
اقراء حسن/ کراچی
اگرچہ انسٹاگرام نے"ٹین اکاؤنٹس" کے ذریعےنوعمروں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہےلیکن یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ ستمبر 2024 میں
متعارف کی گئی اس سہولت کامقصد بچوں کوخطرناک مواداوراجنبی افراد سےمحفوظ رکھنا تھا مگرماہرین نےاس میں کئی خامیاں دریافت کی ہیں۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ جعلی تاریخِ پیدائش کےذریعے حفاظتی نظام کو آسانی سےدھوکہ دیا جا سکتا ہے جس کے بعد بچوں کوغیرموزوں مواد، نفرت انگیز تبصرے اور بالغوں کے اکاؤنٹس کی تجاویز ملتی ہیں۔ پی جی " درجہ کےمواد میں بھی ایسے بالغ موضوعات شامل ہوتے ہیں جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرتے ہیں۔
نفرت انگیز تبصرے بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتےہیں جبکہ بالغوں کے اکاؤنٹس کی تجاویز نوجوانوں کوخطرناک رویوں کی طرف مائل کر سکتی ہیں۔ انسٹاگرام کا موجودہ حفاظتی نظام صارف کی ایمانداری پر انحصار کرتا ہے جو مؤثر نہیں ۔
ماہرین عمر کی سخت تصدیق، طاقتور مواد فلٹرنگ،بیرونی آڈٹ اورسرکاری ضابطوں کا مطالبہ کررہےہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کے ساتھ آن لائن سیکیورٹی پر بات کریں اور نگرانی کے ٹولز استعمال کریں۔انسٹاگرام کی حالیہ کوششیں ایک آغاز ضرور ہیں مگر بچوں کو حقیقی تحفظ دینے کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔




































