
حمادیہ صفدر
آفتاب غروب ہونے کوتھا ۔کاشان گھرجارہاتھا، اس نے درخت سے لٹکی رسی کو تلوار سےکاٹا تودھڑام سے کسی کے گرنے کی آواز آئی۔ کاشان نے گرنے
والے آدمی کو ایک ٹیلے پربٹھایا۔
کون ہو آپ ؟اس آدمی نے حیرانی اور غصہ کے ملےجلے مزاج میں پوچھا ۔میں کاشان ہوں ؟ اس نے اعتماد ے جواب دیا۔
تم نے میری رسی کیوں کاٹی ؟آدمی نے تلخ ہو کر سوال کیا۔
میں جان گیا تھا آپ خودکشی کرنے لگے ہیں پس اللہ نےفرشتہ بنا کرمجھے آپ پر وارد کیا اورمیں آپ کی جان بچانے میں کامیاب ہوسکا۔
شوق سےکوئی اپنی جان کا دشمن نہیں بنتا۔مفلسی کے سبب قرضوں کے بوجھ تلے دب جانے کے باعث ایسا کرنے پرمجبورہوا ہوں ۔آدمی نے دکھ بھرے اندازسے کہا۔۔ مجھے آپ جیسے لوگوں کی تلاش ہے۔ کاشان اس آدمی کو گھرلےآیا۔۔
مہمان خانے میں کاشان کے والد ،بھائی ، حلقۂ احباب اور یہ خودکش حملے سے بچنےوالا شخص رونق افروزتھے ۔
ملک کے حالات انتہائی خراب کیوں ہیں؟ حرام خوری،بدکرداری ،والدین کی نافرمانی ،دین سے دوری ، قطع رحمی ،کثرت قتل جیسے سنگین جرائم کیوں عام اور آسان ہوگئے؟ کاشان نےحاضرین سے ایک دم کئ سوال کر ڈالے۔
مجلس میں بیٹھا ہر فرد غور و خوض کے سمندر میں غرق تھا اور سب سوچ رہے تھے واقعی فسادات تو عام ہیں مگر کیوں ؟۔ بیٹےآپ ہی ہمیں ان سب کی وجہ بتادو ۔ کسی نے درخواست کی ۔
جی انکل دیکھیے۔۔۔
ایک بہترین قاری ہے اور ایک ایسا آدمی ہے جس کو دنیوی علوم پردسترس ہے لوگ کس کوامام چنیں گے؟
بہترین قاری کو بیک زبان جواب آیا ۔۔
کیوں ؟ کاشان نے سلوٹیں ماتھے پر سجاتے ہوئےپوچھا۔۔کیونکہ مصلیٰءِرسول پربیٹھنےکاحق دارامین اور بہترین قاری ہی ہے۔ لوگوں نےکہا
کاشان بولا۔۔۔۔ جس طرح منبر رسول اور مصلئ رسول پر ایک زانی ، چور، ڈاکو ،ٓنہیں ہونا چاہیے اسی طرح خلافتِ رسول کے مناصب پر بھی ایسے ہی انسان کا انتخاب کرنا چاہیئے ۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے کس لیے اس وطن کو حاصل کیا تھا ۔ کن الفاظ پر اس کی بنیادیں رکھیں ۔ کیا لآالہ الااللہ کے تقاضے وہ انسان پورے کرسکتاہےجسے کلمہ کے معنی ہی معلوم نہیں ؟
مجلس میں بیٹھے ہر فرد کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا ۔
مزید بولا ۔ ہرفردسوچے کہ وطن کے حالات بدلنے کے لیے میرے پاس سب سےبڑا ہتھیار میرا انتخاب ہے ۔میں اپنے انتخاب سے ایسے امیر المومنین کو چنوں گا جو
میرے ملک کے مسائل کو حل کرے ۔اس میں اسلام کانفاذ کرے گا ۔
ہم تمام پارٹیوں کو آزما چکےہرایک نےقائد کی امانت اس وطن کے تقدس کوپامال کیا ۔سب پارٹیاں اپنی سی کوششیں کر چکیں مگر ناکام رہیں۔ اب تو اھلِ ترازو کو موقع دینا چاہیے کیونکہ "ترازو والے ہی مل کر بدل سکتے ہیں پاکستان" ۔ترازو والے آئیں گے اس طرح ملک کا نظام بدلے گا کہ نفاذِ اسلام بھی ہوگا اور مسائل بھی حل ہوجائیں گے ۔ اب خودکشی سے بچنے والے شخص سمیت ہر حاضرِ مجلس کو سمجھ آگیاکہ حالات کی خرابی کی اصل وجہ کیاہے؛ اور حالات کو بہترین کرنے کے لیے اپنے انتخاب کوبہتر کرنا ہوگا اور ووٹ فقط نشانِ انگشت نہیں ہے بلکہ ملت اسلامیہ کے کُلی انتظامات کاانحصار ووٹ پر ہوتاہے ۔ سب نے شکریہ کے الفاظ کے ساتھ مجلس کااختتام کیا ۔




































