
ثمینہ کوکب
فروری کامہینہ کیا شروع ہوتا ہےکہ سب گلی بازاروں میں سرخ رنگ جیسے ہرطرف پھیل جاتا۔ کپڑوں سے لےکر پھولوں تک سب کچھ سرخ رنگ
کی مناسبت سےبکنے لگتاہے۔ بیکریز پر کیک تک سرخ رنگ میں بننے لگتے ہیں۔
سب لوگ بڑے شوق سے ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں۔ حیف صد حیف یہ ملک اسلام کو اپنا دین مانتا ہے اورمحمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کواپنا نبی۔ ویلنٹائن ڈے تو عیسائیوں کا تہوار ہے اور وہ بھی بےحیائی کا۔ کیا مسلمانوں کا اپنا کوئی تہوار نہیں۔؟ جس پر وہ اپنی خوشی کا اظہار کرسکیں۔
آج میرے آرٹیکل کا موضوع بھی یہی ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے مقابلے میں حیا کی حقیقت کیا ہے۔
الحياءِ لا يانى الا بالخير
حیا بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔
امام نووی کےمطابق حیا ایک وصف ہے جو انسان کو برائی کےکام چھوڑنے پرآمادہ کرتی ہے۔شرعی نقطہ نظرسے حیااس صفت کوکہتے ہیں جس کی وجہ سے انسان برے کاموں اورگناہ سے بچتا ہے۔
ارشاد نبوی ہے الحياء الإيمان حیا اور ایمان لازم ملزوم ہیں۔
حیا صرف پردہ نہیں ہے بلکہ حیا ایک احساس ہے۔میرے خیال میں والدین کی نافرمانی،قطع رحمی،حرام کمائی، سودی کاروبار،جھوٹ اور ریاکاری سب بے حیائی کے زمرے میں آتے ہیں۔
میرے پیارے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
اللہ تعالٰی سے حیا یہ ہےانسان اپنےسرکواور ان تمام قوتوں کوجو سرمیں ہیں حفاظت سے رکھے اورپیٹ کو اوران تمام اعضاء کو جو پیٹ سےوابستہ ہیں اللہ کی نافرمانی سےبچا کررکھے۔
میری عزیزبیٹیو! نفس کاسب سے بڑا اوربرا چور بےباک نگاہ ہے۔ قرآن جنتی عورتوں کی خوبیوں میں لمبا قد،گورا رنگ،سیاہ بال،اور میک اپ نہیں۔ اس کی جو خوبی بیان ہوئی ہے اور جواللہ کو پسند ہے وہ جھکی ہوئی نگاہ ہے اور یہ جھکی نگاہ پہاڑوں سے زیادہ ایمانی طاقت رکھتی ہے اور جب یہ آٹھ جائے بے باک ہو جائے تو زوال مقدر میں لکھ دیا جاتا ہےاوراب سوچنےکا مقام ہےکہ امت مسلمہ آج زوال پذیر ہے۔ مسلمانوں میں غیرت تومرہی گئی ہے۔
ارشاد باری تعالٰی ہےسورہ نور آیت نمبر 31 ۔ اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دو اپنی نظریں بچا کررکھیں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اوراپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کےجوخود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پراپنی چادریں/آنچل ڈالے رکھیں۔
چودہ فروری کو سرخ کپڑے اورسرخ پھولوں کا تبادلہ کفارکےساتھ مشابہت اوردل لگی سےمومنین کومنع کیا گیا ہے۔ آپ صلعم نے ناراضی کا اظہار کیا ہےاورفرمایا ہے جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہے۔
ویلنٹائن ڈےغیرملسم تہوار ہے، شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس سےعشق اور دیوانگی جنم لیتی ہے۔ دل غیر اخلاقی چیزوں میں مبتلا ہوجاتا ہےجو کہ طریقہ سلف صحالحین کے بلکل مخالف ہے۔ہر مسلمان پر ضروری ہے وہ اپنے دین پر کار بند رہے۔
جب کبھی غیرت انسان کا سوال آتا ہے
بنت زہرا تیرے پردے کا خیال آتا ہے




































