
نشاط صدیقی
آج سارہ کی امی کی برسی تھی ،اسےامی بہت یاد آرہی تھیں۔امی کےانتقال کوآٹھ یا نو سال گزرچکے تھے۔ان کے جانے کے بعد ان کی قدرہوئی۔ ابا تو جب وہ
دس سال کی تھی تب ہی گزرگئےتھے۔وہ اپنی ماں سے بہت محبت کرتی تھی لیکن دونوں ماں بیٹیوں کےمزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔وہ فیشن کی دلدادہ اور امی بڑی سادہ مزاج تھیں ،وہ جدید فیشن کی بات کرتی ،امی سادگی کا درس دیتیں تو اس نےماں کےبجائے سہیلیوں میں دل لگا لیا۔20 سال کی عمرمیں امی نے شادی کردی۔ میاں جی ہم مزاج ملے، یوں زندگی آرام سےبسرہونےلگی۔
تینوں بھائی بیرون ملک امی کوبڑے بھیا اپنے ساتھ کینیڈا لے گئے۔ہرہفتےوہ فون کرکےان سے بات کرتی لیکن ان کی باتوں میں وہ ربط ہی نہ رہا تھا۔وہ سوچتی تھیں بڑھاپاپےمیں ایسا ہی ہوتاہے۔
ایک دن بڑے بھیا کا فون آیا، امی کوجگر کا کینسرہو گیاہےتم آجاو۔یہاں سب جاب پرہوتے ہیں ، تم ان کے ساتھ ہسپتال میں رہ جانا۔
میاں نےجانے کا بندوبست کیا اورایک مہینے کے اندروہ کینیڈا میں تھی ۔ اسی دن اماں سےملنے گئی۔ تھوڑی دیر تک وہ پہچان ہی نہ سکیں۔ بھابھی نے کہا ڈائمنشیا ہوگیاہے (بھولنے کی بیماری) تھوڑی دیر بعد پہچانیں"کہنے لگیں تم سارہ ہونا" سارہ ان ک ہاتھ پکڑ کر رونے لگی۔ بھابھی بولیں "کچھ ہی لوگوں کو پہچانتیں ہیں"
کینسر کی آخری اسٹیج تھی ان کوکمفرٹس زون میں رکھا ہوا تھا۔وہ اولڈ ہوم تھا جہاں ان ہی مریضوں کورکھتے تھے، جن کا مرض لاعلاج تھا۔ سارہ کو ویزہ ہی دو مہینے کاملا تھا۔وہ روزصبح جاتی اورواپسی رات میں ہوتی۔ اس نے جوانی میں امی کی ساتھ جورویہ رکھا اس کا مداواکرنا چاہتی تھی۔ کیا دو مہینہ کافی تھے،اس مداوے کے لیے۔سارہ کا آخری دن تھا کینیڈا میں ائرپورٹ جانے کے لئے نکلی بھائی جان نے گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ لی ۔ سارہ کی ان سے آخری ملاقات تھی۔
تھوڑی دیران کے بسترکیساتھ لگی کھڑی رہی ان کے سرپرہاتھ پھیرتی رہی امی بولیں" کہیں جارہی ہو"سارہ نے آنسو پونچھےاوربولی" نہیں واش روم تک"
امی نے کہا"آجاوگی نا دیکھو دھوکہ نہ دینا"
ان کے یہ آخری الفاظ اس کے دل پر تیرکی طرج لگےمسافر تھی نا۔۔۔ جانا توتھا وارڈ سے باہرآکروہ بھائی جان سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔
اس وقت ان کا ڈائمنشیا کامرض نعمت لگنےلگا کہ وہ تھوڑی دیربعد بھول جائیں گی لیکن میں کیسے بھولوں گی۔ سارہ نے سوچا
کہ وہ زور زور سے جیخےاور کہےکہ خدارا اپنی ذات پر رحم کریں گیا ، وقت پھر نہیں آتا کوئی دوسری سارہ نہ بننا اپنےبوڑھےوالدین کو ٹائم ضروردینا۔ ان سے باتیں کرنا ان کے پاس بیٹھنا، ایسا نہ ہو کہ وہ نہ رہیں اور وہ گزرجائیں ہم ہاتھ ملتےرہ جائیں اورہمارےماضی کےکیےہوئے وہ روئیےہمیں ساری زندگی کاپچھتاوا بن جائیں کہ(آجانا دیکھو دھوکہ نہ دینا)۔




















