
لبنی اسد
دنیا کے مختلف حصوں میں ناانصافی اورظلم کا سامنا کرنےوالے عوام کے لیے دنیا بھرمیں مختلف قوموں کی طرف سے یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس
سلسلے میں غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں برسوں سے فلسطینی عوام ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
غزہ، جو فلسطین کا ایک اہم حصہ ہے، طویل عرصے سے اسرائیلی قبضےاورمسلسل جارحیت کا شکار ہے۔ وہاں کے لوگوں کو بمباری،معاشی ناکہ بندی، اور انسانی بحران کا سامنا ہے، جہاں نہ تو صحت کی مناسب سہولیات ہیں اور نہ ہی بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے وسائل۔ بچوں، بوڑھوں، خواتین اور نوجوانوں سب کو اس ظلم کا سامنا ہے اور وہ ایک غیر محفوظ ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
دنیا کے تمام انسانوں کی ذمہ داری ہےکہ وہ غزہ کےلوگوں کےساتھ یکجہتی کا اظہارکریں۔اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے تمام فورمز پر آواز اٹھائیں، مظلوموں کی حمایت کریں، اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔ عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں، اس معاملے پر سنجیدگی سےغور کریں اوراس ظلم کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
جبکہ میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرتےہوئے سچائی کو عوام کےسامنے لانا چاہیے۔اکثراوقات غزہ میں ہونے والے ظلم و ستم کو صحیح طریقے سے نمایاں نہیں کیا جاتا اور عالمی سطح پر اس پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کا یہ حق دار ہے۔ ہمیں آزاد اور غیر جانبدار صحافت کی ضرورت ہے جو دنیا کو غزہ میں ہو نے والے ظلم کے حقیقی حقائق سے آگاہ کرے۔ قرآن مجید میں بھی مظلوموں کی مدد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے یہ ایک اہم مذہبی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ظلم دیکھیں، اس کے خلاف کھڑے ہوں اور مظلوموں کی مدد کریں۔
یکجہتی کا اظہارعملی طریقوں سے کریں
سوشل میڈیا پر آواز اٹھانا: آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ غزہ کے ٓمظلوم عوام کی حمایت میں آواز اٹھانا، حقائق اور معلومات کو پھیلانا، اور عالمی سطح پر عوام کو متحرک کرنا اس سلسلے میں ایک مؤثر قدم ہو سکتا ہے۔
احتجاج اور جلسے
مختلف ممالک میں عوامی احتجاج اورجلسے غزہ کے حق میں منظم کیے جاسکتے ہیں تاکہ عالمی سطح پر یہ پیغام جائے کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔
فنڈریزنگ اور امداد
غزہ کے عوام کے لیے مالی امداد جمع کرنا اور انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وسائل فراہم کرنا بھی یکجہتی کا ایک عملی اظہار ہے۔ غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی صرف ایک انسانی فریضہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے ضمیر اور اخلاقیات کا امتحان بھی ہے۔ جب تک دنیا ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑی نہیں ہوگی، تب تک ایسے بحرانوں کا خاتمہ ممکن نہیں اور کہیں ایسا نہ ہو پوری مسلم دنیا اس لپیٹ میں آجائے۔جبکہ ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم غزہ کے عوام کے حق میں آواز اٹھائیں اور عالمی سطح پر انصاف کا مطالبہ کریں




































