
فرخ اورنگزیب
”خدیجہ، عائشہ! میں کھانا لگانے لگی ہوں، آپ بھی آئیں اور دادا اوردادی جان کو بھی بلائیں۔“ امی جان نے کہا۔
”دادا جان تو نماز پڑھنے مسجد گئے ہیں۔“خدیجہ نے جواب دیا۔
دادا جان کے آنے تک امی جان، خدیجہ اورعائشہ نے بھی نماز پڑھ لی۔
” ارے یہ کیا؟ آپ نے گوشت میں کدو کیوں ڈالا؟“ دستر خوان پر بیٹھتے ہی خدیجہ نے منہ بنایا۔” سالن میں شوربہ کیوں ہے؟ “ بہن کی دیکھا دیکھی عائشہ نے بھی جھٹ اعتراض کیا۔
بچیوں کی بات سن کر دادی جان نے انہیں محبت سےٹوکا۔”کھانے میں عیب نکالنا بری بات ہے۔
” جی ہاں! آپ کی دادی جان ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ پیاری بچیو! کدو کھانا تو سنت ہے۔ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔“
دادا جان کی بات سن کر خدیجہ کہنے لگی۔” اہا پھر تو میں کدو ضرور کھاؤں گی۔“ خدیجہ کے اتنا جلدی بات سمجھنے پر دادی جان نے اسے شاباش دیتے ہوئے ماشاءاللہ کہا۔ اب عائشہ کہاں پیچھے رہنے والی تھی۔ جلدی سے بولی۔ ” دادا جان! مجھے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانا کھانے سے متعلق کچھ اور بھی بتائیں۔“ خدیجہ نے کہا” آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق کھانا ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھائیں۔
اپنے سامنے سے کھائیں اور پلیٹ ہمیشہ اچھے سےصاف کریں۔ کھانا ہاتھوں سے کھائیں اور آخر میں انگلیاں چاٹ لیں۔“
پلیٹ صاف کرنے پر کھانے میں برکت ہوتی ہے اور اللہ بھی راضی ہوتے ہیں۔
آخر میں دادا جان نے کہا، ”آج کی ساری گفتگو کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دستر خوان پر دن بھر کی اچھی باتیں سنا کر ماحول کو خوشگوار بنائیں تاکہ صحیح معنوں میں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کر سکیں۔“ پھر دادا تھوڑا اداس ہو کر بولے،”بیٹا! ہمارے اردگرد بہت سے لوگ ہیں جن کو دو وقت کا کھانا بھی نہیں ملتا۔ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہم پر فرض ہے۔“ دادا جان کی بات سن کر دادی جان کہنے لگیں،”شکر کا اظہار یہ بھی ہے کہ ہم غریبوں تک ان نعمتوں کو پہنچانے کی کوشش کریں۔“
” دادا جان میں ان شاء اللہ آئندہ ہر کھانا شوق سے کھاؤں گی۔ نا شکری نہیں کروں گی۔“ خدیجہ نے کہا ” اور میں سکول اپنے ٹفن میں آیا کی بیٹی کو بھی شریک کیا کروں گی جو بریک میں خاموش بیٹھی کچھ بھی نہیں کھا رہی ہوتی۔“خدیجہ اور عائشہ کی بات سن کر دادی جان اور دادا ابو بہت خوش ہوئے۔




































