
مسرت جبیں/ لاہور
(آیت 125 سورۃ 20)
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِیۡۤ اَعۡمٰی وَ قَدۡ کُنۡتُ بَصِیۡرًا ﴿۱۲۵﴾
وہ کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا ۔
آیت 126 سورۃ 20)
قَالَ کَذٰلِکَ اَتَتۡکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیۡتَہَا ۚ وَکَذٰلِکَ الۡیَوۡمَ تُنۡسٰی ﴿۱۲۶﴾
( جواب ملے گا کہ ) اسی طرح ہونا چاہیے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔
سورۃ طہٰ کی یہ دونوں آیات میں بہت بڑی وعید ہیں ۔روز محشر جب انسان بے بس کبریائی والے رب کے حضور کھڑا ہو گا ۔اس دن سارا اختیار مالک یوم الدین کا ہوگا وہ جس کو جس حال میں چاہیے اپنے سامنے کھڑا کرے ،حاضر کرے ۔آج جب ہماری سانسیں چل رہی ہیں ۔ ابھی زندگی کی مہلت باقی ہے ، ابھی راہ ہدایت کے رستے واضح ہیں ۔کتاب ہدایت ہمارے درمیان موجود ہے ۔ غقل وشعور ،فہم وفراست ،علم وعرفان کی نعمت عظمیٰ رحمت بن کر برس رہی ہے تو آج اس کیفیت کا ادراک ہو جانا ،قبل از امتحان پرچہ کھل جانا اس سخت بڑے دن کی ہولناکیوں میں انسان کے ہوش وحواس کھو جانے سے قبل ہی دل کا اچھل کر حلق تک آ جائے سے پہلے ہی ، نظروں کا پتھرا جانے سے بھی پہلے رب رحیم کا آج اپنی کتاب ہدایت میں اس امتحان کی آگاہی بہت بڑی نعمت ہے ۔
بہت عظیم احسان ہے انسان پر تو قیامت کے دن ایک شخص ، ایک شخص سے مراد ہر وہ شخص ہے جو دنیا میں کتاب ہدایت سے اپنی آنکھیں بند کر لے ۔ اندھی کر لے ۔اندھا کر کے اٹھایا جائے گا ،
ہوسکتا ہے کہ وہ قیامت کے دن عذاب جہنم تو دیکھ لے ۔قرآن خود خبر دیتا ہے کہ وہ اس دن جہنم کو خوب دیکھ رہے ہوں گے مگر جنت کے نظاروں سے رب کائنات کے دیدار اور دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی آنکھیں اندھی ہوں ۔ استغفرُللہ
تو وہ اللہ سے فریاد کرے گا ۔روئے بگا چیخے گا کہ اے اللّہ دنیا میں تو میری بینائی تھی ۔ دنیا میں میں تیری دنیا کی رنگینیوں سے ،دلفریب نظاروں سے رنگوں سے خوب لطف اٹھایا کرتا تھا ۔ہاں قدرت کے رنگوں سے اپنی زندگی کو دنیوی زندگی کو رنگین تر کرتا رہا ۔ مزے لوٹے ،بدمست رہا مگر ایک خود کو اللہ کے رنگ میں رنگ نہ سکا ۔آج میں اندھا کیسے ہوا ؟وہ بھول گیا کہ کیسے کیسے کہاں کہاں کتنی کتنی قدرت کی قدرتوں پہ جب غور کرنا تھا ۔جب قرآن کے نور سے روح کو منور کرنا تھا ۔جب کتاب ہدایت سے ہدایت پانی تھی ،جب آیات قرآنی سے اپنی زندگی کو سنوارنا تھا ۔جب رسول خدا محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ نبی مہربان خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے اپنے کردار کو مزین کرنا تھا ۔سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمو ملنی تھی تو تب اس نے اپنی زندہ آنکھوں کو مردہ کر لیا ۔ خود ہی غفلت کی جہالت کی پٹی اپنی آنکھوں پہ باندھے رکھی ۔اپنی بینا آنکھوں کو نابینا تو خود ہی کیا تھا دنیا میں ؟
تو آج رب العالمین فرمائے گا کہ اے غافل بندے اسی طرح توتیرے پاس میری آیات کھلی کھلی نشانیاں ائی تھیں ۔پس تو بھول گیا ۔ تو اپنی آنکھیں یہی آنکھیں بند کر لی اپنی مرضی سے اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے غرور سےتو نے دوستی کر لی میرے دشمن "ابلیس "سے ۔
