
نیرنگِ خیال/ عریشہ اقبال
زندگی ایک جہد مسلسل کا نام ہے کبھی اس جدو جہد کا آغاز ہماری اپنی ذات سے ہوتا ہےاور کبھی ہم سے وابستہ لوگوں سے مگر معاملہ اپنی ذات کا ہو یا
ہم سے وابستہ لوگوں کا اس جہد کا آغاز اسی وقت اصل معنوں میں ہوتا ہے جب اس کے حقیقی شعور کو انسان سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ارادہ قوی ہونے کے ساتھ منزل تک پہنچنے کی جستجو سچی ہو اور امید کا دامن نہ چھوٹے اس کے ساتھ ہی منزل سے دور ہوجانے کا خوف بھی دل میں موجود ہو کیونکہ کسی بھی مقصد کے حصول کے لیے اس کے حوالے سے حساسیت ہونا لازم ہے حساسیت کے پہلو کو سمجھنا ضروری ہے ۔
اسی طرح دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے اس لحاظ سے اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات پر جب حقیقی معنوں میں غور کریں گے تو اس جہد مسلسل کا صحیح معنوں میں مفہوم سمجھ آۓ گا اور پھر ہر جانب مجھے اور اور آپ کو محض رب اور رب کی رضا نظر آئے گی کیونکہ ایک مومن کے لیے ہر صورت میں خیر ہی کا معاملہ کیا گیا ہے خواہ وہ خوشی کی کیفیت ہو یا غموں سے تار تار ہوتا دل
زخموں سے چھلنی ہوتا بکھرتا وجود ہو یا تکلیف سے نکلتے آنسو یہ سفر رب سے محبت اور رب کی خاطر محبت کا درس دیتا ہے ،یہاں اس جہد مسلسل پر استقامت سے ڈٹا رہنے والا قافلہ اپنی منزل مقصود یعنی رضائے،رب کے حصول کی خاطر گرتے اور سنبھلتے اپنی راہ پر چلتا چلا جاتا ہے اور اس راہ میں آنے والی مشکلات اسے جدو جہد کا اصل مفہوم سمجھاتی اور بتاتی ہیں فطرت انسانی کے مطابق وہ کبھی تھکن کا شکار ہوکر سستانے کو بیٹھ ضرور جاتا ہے مگر جانتے ہیں منفرد بات کیا ہے کہ وہ جہاں سستانے کے لیے اپنا عارضی قیام کرتا ہے مگر وہ قیام اسے دائمی منزل کی جانب متوجہ کرتا ہے اور پھر اس کے عزم پھر سے جواں ہوجاتے ہیں۔
یہ امید اس کے قلب میں الا بذکر اللہ تطمئن القلوب کی گواہی بن جاتی ہے ۔
ایسی گواہی جو بلکل سچی ہے اس میں کبھی کوئ کھوٹ یا کوئ فریب ہونا ممکن ہی نہیں ہے لہذا اپنی زندگی میں جہد مسلسل کے مفہوم کو سمجھ کر اسی کو بطور اصول اپنا لیجیے پھر آپ پر رب کی رحمت سایہ فگن ہوگی اور آپ کے دل کی دنیا اس کی یاد سے جگمگا اٹھے گی نتیجتاً مقصد حیات سے عشق آپ کے قدموں کو کبھی تھکنے نہ دے گا ۔ان شا ء اللّہ
اپنی فکر اپنے رب کو بنا لیجیے
پھر ساری فکریں ،اندیشے اور خدشات کب کیسے کس طرح دور کرنے ہیں وہ بہترین جانتا ہے کیونکہ وہ الخبیر بھی ہے اور البصیر بھی ۔۔۔اس دعویٰ محبت کی دلیل اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ خود کہتا ہے
کیا وہی نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا ہے (سورہ الملک )یقین کی راہ پر چل کر تو دیکھیے منزلیں خود منتظر نظر آتی محسوس ہوں گی ۔ان شا ء اللّہ!




































