
شئیما بلال
پانچ فروری کا دن ہم سب کشمیرکے نام پرمناتے ہیں لیکن کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔
اک آہ اٹھتی ہے اور قہقہوں میں دفن ہو جاتی ہے۔ میرا آج کا موضوع اس آہ کے نام ہے۔ کچھ آنسو ٹپکتے ہیں اورزمین بوس ہوجاتے ہیں۔ میری آج کی تحریر ان آنسوں کے نام ہے۔ آئیں کچھ عرصہ پیچھے چلتے ہیں۔۔۔۔۔
یہ بات ہے مارچ اٹھارہ سو چھیالیس کی جس دن ظلم کی اس داستان نےجنم لیا۔ برطانیہ نے راجا گلاب سنگھ کو یہ زمین فروخت کردی ،کشمیراس وقت تین حصوں پر مشتمل تھا پاکستان میں گلگت اورآزاد کشمیرکا تیس فیصد حصہ ، چین میں اکسائی چن کا پندرہ فیصد حصہ تھا جبکہ اس وقت بھارت کے پاس جموں کشمیر اور لداخ کا پچپن فیصد حصہ تھا۔
مذہب کے لحاظ سےکشمیر میں اسی فیصد آبادی مسلمان تھی جبکہ بیس فیصد اقلیت۔ انگریزوں کے دورسے کشمیر ایک الگ ریاست تھی۔ اس لیے انیس سو سینتالیس میں پاکستان کے قیام کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام نےبھی جشن کی تیاریاں شروع کردیں لیکن برطانوی سامراج کےنام نہاد حکمرانوں اور ہندوؤں کی سازشیں رنگ لے آئیں اور کشمیرکی آزادی کےسورج کو گرہن لگ گیا۔ کشمیر نے پاکستان کا حصے بننے کا مطالبہ کیاجس کے نتیجے میں اس دور کے حکمران راجہ ہری سنگھ نے کشمیر کو بھارت کے حوالے کر دیا اور بھارتی فوج کو آنے دیا اور پھر جنگ شروع ہو گئی۔۔ پھر دونوں ممالک کے مابین کشمیرحاصل کرنے کے لیے جنگ ابھی تک جاری تھی کہ یکم جنوری ۱۹۴۹ کو سلامتی کونسل نے سیزفائر کا اعلان کیا جس سے جنگ بندی ہو گئی۔ اس وقت پاکستان نے تیس فیصد حصے کو اپنے قابو میں کرلیا تھا۔ وادی کشمیر کےلوگ ظلم و جبر کی آگ میں تڑپتے نظرآنےلگے۔ ان پہ قیامت برپا کر دی گئی۔ روح لرز اٹھتی ہے میری ، جب میں سنتی ہوں آج بھی ان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔
کئی بیٹیاں باپ کا انتظارکرتے کرتے شام کردیتی ہیں۔کئی مائیں اپنے بیٹوں کا انتظار کرتے کرتے اس دار فانی سے کوچ کرجاتی ہیں ۔کئی باپ اپنے کمزور کندھوں پر جوان بیٹوں کے لاش اٹھائے کھڑے ہیں ۔ سرزمین کشمیر کو آج تک کوئی آزاد نہیں کراسکا۔میں سوچتی ہوں اقوام متحدہ کوان معصوم بچوں کی آوازیں نہیں آتی ہوں گی۔ فلسطین میں نسل کشی کی جا رہی ہے،اس وقت بھی دنیا مسلسل خاموشی ہے۔اسلامی ممالک نے بھی عالمی طاقتوں کا ساتھ ہی دیا ہےاور حق کی بجائے ظلم کا ساتھ دے رہے ہیں۔
ہاتھ میں پتھر لیے شہزادیاں کشمیر کی
ڈھونڈنے نکلی ہیں آزادیاں کشمیر کی
کب تک سہے گی یہ بربادیاں کشمیر کی
یا الہی وادیاں کشمیر کی یا الہٰی وادیاں کشمیر کی
اتنے مظالم کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلےبلند نظر آتے ہیں۔ آج کے دور میں کہا جاتاہے کہ انسان بہت ترقی کر گیا ہے۔جب میں دیکھتی ہوں کشمیر سے فلسطین تک انسانیت پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں تو مجھے اس بات پر یقین آجاتا ہے۔ آج ہماری کشمیری بہنیں کسی محمد بن قاسم کی منتظر ہیں۔ یہ ظلم و ستم مٹا دو واسطہ دواپنے بھائیوں کو پھر عصمتیں لٹ رہی ہیں لیکن میرے بھائیوں کو خواب خرگوش عزیز ہے،امت کے تصور سے نا آشنا انہیں کون سنائے جہاد کا ترانہ۔۔
بیچ کر تلواریں مصلے خریدلئے تم نے
بيٹیاں لٹتی رہیں اور تم دعا کرتے رہے
رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو سویرا ضرور ہوتا ہے۔ میری زمین میں بھی زندہ ہے جذبہ شہادت اور شوق شہادت کے لیے عزم و یقین کے ایسے پیکر جو نماز نہیں چھوڑتے۔
ہوگا سب کا مان
کشمیر بنے گا پاکستان




