پس تو ان کو بھول گیا اسی طرح آج کے دن میں نے تجھے بھلا دیا ۔ اس سے ماقبل آیت میں فرمان باری تعالیٰ ہے کہ جس نے میری یاد سے اعراض کیا ،منہ موڑا ، غفلت میں پڑا رہا ۔اور پتہ ہے اللّہ کی یاد اللّٰہ کی تذکیر کیا ہے ؟۔ وہ شان والی کتاب جس میں کوئی شک نہیں ۔یہی تو ہدایت ہے ۔ ہدایت یہ تو صراطِ مستقیم ہے ۔یہی راہ تھی مجھ تک پہنچنے کی ، یہی کامیابی تھی ۔کتاب ہدایت اور اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
اللّٰہ کتنے مان سے فرما رہے ہیں ،کس قدر حکمت سے ، کتنا زور دے کر فرمایا جا رہا ہے کہ ،، و ھو معکم این ما کنتم ،،
وہی ،، اللہ ،، تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو ۔اللّٰہ رحیم بصیر وعلیم تو کبھی بھی اپنے بندوں کو نہیں بھولتا یہ تو بے وفا ، کمینہ انسان ہے جو اللہ کو بھول جاتا ہے ۔سنو تو رب کائنات کیا فرماتے ہیں ۔ اے انسان کس چیز نے تجھے اپنے کرم کرنے والے رب سے دھوکے میں رکھا ، کاش آج ہم دنیا کے لہو ولعب سے دنیا کی رنگینیوں سے نکل کر کتاب ہدایت میں غوطہ زن ہوں ۔ قرآن سے فیضان پائیں ۔
آج قرآن سے رشتہ مضبوط ہوگا تو ہی اپنے کریم رب کے عظیم پیغام کو سمجھ سکیں گے ۔ تب ہی معلوم ہوگا کہ قرآن سے منہ موڑ کر ، کتاب الٰہی تورات ، انجیل ،زبور اور اللّٰہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو جب پچھلی قوموں نے منہ موڑا ، پس پشت ڈال دیا ۔ تحریف کر ڈالی ۔ سودے بازی کی الہامی کتابوں سے تو کیا ہوا، کس طرح ان قوموں کو جن کے پاس نبوت تھی ، بادشاہت تھی ۔دولت تھی ،طاقت تھی ،صلاحیتیں تھیں ،کس کس طرح عذاب الہٰی نے جڑ سے اکھاڑدیا غرق کیے گئے ۔ سات دن رات طوفانی آندھی نے نام ونشان مٹا دئے ۔ کیسے بستیاں الٹ دی گئیں ۔
اور ہاں امت مسلمہ امت محمدیہ یہ سب قرآن مجید میں میرے اور آپ کے لیے بیان کیا گیا ہے ۔ قرآن کوئی قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں ۔یہ عبرت کے لیے ہے ،ہدایت کے لئے اور راہ ہدایت پہ چل کر رب کریم سے احسن طریقے سے ملاقات کے لیے ہے ۔
اللہ کی یاد تو ہر پل ہر قدم ہر حال ہر زمانے ہر وقت زندگی کی ابتدا سے ،، ولادت ہوتے ہی اذان کان میں دی جاتی ہے ۔آخری سانس تک ۔زندگی کے ہر معاملے میں ہر شعبے میں ہر امور میں خاندان کی اکائی سے اقتدار تک ۔ معیشت سے سیاست تک ۔ عبادات سے حقوق وفرائض میں ۔ خوشیوں میں دکھوں میں ،خوشحالی میں تنگدستی میں خلوتوں جلوتوں میں بس اللّٰہ کی یاد اسی کا خوف اسی سے امیدیں ۔
تاکہ روز محشر ہم اپنی جاگتی آنکھوں سے رب رحیم رب کریم کا کریم چہرہ دیکھ سکیں ۔ اکہ ہم نبی مہربان پیارے آقا محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی دید سے کھلی آنکھوں سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر سکیں تاکہ عظیم اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دیدار ملے تاکہ جنت کے لافانی نظاروں سے لطف اندوز ہوں ۔ آمین ، ابھی در توبہ کھلا ہے ،پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف قرآن مجید کو اپنے دل کی بہار بنا لیں ۔




































