالی تھا۔ طلباء و طالبات ڈیپارٹمنٹ کے گراؤنڈ میں دھوپ سیکنے کےٓلئے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھڑے گپ شپ لگا رہے تھے۔۔ حالات حاضرہ پر تبصرے چل رہے تھےکہ چند سٹوڈنٹس فلسطین فنڈ لینےآگئے۔ توفیق کے مطابق فنڈ تو دے دیا۔ کچھ اس پر بگڑے کہ فنڈ لینا پھر کوئی مذاق ہو گا۔ کون وہاں جائے گا اور ان مظلوموں کو یہ فنڈ دے گا۔عثمان بھی اس سلسلے میں فکرمند تھا۔ فنڈ نے تبصرے کا رخ فلسطین کی جنگ اور اسرائیل کی طرف کر دیا۔ کچھ اس پر بہت جذباتی ہوگئے تھے۔ اور کچھ طلباء نے صرف سننے پر اکتفا کیا۔ اسی گرما گرمی میں اگلی کلاس کا وقت ہو گیا۔
عثمان بھی دل میں بدگمانی لئے کہ کہیں پیسے ضائع نہ ہو جائیں کلاس لینے کلاس روم کی طرف چل دیا۔ جہاں صبغتہ اللہ صاحب کلاس لینے والے تھے۔ وہ ایک ایسے پروفیسر تھے جن کو اللہ تعالٰی نے بے پناہ ذہانت، حافظہ اور دینی اور دنیاوی علم سےمالا مال کیا تھا۔ وہ اپنا مضمون پڑھانے کے ساتھ ساتھ شاگردوں کی نفسیات سے بھی خوب واقف تھے۔
سوشلزم، کمیونزم، خلافت، بادشاہت، ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت ہرقسم کی سیاست پر بلا تکان بول سکتے تھے۔
اپنے شاگردوں کی طرف سے کئے گئے سوالات پر انہیں مطمئن کرنے کا فن آتا تھا۔ عثمان کے چہرے پر بےزاری کو صبغتہ اللہ صاحب نے محسوس کیا تھا۔انھوں نے پوچھ ہی لیا بیٹا کیا بات ہے۔؟ عثمان نے تھوڑی سی مزاحمت کے بعد اپنے دل میں آئی بات کہہ ہی دی کہ سر نہ تو مجھے اسرائیل کا غزہ پٹی پر حملے کی سمجھ آئی اور نہ ہی فنڈ وہاں تک پہنچانے کی سمجھ آئی اور نہ ہی وطن عزیز کی سیاست اور حکمرانوں کے رویوں کی سمجھ آئی ہے۔ وہ کہنے لگا بات تو معمولی ہے کہ فنڈ جمع کرواؤ۔ کروا بھی دیا ہے ۔ مگر پھر بھی بےاطمینانی ہے ۔
ایک شاگرد نے جرات کر کہ پوچھا سر! یہ بھی کوئی کھانے پینے کا پروگرام ہے یا سچ مچ ہم ان لوگوں کی مدد کر پائیں گے۔جبکہ ہمارے ملک کا مالیاتی بحران دیوالیہ پن کی نہج پہنچ چکا ہے۔ریاستی اور سیاسی بحران بھی موجود ہے۔مجھے تو اپنے ملک کے حالات اچھے نظر نہیں آتے کجا ہم غزہ والوں کی مدد کریں۔الیکشن بھی سر پر ہیں۔۔۔۔ وہی بےہنگم نعرے،وعدے اور ووٹ دو۔ عوام ایک بار پھر بے وقوف بن جائیں گے۔
سر میرا بھی آپ سے اسی طرح کا سوال ہے کہ ہمارے ملک کےسیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کا کیا حل ہے؟ صبغتہ اللہ صاحب نے بڑے تحمل سے شاگردوں کی بے چینی کو سنا۔ اور باقی شاگردوں سے ان کے حساب سے ان مسائل کا حل پوچھا۔
تو جواب میں کسی نے تمام حکمرانوں کو ہٹا کر نئےلوگوں کو لانے کا مشورہ دیا اور کسی نے انٹرنیشنل لیول کے لوگوں سے نئی تجاویز لینے اور ان پر عمل درآمد کرنے کا کہتے ہیں ۔
کسی نے کہا کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کچھ نہیں ہو گا۔سب کچھ ایسے ہی چلےگا۔ یہاں پر لوگ قوم،زبان، مذہب اور فرقہ پرستی جیسے تعصبات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔کہاں کہاں سے درستگی کی جائے گی۔
صبغتہ اللہ صاحب نے سب کے جوابات سنے۔ کلاس میں اچھی خاصی بحث چل پڑی تھی۔ہر شاگرد اپنا بہترین جواب دینا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ کلاس کا وقت ختم ہو گیا۔ پروفیسر صاحب نے آئندہ کی کلاس میں بقیہ مسائل کو ڈسکس کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔اور عثمان سے کہا اگر کوئی اور کلاس نہ ہو تو تم میرے آفس آ جانا۔
عثمان کی کوئی اور کلاس شیڈول نہیں تھی۔لہذا وہ اٹھ کر آفس کی طرف چل دیا۔
یونیورسٹی گراؤنڈ میں لوگ الیکشن پر باتیں کر رہے تھے۔کوئی تحریک انصاف کےنشان بلے کو ختم کرنے پر اعتراض کر رہا تھا تو کسی کو شریف گھرانے اور کسی کو پی پی پی پر اعتراض۔
کچھ طلباء و طالبات کیفے میں چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دن اچھا گزر رہا تھا۔
