
مریم اسلم
جیسے ہی جنوری ختم ہوتا ہے اور فروری شروع ہوتا ہےتوایک ہلچل سی مچ جاتی ہے روز ڈےآ رہاہےتو کبھی چاکلیٹ ڈے کون کون سے ڈے
جس کا ہمارے مذہب اورکلچر سے دوردور تک کوئی لینا دینا نہیں پرگزشتہ چند سال میں نوجوانوں میں ان دنوں کا رجحان بڑھتاجا رہا ہے، وہ کسی تہوارکی طرح اس دن کومناتے ہوئے نظرآتے ہیں اور تو اوران مخصوص دنوں میں رونق عام دنوں کی نسبت کافی بڑھ جاتی ہے۔چاکلیٹ پھولوں اورکافی چیزوں کی قیمتیں آسمان کوچھو رہی ہوتی ہیں۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہ بک بھی بہت تیزی سےرہی ہوتی ہیں کچھ لوگ توایک دن پہلے ہی خرید کررکھ لیتے ہیں کہ اس دن وقت اور بیسیوں کی بچت ہوگی ۔اس کے برعکس اپنے تہوار عید پر لوگوں میں کوئی جوش وجذبہ نظر نہیں آتا بلکہ اکثر یہ سننے اوردیکھنے کو ملا ہے کہ ہم میچورہوگئے اورعید تو بچوں کے لیے ہوتی ہےپر غیروں کے تہوار ہولی ہویا کرسمس پرہمارے نوجوان سب سے آگے نظرآئیں گے ۔ایسا کیوں ہے آخر ؟ ؟ ؟ اس سب میں کس کا ہاتھ ہے؟ آج کل دیکھا جائےتوسوشل میڈیا سے لے کرسکول اور کالج جوبچوں کی تعلیم اور تربیت کے ذمہ دار ہیں۔اس عاشقانہ روایت سے بچوں کو روشناس کرانے کےلیے خصوصی پروگرام کروارہے ہوتےہیں جن میں ٹیبلو ،ڈانس اورمیوزک شو وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
یونیورسٹیوں میں لڑکیاں ان دنوں کی مناسبت سے لباس زیب تن کرکے آئی ہوتی ہیں اور اگر کوئی ان سےبچنے کی کوشش کرے تو اس کامذاق بنایا جاتا ہے،اسے بیک ورڈ قراردیا جاتا ہے،لوگوں نے فیشن کے طور پر ان کو منانا شروع کیا ہواہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اپنی ٹین ایج میں،میں سب کے ساتھ ملنے کے لیے یہ دن اپنی ماں کے ساتھ ہی منالیتی تھی تاکہ دوستوں میں بتانے کوکچھ ہو احساس کمتری نہ رہےکہ لو جی میں تو اس دن بور ہوتی رہی یا میں نے کچھ نہیں کیا ۔ کتنے افسوس کی بات ہے! ہم کس طرف جا رہے ہیں اگر ایسا ہی رہا تو ہماری آنے والی نسلیں ان دنوں کوٓسلیبریٹ کرنا خود پرفرض سمجھے لگیں گی ۔
جب کہ ہمارے دین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔پیارے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا "جو کوئی جس قوم کی نقالی کرے گا وہ انہی میں سےہے"
مسند احمد ۔
کئی روایات ایسی ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار،مشرکین،اہل کتاب ۔مجوسیوں،اور فاسق لوگوں کے نام لے کر ان کے مخصوص طور طریقے اپنانے سے منع کیا۔
اسلام نےجشن کے لیےصرف دوہی دن مقررکیے ہیں عیدالفطر اورعیدالاضحیٰ ان کے علاوہ وہ مذہبی ،قومی،بین الاقوامی یا غیر مسلموں کا کوئی بھی دن ہفتہ سال تہوار منانے کی اجازت نہیں۔
کیا اس کا یہ تقاضا نہیں ہےکہ ہم مغرب ،کفار اوراہل کتاب کی خرافات سےمکمل قطع تعلق کریں۔ ہم تووہ امت ہیں جہنیں یہ دعا سکھائی گئی ہےاورہرنماز کی ہررکعت میں ہم اس دعا کو اپنی زبان سے ادا کرتےہیں"ہم کوسیدھےرستے پرچلا ۔ان لوگوں کےرستے پر جن پر تونےانعام کیا نہ کہ ان کے جن پرغضب ہوا اورنہ گمراہی کےرستے پر"
ہمیں ان خرافات سےبچنا چاہیےاور اپنی اولاد کو بہت پیارسےان سے بچانا چاہیے کیونکہ زور زبردستی سے ہم کسی کو صحیح راستے پر نہیں لا سکتے۔




































