
رضوانہ وسیم/ کراچی
موبائل کی گھنٹی بڑی دیر سے بچ رہی تھی جب تک وہ موبائل تک پہنچی گھنٹی بند ہو چکی تھی۔ نمبر بھی جانا پہچانا نہیں تھا۔ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھی
فون پھر سے تھرا اٹھا ۔ ثمینہ نے فون اٹھایا،جانی پہچانی آواز نےاسےخوشی اورحیرت میں مبتلا کر دیا ایک طویل عرصے کے بعد اسے اپنی عزیزدوست نائلہ کی آواز سنائی دی ،شادی کے کافی عرصے تک دونوں کا رابطہ رہا ،اس کے بعد دونوں زندگی کے جھمیلوں میں گم ہو گئی۔ ثمینہ نے خوشی دلی سے کہا اتنے عرصے بعد کیسے یاد اگئی میری ۔
نائلہ نے بتایا کہ یار کافی عرصہ ہو گیا میں تو ملک سے باہر تھی۔ کئی سال بعد یہاں پاکستان واپسی ہوئی ہے۔ثمینہ نے فوراًاس کو گھرآنےکی دعوت دی یوں مدتوں کے بعد دونوں سہیلیوں کی ملاقات ہوئی ۔ دونوں بہت خوش ماضی کی یادوں میں گم ہو گئیں ۔ ثمینہ نے پرانی البم نکال کرپھر سے ان یادوں کو تازہ کیا تصویروں میں ۔
نائلہ ایک شعلہ بیاں مقرر بنی جگہ جگہ شیلڈ کپ اورانعامات وصول کرتی نظر ائی ثمینہ کو یاد آیا تقریری مقابلوں میں اس کےآگے کوئی ٹھہرتا ہی نہیں تھا ۔موضوع کوئی بھی ہو اس کے وزنی دلائل ہمیشہ اس کی جیت کا سبب بنتے تھے ۔چائے پیتے ہوئے دونوں آج کل کے حالات پر بھی تبصرہ کرنے لگی۔ نائلہ بولی وقت کتنا بدل گیا ہے ۔ہم نے امن کا کتنا خوبصورت دور دیکھا ہے۔ اب تو ہر طرف بے انصافی دھو کے اور ظلم کا راج ہے ۔تاریخ خونی انقلاب رقم کر رہی ہے۔ مظلوم پس رہے ہیں۔ حقدار حق سے محروم ہے۔ہر ناجائز کام جائز قرار پا گیا ہے ۔دونوں سہیلیاں بدلے حالات پر افسوس سے تبادلہ خیال کر رہی تھی ثمینہ نے پوچھا تمہیں تو اللہ تعالی نے قلم کی طاقت دی ہے تم اس سلسلے میں کیا کر رہی ہو۔ نائلہ نے کہا ارے میرے قلم سے کیا ہوگا یہاں تو آوا کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ۔ہر چیز اپنے مرکز سے ہٹ گئی ہے۔ ثمینہ نے کہا تمہارا ایک شعر جو تم اکثر تقریر کی ابتدا میں پڑھا کرتی تھیں، مجھے آج بھی یاد ہے۔
پابہ زنجیر کرے طوق بنے دار بنے
حرف حق جب بھی کہو جان کا ازار بنے
لیکن اس وقت تم کبھی کسی سے ڈر ی نہیں ۔ہمیشہ حق پرڈٹی رہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ آج ہمیں مسلمانوں کی آواز نہیں بننا چاہیے؟ہمیں اگر اللہ تعالی نے کوئی صلاحیت دی ہے تو یوم حشر اس کا بھی تو حساب ہوگا ۔فلسطین میں اگ اور خون کی ہولی ان کی نسل کشی معصوم لوگوں کی آہیں اور ہماری بے حسی کیا قابل مذمت نہیں ؟آج جو آگ ان کے گھروں میں لگی ہوئی ہے؟ کیا اس آگ کو ہم تک پہنچتے دیر لگے گی؟ ظلم کی یہ انتہا ہو یا ہمارے ملک کے دردناک حالات ہر محاذ پر ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنی ہوگی ۔ میں تو مسلمانوں کے حقوق کے لیے ریلی میں شرکت کے لیے جا رہی ہوں کیونکہ اتنا تو میں کر ہی سکتی ہوں۔ مجھے ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ہمارے مسلمان بھائیوں کا ہم پر حق ہے ۔روز قیامت ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے ۔میں ملین مارچ میں جانے کے لیے تیار ہوں کیا تم بھی ہمارا ساتھ دو گی ۔نائلہ کی آنکھوں میں انسو آگئے اس نے کہا کیوں نہیں میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اج سے میں بھی عملی اور قلمی جہاد میں تمہارے ساتھ شامل ہوں اللہ ہماری کوششوں کو مسلمانوں کے حق میں بار اور کرے امین اس نے نائلہ کو گلے لگا کر کہا اپنے یقین کو اور مستحکم کرو کیونکہ میں تمہیں یقین دلاتی ہوں ۔
بول کے لب ازاد ہیں تیرے




































