
شئیما بلال
سرمئی سڑک۔۔۔۔اطراف میں لہلہاتے درخت۔۔۔۔ ہلکے ہلکے اسکرین پر پڑتے پانی کے ننھے قطرے۔
حیا اپنے والد کے ساتھ سکول سے گھر جا رہی تھی۔
بابا میں بھائی کوبہت مس کروں گی۔ بھائی اتنی محنت پاکستان میں کرکے باہر کیوں جاناچاہتےہیں۔۔؟؟وہ یہاں رہ کر بھی تو پاکستان کوسروکر سکتے ہیں نا۔۔۔ قدرے خفگی سے حیا کہتی جارہی تھی۔
جی بیٹا آپ کی بات تو ٹھیک ہےلیکن ہمارے ملک کےبڑھتے مسائل اور بے روز گاری کا یہی منا سب حل نظر آرہاہے۔ والد صاحب نے نرمی سے حیا کو سمجھانا چاہا۔
ایسےتوہمارا ملک کامیاب نہیں ہوسکےگااورہمیں دوسروں کا بھی سوچنا چاہیے۔جب سب قابل اورتعلیم یافتہ لوگ دوسری قوموں کی خدمت میں لگ جائیں گے تو پاکستان ترقی کیسے کرے گااور آپ کو پتا ہےآج ہم نےنظریہ پاکستان کے بارے میں پڑھا۔
حیاجیسے آج اپنی بات منوا کرہی اٹھے گی۔
بادل زور سے گرجنے لگے۔۔۔اور بارش نے بھی زور پکڑ لیا۔۔۔۔
بیٹاآپ کی بات ٹھیک ہےلیکن تمام سیاسی پارٹیوں کی ناکامی توعوام کو ہی بھگتنا پڑتی ہے۔آج بھی پاکستان کابچہ بچہ سودی قرض میں جکڑاہے۔ اگر کسی پارٹی کی کرپشن ثابت ہو بھی جائے تو ان کو سزا نہیں ملتی جبکہ اگر کوئی غریب جھوٹے مقدمے میں بھی پھنسے تو اس کی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے ۔ والد صاحب اسکرین پر نظریں ٹکائےبات کا جواب دے رہے تھے۔
آج سڑک پر معمول سےزیادہ ٹریفک تھی اور تمام گاڑیاں سست روی سے چل رہی تھیں۔۔۔
ٹریفک کی لال بتی چمکنےلگی۔۔۔۔ حیا افسردگی سےکہنے لگی اس کامطلب ہے کہ ہمارے ملک میں کبھی انصاف نہیں ہوگا۔۔؟؟؟
نہیں حیا ہمیں کوئی ایسا حکمران چاہیےجو قرآن وسنت کے تقاضوں پرپورا اترے۔جسے ہرمعاملے میں ﷲ کے آگے جوابدہی کا ڈرہو۔
تو بابا مجھے تو ایسی کوئی پارٹی نہیں لگتی جسے ووٹ دینا چاہیے۔ حیاکچھ الجھ کر سوال کرنے لگی۔
اس وقت ہمارے ملک میں جماعت اسلامی ہی ایسی پارٹی ہےجو ان تمام تقاضوں پر پورا اترتی ہےجو کلمہ طیبہ کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں۔۔ جیسے ہم ان کی گزشتہ کارکردگی دیکھیں تو خلوص نیت سے عوام کی خدمت کی۔کچھ ہی عرصے میں خیبر پختونخوا کاقرضہ اتاردیا سکول ، کالجز تعمیر کروائےفلسطینی بھائیوں کی مدد میں بھی پیش پیش رہے۔والد صاحب کی گفتگو دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔
حیا نےقدر تذبذب سےپوچھا۔ بابا یہ پارٹی عوام میں اتنی مقبول کیوں نہیں ہے۔۔؟؟؟؟
کیونکہ بیٹا ملک دشمن قوت کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر پاکستان میں خالص نیت پارٹی کی حکومت آگئی تو پاکستان ترقی کرنے لگے گا۔
حیا نے مسکرا کر کہا۔۔۔
بابا کیا میں اس کو ووٹ دے سکتی ہوں؟؟؟
ہاں ضروربیٹا ووٹ ایک امانت ہے، اس کو کبھی بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے اورموجودہ صورتحال دیکھ کر حل صرف جماعت اسلامی ہی لگتا ہےاور صرف ترازو ہی انصاف کرسکتا ہے۔
اب گھر کے سامنے گاڑی سے نکلتی ہوئی حیا قدرےمطمئن نظر آرہی تھی۔
حل صرف جاعت اسلامی




