سر میں آجاؤں! عثمان پڑے پردے سے اندر جھانک کر کہا۔ صبغتہ اللہ صاحب نے اسے اندر آنے کی اجازت دی اورکرسی پر بیٹھنےکا اشارہ کیا۔ وہ فائل پر کچھ لکھ رہے تھے۔چند منٹ خاموشی سے گزر گئے۔پروفیسر صاحب نے آخری جملہ لکھ کر فائل کو بند کر دیا۔ اور پوری طرح عثمان کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ کہنے لگے عثمان! تمہارے ایک سوال میں کئی سوالات تھے۔ ایک کلاس ان کا احاطہ نہیں کر سکتی تھی۔اس لئے میں نے آپ کو یہاں بلایا کہ تفصیل سے بات کر لیں گے۔
غزہ پٹی پر اسرائیل کا حملہ، فلسطین فنڈ اور وطن عزیز کی بے ہنگم سیاست یہی دو سوالوں تھے ناں آپ کے۔ صبغتہ اللہ صاحب نے عثمان کے سوال دہرائے۔ یس سر بات تو یہی کی تھی مگر میرے ذہن میں اور بھی سوال ہیں۔
اسرائیل کا غزہ پٹی پر حملے کے بارے میں بعد میں بات کریں گے ۔ابھی سر دست وطن عزیز کی سیاست کو درست لائنوں پر لانے کی بات کرتے ہیں۔
وہ بہت محبت سے اسے سمجھانے لگے کہ اس وقت جیسے تم پریشان ہو ملک کا ہر باشعور بندہ اسی طرح الجھا ہوا ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ جب ہم اپنے اصل کو چھوڑ دیتے ہیں تو پھر بھٹکنا تو بنتا ہے۔
اصل سے مراد؟ عثمان نے استفہامیہ انداز میں دیکھا
جی ہاں! اصل سے مراد ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری اساس قرآن و سنت ہے۔ جب من حیث القوم ہم اسے بھلا دیں گے تو پھرطاغوتی طاقتیں اسی طرح ہمارے ساتھ مذاق کریں گی۔
ہمارا مقصد حیات دنیا میں کلمتہ اعلی کو قائم کرنا ہے قرآن وسنت کی روشنی میں ریاست اور ریاستی امورسنبھالنے ہیں۔ کیا ماضی میں خلفائے راشدین نے عمل کر کہ نہیں دکھایا؟ کسی شک و شبہ کی گنجائش ہے؟ ہر گز نہیں۔ ہر گز نہیں۔ یہ مسلمانوں ہی کے کرنے کا کام ہے۔
بیٹا پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ بس دین ہی غلبے کے لئے ہے۔ مسلمانوں نے اپنے آباؤ اجداد کی میراث چھوڑ دی ہے۔ تو مغلوب ہو گئے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ دیانت دار دانشوروں کو سیاست میں لائیں۔ جو تقویٰ کے معانی جانتے ہیں۔ جو ریاست اور ریاستی امور کو اسلامی طرز زندگی کے مطابق چلا سکیں۔
سرملا ازم کی بات نہیں کر رہے تھے۔ حق پر قائم رہنے کی بات کر رہے تھے۔
سر کی گفتگو سے عثمان کچھ مطمئن نظر آرہا تھا۔
گھر میں چہل پہل تھی۔ ڈنر پر چچا جان اور ان کی فیملی مدعو تھی۔ رنگ برنگے کھانوں کی خوشبو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ حنا امی کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔ میٹھا اور سلاد اس نے تیارکیا جبکہ مین ڈشز امی جان نے ہی تیار کی تھیں۔
ابا جان چچا جان سے پوچھ رہے تھے کہ ووٹ اس بار کس کو دینا ہے؟۔ چھوٹا بھائی ہونے کی حیثیت سے بولے جی بھائی جان آپ کا کیا خیال ہے۔؟
آزما تو چکے ہیں سب کو کچھ کنفیوژن ہی ہے۔ فیصلہ تو کرنا ہے کیونکہ ووٹ شہادت ہے امانت ہے اور وکالت ہے۔
عثمان کو کچھ دلچسپی محسوس ہوئی۔وہ بھی وہیں ان بیٹھا اور کہنے لگا سوال تو یہ ہے کہ کیسا امیدوار ہو جس کو ووٹ دیا جائے۔
ابا جان نے کہا ہماری اسلامی اقدار کے مطابق انتخابی امیدوار میں یہ خوبیاں تو ہوں کہ خدا خوفی ہو،امانت دار ہو، اہل علم ہو، ریاستی اور سیاسی امور کو بین الاقوامی سطح پر چلانے کا ہنر رکتھا ہو۔
جی بھائی جان چچا جان نے جواب دیا۔
عثمان کو یاد آیا کہ اس کے پروفیسر صاحب نے بھی ایسے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ابا جان میرے خیال میں تو اس دفعہ جماعت اسلامی ہی کو ووٹ دینا چاہیے کیونکہ یہ وطن عزیز کی واحد پارٹی ہے جس میں الیکشن ہوتے ہیں اور جماعت کا امیرچنا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان کی نظریاتی اساس ہو، مسلہ فلسطین ہو یا آزادی کشمیر کی بات ہو صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی ان اہم امور پر آواز اٹھاتی ہے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کے مسئلے کے لیے بھی تواور کوئی نہیں صرف جماعت اسلامی کےسینٹر مشتاق احمد ہی سرگرم ہیں ۔
تو بس پھر اس مرتبہ ووٹ صرف جماعت اسلامی کا۔
کیونکہ ہمیں صرف چہرے نہیں نظام بدلنا ہے ان شاءاللہ




































