
ماہ نور فاطمہ
کراچی پاکستان کا سب سےبڑااورمعاشی لحاظ سےسب سے اہم شہر ہے۔ کئی دہائیوں کی ناقص منصوبہ بندی، کرپشن اوربدانتظامی کی وجہ سے تباہی کے
دہانے پر کھڑا ہے۔ ہر سال مون سون کےموسم میں یہ شہر کسی آفت زدہ علاقے کا منظر پیش کرتا ہے— سڑکیں زیرِ آب، نکاسی کا نظام ناکام اور بجلی کی بندش روزمرہ زندگی کو مفلوج کردیتی ہے۔ کئی علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور سفر خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور مین ہول کھلے ہوتے ہیں۔
اس بحران کی جڑیں گہرے مسائل میں چھپی ہیں۔ مختلف ادارے ذمہ داریوں پر لڑتےہیں،وعدے ہوتےہیں مگرعملی اقدامات کم ہوتے ہیں۔ غیر منصوبہ بند آبادی میں اضافہ، غیر قانونی تعمیرات اور قبضے صورتحال کو مزید بگاڑ رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ ناقابلِ واپسی نہیں۔
کراچی کو بچایا جا سکتا ہے — مگر اس کے لیے سنجیدہ اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔جدید نکاسی آب کا نظام، قابلِ بھروسہ پبلک ٹرانسپورٹ اور بہتر سڑکیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ شفاف نگرانی کے تحت اعلیٰ معیار کے منصوبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
شہریوں کا کردار بھی مرکزی ہے۔ کراچی کے عوام کو مسائل کی نشاندہی، حکام سے جواب دہی اور اصلاحات کی حمایت میں فعال ہونا ہوگا۔ ایمرجنسی کی تیاری بھی ضروری ہے تاکہ کسی نئی آفت کے وقت شہر تیار ہو۔ کراچی صرف ایک شہر نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے،مزید تاخیر سنگین قومی بحران میں بدل سکتی ہے۔ اب عمل کا وقت ہے، وعدوں کا نہیں۔




































