
ڈاکٹرفرحت حبیب
ہم بہن بھائی اب سب اپنی زندگیوں میں مگن ہیں۔ کل جب سب جمع ہوئےتو بچپن کا ایک واقعہ جومجھےنہیں بھولتا،میں پھردہرارہا تھا کہ ہمارے بڑے بھیا کی
محبت بڑی لازوال تھی۔ شام کو باہر کھیلتے ہوئےمجھےشدید چوٹ لگی اورخون بہنے لگا تو بڑے بھیا نےپریشانی میں سارا گھر سرپراٹھا لیا تھا۔ مجھے گود اٹھا کرکلینک لے گئے اور بڑی محبت سےمرہم پٹی کرائی تھی۔
اسی مناسبت سے غزہ کے بارہ سالہ احمد کویاد کر کے میری آنکھیں بھیگ گئیں۔صحافی ابوحمزہ غززہ کے پناہ گزین اسکول کےباہر بچوں سے انٹرویو لےرہےتھے۔
احمد کی خوبصورت آنکھیں ،محبت اورفخر سے چمک رہی تھیں اوروہ بڑی محبت سےبچپن کی یادوں میں کھویا اپنے بڑے بھائی کویاد کررہا تھا۔کہ وہ اس کوکیسے گود میں اٹھا کراسکول لاتا لےجاتا تھااورلاڈ اٹھاتا تھا۔ صحافی نے پوچھا تمہارے کمر سے بندھے تھیلےمیں کیا ہے؟ احمد پرسکوت سا چھا گیا ،وہ خلاؤں میں گھورتا ہوا بولا، "" تھیلے میں میرے بھائی کے ٹکڑے ہیں مگرمجھے بالکل بھاری نہیں لگ رہے،جس طرح بچپن میں بھائی مجھے گود لے کر پھرتا رہتا تھا۔ میں بھی اسے اپنے ساتھ رکھوں گا ۔
امت مسلمہ کی بےحسی پررونگھٹےکھڑے کردینے والےمنظر کی تصویرمیری آنکھوں میں جم سی گئی ہے۔
دلوں کو چیر دینے والی کہانی سنا کروہ لڑکا امت کےلیے سوالیہ چھوڑ گیا۔غزہ والوں کے ایمان کی کشش اتنی ہے کہ دلوں کو اسیربنا لیتی ہے۔یہ لوگ خطہء ارضی کے بہترین انسان ہیں جواپنی انوکھی باتوں اورنرالے اندازسے پوری دنیا کومسلمانوں کی گم گشتہ میراث سےروشناس کرا رہے ہیں ۔




































