
فاطمہ محسن
سال 2024 کے الیکشن نے بہت سے چہروں سے نقاب اتار پھینکے ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ تو سارے وعدے اورعہد و پیمان بھلا کر مکمل بے لباس ہو
کر سیاست کے دھندے میں کود گئی۔ دھاندلی بلکہ یہ اس بڑھ کر کوئی چیز تھی جس بناپرنتائج اب تک مکمل طور پرنہیں دیے گئے،جیتے ہوئے اُمیدواروں کے بجائے چوتھے پانچویں نمبر پر آنے والوں کو فاتح قرار دے دیا گیا۔
خاص طور سے جماعت اسلامی جیسی کراچی کی مقبول جماعت( یہ میں نہیں پل ڈاٹ کا سروے کہتا ہے) کا کوئی ممبر قومی اسمبلی میں پہنچنےنہیں دیا گیا تاکہ ٹرانس جینڈراوردیگر ایسےغیر شرعی قوانین کو ملک میں نافذ کیا جاسکے ۔
یہ صورت حال جماعت کے کارکنان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ وہ کارکنان جنہوں نے جان لگا کر محنت کی،گلی گلی پیغام پہنچایا،جلوسوں میں شرکت کی، فنڈز اکٹھےکیے پھرسوشل میڈیا میں جماعت اسلامی کی دھاگ بیٹھائی ، یہ سب آسان نہیں تھا لیکن جماعت کے کارکنان نے کیا اور اس کا نتیجہ بھی دیکھایا کہ الیکشن کے بعد بھی جماعت عوام میں مقبول ترین پارٹی ہے۔
اس وقت بہترین فیصلہ حافظ نعیم رحمان کا تھا کہ وہ سیٹ نہیں لیں گے،انہیں خیرات میں ناحق سیٹ نہی چاہیے۔یہ بڑے دل گردے کا کام تھا۔۔۔ ایسی سیٹ جوکہ کروڑوں میں بکتی ہے۔ اربوں میں فائدے حاصل کیےجاتے ہیں۔ اس سیٹ کو صرف اس لئے چھوڑ دینا کہ یہ ناحق ہے۔
آج کے زمانے میں لوگ ایک پیسہ نہیں چھوڑ تے،کارکنان کو فخرہونا چاہیےکہ ان کا لیڈرایک عظیم شخصیت کا مالک ہےجس کی گواہی میڈیا کے لوگ بھی دے رہے ہیں۔آج سیاست کا اخلاقیات سے دور دورکا واسطہ نہیں ایسے میں سراج الحق اورحافظ نعیم نےیہ ثابت کردیا کہ وہ جماعت اسلامی کے تربیت یافتہ ہیں اورسیاست بھی پاک صاف ہوتی ہے۔۔۔اس کی بھی اخلاقیات ہوتی ہیں ۔ کارکنان پریشان ہیں کہ ایسے وقت میں استعفیٰ کیوں دیا گیا تو ان کے لیے چند گزارشات ہیں۔
جب اک لیڈراپنی جماعت کو تمام ترمحنت اور دیانت کہ باوجود کامیابی حاصل نہ کر وا پائے تواس کے لیے استعفیٰ دینا ایک بہترآپشن ہوتا ہے۔پُوری دنیا کی جمہوریت پسند پارٹیوں کا دستورہے۔ امریکہ یورپ میں بھی لیڈر یہی کرتے ہیں۔مقصد یہ ہوتا ہے کہ شاید کوئی اور شخص پارٹی کو بہتر طریقے سے چلا پائے۔
پاکستان کا تو معاملہ ہی نرالا ہے،سیاسی پارٹیوں کےلیڈران تمام تر ڈھٹائی سےعشروں تک کرسی سے چپکے رہتے ہیں، ایسی پارٹی جمہوری پارٹی نہیں کہلاتی بلکہ وراثتی کہلاتی ہیں۔ سر اج الحق کا یہ فیصلہ ان کے سیاسی شعور کی گواہی ہے۔ ان کا استعفا منظور کرنا شوری کےاوپرہے۔کارکنان سے درخواست ہے کہ اتنی مشکل صورتحال میں اپنی پارٹی کی قیادت پر اعتماد اور یقین بحالِ رکھیں۔اس وقت جماعت اسلامی اور اس کے لیڈر اپنے فیصلوں کی بناء پر پُوری دنیا میں صاحب بصیرت مشہور ہورہے ہیں اس پر فخر محسوس کریں۔
بیجابحث میں پڑنے سے گریز کریں، ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں بلکہ وراثتی طور پر خاندانوں میں عہدے تقسیم کیے جاتے ہیں ،پرچی پر قبضہ جمالیا جاتا ہے،ایسے میں جماعت اسلامی کے سراج الحق کا فیصلہ مثالی ہے۔
اپنے دِل اور دماغ کو سمجھائیں کہ جیتنا مقصد نہیں، سچ کی گواہی دینا مقصد ہے اور اس وقت سچ عوام جانتے ہیں میڈیا جانتا ہے۔ کیا آپ کے لئے یہ جیت نہیں؟
ہمارا اصل مقصد امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے اس کی طرف پلٹ آئیں۔
جماعت اسلامی لوگوں کی خدمت کرتی آ رہی ہے اور آگے بھی کرتے رہے گی،دلوں پر راج کرتی رہے گی۔ ایک مسلمان کا مقصد ہے حقوق اللّٰہ اور حقوق العباد
ہمارا اجر اللّٰہ کے پاس محفوظ ہے
مایوس اور دل برداشتہ ہو نے کی قطعی ضرورت نہیں۔
اللّٰہ ہم سب کا حامی ناصر ہو
نوٹ : ایڈیٹرکا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































