
بنتِ نثار احمد
قرآنِ پاک میں الله تعالیٰ نے بار بار نماز کا حکم دیا ہے۔۔۔۔جب اذان ہوتی ہےتو شیطان ہمیں دنیاوی کاموں کی فکر میں مبتلا کر کےالله کا حکم اور آخرت کا
عذاب بھلا دیتا ہے حالانکہ وہ عذاب سخت ترین عذاب ہو گا۔جب گرمی کا موسم آتا ہے مؤذن ہمیں نماز کیلئے پکارتا ہے اور ہمارا ردِ عمل یہ ہوتا ہے ابھی گرمی بہت ہے موسم تھوڑا ٹھنڈا ہو جائے پھر نماز پڑھوں گی! اے غافل انساں کیا تو قبر کی گرمی اور دوزخ کی گرمی بھول گیا ہے وہ اس دنیاوی گرمی سے کئی گنا سخت ہو گی۔ ۔۔۔۔پھر جب سردی آئےاور مؤذن اذان دے ،نماز کیلئے پکارے اور ہم کہیں بھئ ٹھنڈ بہت ہے میں باوضو کیسے ہوں ؟ میں نماز کیسے پڑھوں گی؟ ۔۔۔
اس وقت یہ بات ذہن نشیں کر لیں کہ روزِ قیامت اگر الله نے اس سے زیادہ ٹھنڈ کا عذاب دے دیا تومیں کیا کرؤں گی؟ اس وقت مجھے کون الله کے عذاب سے بچائے گا؟ کون میری مدد کو آئے گا؟ روزِ قیامت میرا نفس جس کی آج میں پیروی کر رہی ہوں وہ بھی میرے خلاف گواہی دے گاتو میں کیا کروں گی؟
دوزخ میں ایک سرد حصہ ہے۔۔۔۔ زمہریر ،جس کی سردی ہڈیوں سے گوشت اتار دیتی ہے اور وہاں کے باسی جہنم کی تپش کی التجا کرتے ہیں!۔۔۔۔ .
اب ذرا سوچیں!۔۔۔۔لمحۂ فکریہ !۔۔۔۔
انسان دنیا کی ہر چیز سے کمپرو مائیز کرسکتا ہے۔۔۔۔مگر توحید اور نماز سےنہیں۔جو انسان سردی کی وجہ سے نماز چھوڑ دیتا ہے وہ موت کےبعد اس عذاب سے کیسے بچے گا؟
دل نہیں کر رہا تو اپنے نفس کےساتھ لڑکر زبردستی خود کو نماز کی طرف لےکرجائیں۔
" کیوں کہ نماز ہم پر فرض ہےاور ہم دنیاوی فرض بھی تو مرتےجیتے پورے کرتےہیں تو پھر الله تعالٰی جس نےہمیں پیدا کیا اسکو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں
"۔قرآنِ پاک میں جگہ جگہ الله تعالٰی فرما رہے ہیں۔ صبر اور نماز سے مدد مانگو۔ نماز شفا ہے۔نماز دعا ہے۔
سورۃ بقرۃ ( آیت نمبر 125 مسورۃ نمبر 2)۔
وَ اِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمۡنًا ؕ وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ وَ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَاِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۱۲۵﴾
" ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ثواب اور امن و امان کی جگہ بنائی تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو ہم نے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل ( علیہ السلام ) سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو ۔"
ایک اور جگہ الله تعالٰی فرماتے ہیں۔۔۔
سورۃ سورة المائدة ( آیت نمبر 58 مسورۃ نمبر 5)۔
وَ اِذَا نَادَیۡتُمۡ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوۡہَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۵۸
" اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھہرا لیتے ہیں یہ اس واسطے کہ بے عقل ہیں ۔"
اس کے بعدحدیث سے بھی یہی بات ثابت ہے کہ نماز سے شفا ملتی ہے۔۔۔۔
"آنحضرت ﷺ سے میں نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔"
# صحیح بخاری#57
کتاب ایمان کے بیان میں۔۔۔
۔"اور نماز قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔"(سورۃالروم)
پھر کیوں ہم لوگ الله کو چھوڑ کر اوروں سے مدد مانگتے ہیں۔۔۔۔ مردوں کو الله کا شریک ٹھہراتے ہیں۔۔۔۔۔کیا ہم ان پیروں فقیروں کی طرح الله کے نزدیک نہیں ہو سکتے۔۔۔۔کیا ہمارے ایمان اتنے کمزور ہیں کہ ہم الله کے محبوب نہیں بن سکتے۔۔۔۔۔۔جب ہم دعا کرتے ہیں تو پھر اس ذات پر بھروسہ کیوں نہیں رکھتے۔۔۔۔ سوچیں اور عمل کریں ۔۔۔۔درحقیقت میرااور آپکا الله ہی تمام مشکلوں سے ہمیں نکال کر اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔اس ذات پر بھروسہ کریں وہ پاک ذات ہمیں آزمائش میں اس لیےڈالتی ہے تاکہ ہم اس کے (الله تعالیٰ)کے قریب ہو جائیں۔۔۔۔۔




































