
ضیاءالرحمن غیور
اس نے مسجد میں فجر کی نمازپڑھی اورقران پاک لے کرمولوی صاحب کے سامنے جا بیٹھا ۔ خوب لہک لہک کرقران پاک پڑھنے لگا ۔مولوی صاحب اس ذہین
بچے سے بہت خوش تھے ۔قران پاک سے تو اسےعشق تھا ۔مولوی صاحب نے جب اس کی پیٹ تھپتھپائی تویہ اشارہ تھا ۔ تمہارا سبق پورا ہوگیا ۔وہ قرآن پاک گھر سے لاتا تھا اورقران پاک جزدان میں اس کے گلے میںلٹکا رہتا تھا ۔ بادسحر کی جادوئی تاثیر اورراستےمیں لگے ہوئےسرسوں کی فصل عجیب بہار دے رہی تھی۔ اس نے کچھ پھول توڑے اورانہیں سونگھتا ہوا اچھلتا کودتا گھر پہنچ گیا ۔
ناشتہ کرکے وہ قریب ہی فوجی بیرکیں تھیں وہاں روزانہ جاکر فوجیوں کو پریڈ کرتے دیکھتا،یہ طریقہ کافی عرصہ تک چلتا رہا ۔ ایک دن ایک فوجی آفیسر اس کے پاس آیا اور اس سے محبت سے اس کے بارے میں حال احوال پوچھنے لگا ۔ چلتے ہوئے اس نے پوچھا تم فوج میں بھرتی ہوگے ۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ فضا ءمیں پرواز کررہا ہو۔اس نے اپنی قدرتی خوشی کو چھپایا نہیں لیکن اس نے کہا میں اپنے ماں باپ سے اجازت لے لوں ۔یہ لڑکا لمبا دھاتی فضا میںپلا بڑھا ، چوڑا سینہ ۔ماں ذرا ہچکچائی اور بچے کو سینے سے لگالیا۔ دوآنسواس کی آنکھ سے ٹپکے بیٹا تیرے بغیر میری زندگی کیسے گزرے گی ۔
بیٹا لپک کر اس سے چمٹ گیا ۔ ماں نے اس کی یہ والہانہ رویہ دیکھا تو اس نےاسے تھوڑا اپنے سینے سے ہٹایا اور اس کی پیشانی پر پیار کرلیا۔جا میرے بیٹے جا میں تجھے اجازت دیتی ہوں ۔باپ نے بیٹے کا سامان بیگ میں رکھا ۔ ضروری کاغذات رکھے اور فوج کے دفتر پہنچ گیا ۔ ایک آفیسر آگے بڑھا جس نے لڑکے سے فوج میں بھرتی کا پوچھا تھا ۔اس نے ایک سپاہی کو اشارہ کیا اورلڑکےاوراس کے کاغذات اس کے حوالے کرکے بھرتی کے لیے بھیج دیا ۔اس نے لڑکے کے والد کو بتلایا کہ دشمن ہم سے دشمنی پرتلاہے اورحملہ کرنا چاہتا ہے۔ موت زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اسلام اور ہمارا پیار وطن پاکستان جو ہمیں اسلام کے نفاذ کے لیے ملا ہے ۔ اسےایسے وقت میں اپنے جوانوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔
آپ کا بیٹا آج ہی روانہ ہوجائے گا ۔نام کا اندارج ہونے لگاتو اس سے اندراج کرنے والے نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے تو اس نے کہا پری شان توکلرک نے کہا تم ہو بھی بہت خوب صورت ۔تمہاری ماں نے یہ نام رکھا ہے۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے۔پھر اسے اسی آفیسر کے پاس لیجایا گیا جس نے اسے بھرتی کروایا تھا ۔ اس نے پری شان کی پیٹ تھپتھپائی اورکہا کبھی کو ئی پریشانی ہو تو مجھے فون کرسکتے ہو ۔ اس وقت پری شان نے اپنی ایک خواہش کا اظہار کیا ۔ آفیسر نے شفقت سے کہا ہاں بولو بیٹا ۔ آپ اتنا ضرور کردیں ٹریننگ کے بعد مجھے اگلے مورچوں میں جانا ہے ۔پری شان اگلے مورچوں میں پہنچ چکا تھا ۔وہ ہرایک کی عزت کرتا تھا اورکام بھی کردیتا تھا۔ اس کے ساتھی اس سے بہت خوش تھے۔دشمن کے مورچے کئی تھے لیکن یہ سب دشمن کے اس مورچے سے بہت تنگ تھے جس سے ہر وقت ان کے مورچوں پر گولہ باری ہوتی رہتی تھی ۔بہت مضبوط مورچہ تھا ۔ ہر وقت یہاں لوگوں کا آنا جانا رہتا تھا ۔لگتا تھا یہ مورچہ کسی بڑی کارروائی کے لیے استعمال ہونے والا ہے ۔پری شان اپنے کمانڈر سے ایک خفیہ میٹنگ کے لیے وقت لے چکا تھا ۔
وہ میٹرک کے بعد اس نے فوج میں آکر انٹر پاس کیا ۔ ایک سیاہ تاریک سایہ کالی چادر میں لپٹا کمانڈر کے دروازے پر مخصوص دستک دے کر اندر داخل ہوا لیکن پہلے سے موجود دو اورلوگوں کو وہاں پاکر وہ ٹھٹھک گیا لیکن کمانڈر نے اس کی تسلی کروائی ۔ ایک آدمی آگے بڑھا اوراس نے ایک نقشہ پھیلادیا یہ زمینی نقشہ تھا ۔ اس نے ایک ایک چپے کے متعلق پری شان کو بتایا کہ کس طرح مورچے میں ایک خفیہ راستے سے داخل ہوا جاسکتا ہے اورکہاں خفیہ خطرات پوشیدہ ہیں ۔پری شان کو دوسرے شخص نے وہ مہلک ہتھیار دیئے جو اس نے پہلے نہیں دیکھے تھے لیکن وہ انہیں استعمال کرنے میں کوئی پریشانی محسوس کررہا تھا ۔
دشمن کے فوجی بہت برے لوگ تھے ۔ شراب دن رات پیتے تھے۔پری شان اپنے مورچےسے بہت آگے جاکر دشمن کی طرف جھاڑیوں میں اترا لیکن اس کی چھٹی حس کہ رہی تھی کو ئی دورسے جھاڑیوں میںچھپا ان کے مورچوں کی نگرانی کررہا ہے ۔وہ خاموشی سے اس کی پشت پر پہنچ کر اسے خاموش کرا کر اس کی وردی پہن چکا تھا ۔وہ زمین سے لگے مورچے کے خفیہ راستے تک پہنچ چکا تھا جس دشمن فوجی کو وہ باندھ کر چھوڑ آیا تھا ۔ اس نے اس کے حسن سلوک پر سب کچھ بتادیا تھا ۔
زبانوں کا شوق اس کے ہر جگہ کام آتا تھا ۔ وہ مورچے کے اندر اپنے آپ کوخفیہ رکھتے ہوئے پہنچا تو وہاں تیس آدمی شراب اورعیاشی میںڈوبے ملے۔ ان کا کام تمام کرکے اورمورچے میں بارود سجا کر باہر نکلا ۔مورچے کو تباہ تو کردیالیکن اندازے کی غلطی سے اس کا پاو¿ں بارودی سرنگ پر اوچھے طریقے سے پڑ گیا جس سے وہ اچھل کر قریب ہی ایک تیز بہتے نالے میں جاگرا اس کی ایک ٹانگ آدھی اڑچکی تھی ۔ تیز بہتے پانی میں وہ اپنے آپ کو سنبھالتا رہا اورپھر بے ہوش ہوگیا ۔ یہ نالہ بہتے ہوئے پاکستان میںداخل ہوتا تھا ۔ اطلاع ملنے پر فوج کے لوگ اسے اس کے گھر لے آئے اس کی آخری سانسیں تھیں ۔اس نے ماں کو دیکھا تو زور لگا کر آگے کھسکا اورماں کے قدموں پر اپنے ہونٹ ثبت کرکے شہادت کے رتبے پر سرفراز ہوگیا ۔




















