
رشیدہ صدف/ گجرات
ہجرتِ پاکستان کی کہانی درد والم کی داستان ہے۔ہمارے بزرگ ہمیں بتایا کرتے تھےکہ جب ہم امرتسر سےہجرت کرکےآئےتواُس وقت ملک
کےمختلف حصوں میں ہندوؤں اورسکھوں کی طرف سےمسلمانوں کا قتلِ عام ہو رہا تھااور پاکستان آنےوالوں کا قتل عام کا یہ حال تھاکہ مہاجرین کو آگ اورخون کی ندیاں عبورکرنا پڑرہی تھیں۔ ٹرینیں لاشوں سے بھری لاہور اسٹیشن تک پہنچتیں۔ گھر سے چند ضروری چیزوں کے ساتھ نکلنےوالے خالی ہاتھ گرتے پڑتے لاشوں کے ڈھیر پھلانگتے ہوئے اَدھ بچےلوگ مہاجر کیمپوں تک پہنچ رہے تھے۔ خوشی و غمی کےملے جلے جذبات ایسے کہ سب کچھ کھوکر بھی جو اس سرزمین پر پہنچ جاتا سجدہ ریز ہو جاتا۔ ایسی کیفیات کہ بتانا سنانا مشکل، پاکستان مشکل گھڑی میں گھروں اوردلوں کےدواڑے کھول دئیے تھے۔
ہمارے محلے میں ایسے بہت مہاجرتھے جو لدھیانہ سے آئے تھے۔ایک خالہ کی اپنی دو بیٹیاں اورتین بیٹے تھے۔ دونوں بیٹیوں کی شکلیں بالکل مختلف تھیں۔ پاکستان بننےکا ذکر چھڑا تو بتانے لگیں یہ جو عابدہ ہے ناں یہ میری اپنی بیٹی نہیں ہے۔ یہ تو ہمیں لاشوں کے ڈھیر سے ملی تھی جو سانس لے رہی تھی۔ نفسانفسی کی صورتِحال میں مجھے بہت ترس آیا اورمیں نے اُسے اٹھالیا۔اُس وقت ہماری شادی کو ابھی چار ماہ ہی ہوئے تھے۔ ساتھ بچے بھی نہیں تھے۔
عابدہ نام بھی ہم نےہی رکھا تھا۔ میرے دل میں رب نےاس کی ایسی محبت ڈالی اس کو پھر سینے سے جدانہ کیا۔اپنے بچوں سے بڑھ کر پیار دیا۔ تعلیم دلوائی۔ اب یہ سارے بچوں سے بڑھ کر ہماری خدمت گزار ہیں۔ایسے ہی ایک اور گھر کی طرف اشارہ کر کے بتانے لگیں کہ وہ جو طفیل ہےناں ! وہ بھی صفیہ کا اپنا بیٹا نہیں ہے،یہ زخمی حالت میں کوئی ان کے پاس چھوڑ گیا تھا۔بعد میں اس کے گھر والوں کا بھی پتہ چل گیا تھا لیکن اس نے واپس جانا پسند ہی نہ کیا۔اس طرح سینکڑوں ہجرو وصل داستانیں اس محلے میں بکھری ہوئی تھیں ۔
جب کبھی فارغ ہو کرخواتین بیٹھتیں توایک دوسرے کو بتاتیں کہ کیسے وہاں ہمارے باغ تھے،زمینیں تھیں،جائیدادیں تھیں۔خود ہماری امّاں جی آخری لمحے تک امرتسر کو یاد کرتی رہیں۔ اکثر اپنی سہیلیوں کا ذکر کرتیں۔ اپنے ابّا جی یعنی ہمارے نانا جی کو یاد کر کے آنسو بہاتیں حالانکہ ہمارا گھر بڑا اورکھلا تھا۔ اچھے حالات تھےلیکن امرتسر والے کھلے صحن والے گھر کا ذکر بڑے جذباتی اندازمیں کرتیں۔ اپنی پالتوبلی کا ذکر کرکےآبدیدہ ہو جاتیں۔ پھر پاکستان پہنچ کر جن آزما گھاٹیوں سے گزرنا پڑا ان کو بھی دھرائیں۔
امرتسرکےکھانے،قہوہ،کلچے،کتلمے،اور پوڑے بہت یاد کرتیں چونکہ ہمارے ماموں لاہور رہتے تھے۔ یہ چیزیں جب بھی جلالپورآتے کبھی کلچے،باقرخانیاں کبھی کٹھے میٹھے پاپڑ لے کر آتے۔پھر بہن بھائی بیٹھ کر امرتسرکویاد کرتےاور ہم بچے بھی بڑے شوق سے پاکستان بننے کی کہانی سنتے۔
پاکستان کے مسائل کا تذکرہ بھی شروع سے ہی سنتے آرہے ہیں۔ پاکستان کو بنے75 سال گزر گئے مگر حالات بد سے بدتر ہوئے۔ مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہی ہیں۔عوام پریشان حال ہے۔بدقسمتی سے حکمران ایک سے ایک بڑھ کر کرپٹ ملے ہیں۔ اس ملک کو تمام ترمعدنی،زرعی وسائل ہونے کے باوجود لاکھوں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سےبھی نیچےزندگی گزاررہے ہیں۔
سچی بات تو یہی ہےکہ یہ ملک پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیاتھا جس کی بنیاد ہی کلمۂ توحید تھی اورجس کا آئین اسلامی ہے۔جسےاسلامی فلاحی ریاست بنناتھا جو علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے۔ یہاں بس کلمے کی حکمرانی ہوگی تو پاکستان خوشحال اسلامی ریاست بن سکتا ہے۔ یہ "اسلامی جمہوریہ پاکستان" ہے۔ جس کا پرچم سبزہلالی ہےجس میں الیکشن کے ذریعہ حکمران چنے جاتے ہیں مگر کرپشن کی تو کوئی حد نہیں کبھی بھی شفاف الیکشن نہیں ہوئے۔
جماعتِ اسلامی ایک سیاسی جماعت ہےجو ہردفعہ الیکشن میں حصہ لیتی ہےکہ اس ملک کواسلام کاقلعہ بنانےکیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ مگربیرونی اوراندرونی سازشیں ان کو اوپر تک آنے نہیں دیتیں جبکہ ہر کوئی جانتا ہےکہ امانت و دیانت اور کلمۂ حق کہنے والے یہی لوگ ہیں۔
اب پھرسے 8 فروری کوالیکشن ہونے جارہے ہیں۔اس کہانی کے تناظر میں ببانگِ دُھل میں عوام تک یہ پیغام پہنچانا چاہتی ہوں کہ اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ہوسکتاہے۔ دیانت دار حکمران ہی اس ملک باگ ڈور سنبھال سکتے ہیں۔ اسے ترقی کی راہوں پرگامزن کر سکتے ہیں۔ الله تعالٰی کا بھی فرمان ہے،اپنی امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کر دیں۔ ہمارے مسائل کا حل صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہے۔کیونکہ
اِنَّ ال٘حُک٘مَ لِلّٰه
یہ دیس جگمگائے گا نورِ لا اله سے
سوہنی دھرتی الله رکھے
قدم قدم آباد




































