
محمد حبیب الرحمن
پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے،خواہ وہ موبائل فون ہو یا کمپیوٹر،آن لائن بینکنگ ہویاسوشل میڈیا اوردور دراز تعلیم نے
ہماری زندگی آسان کی ہےمگراسی کےساتھ سائبر خطرات بھی بڑھ گئے ہیں، اگر ہم بروقت احتیاط نہ کریں تو ذاتی ڈیٹا اورمالی معلومات چوری ہونے کا خدشہ ہے۔
آج کل کےعام سائبر حملوں میں فشنگ ای میلز اور ایس ایم ایس سب سے زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں جن میں صارف کو جعلی لنک پر کلک کرنے یا اپنے اکاؤنٹ کی تفصیلات دینے کا کہا جاتا ہے۔ رینسم ویئر بھی تیزی سےبڑھ رہا ہےجہاں کمپیوٹر یا موبائل لاک کر کے تاوان کی ڈیمانڈ کی جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل انجینئرنگ کے ذریعے بھی لوگوں کو دھوکا دے کرخفیہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
اپنی بنیادی حفاظت کے لیےچند آسان اقدامات انتہائی مؤثر ہیں۔مضبوط اورمنفرد پاس ورڈزاستعمال کریں۔ہراکاؤنٹ کےلیےالگ پاس ورڈ رکھیں اورجہاں ممکن ہو دو مرحلوں والی تصدیق (ٹو فیکٹر آتھینٹیکیشن) آن کریں۔ اپنے سافٹ ویئر اور اینٹی وائرس کو ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رکھیں تاکہ جدید خطرات سے نمٹا جا سکے۔ کسی بھی مشکوک لنک یا ای میل اٹیچمنٹ پرکلک کرنےسےپہلےخوب جانچ پڑتال کریں۔
گھریلو اور ذاتی سطح پر محفوظ وائی فائی نیٹ ورک قائم کریں اور دوسروں کے وائی فائی پوائنٹس پر حساس ٹرانزیکشنز سے گریز کریں۔ بچوں کو آن لائن خطرات سے آگاہ کریں اور ان کے لیے والدین کے کنٹرول کے ٹولز سیٹ کریں تاکہ غیر موزوں مواد یا نامعلوم افراد سے رابطہ کم سے کم ہو۔
حکومتِ پاکستان نے نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی مرتب کی ہےاورپاکستان ٹیم برائےجوابی سائبرحملوں کے ذریعے شہریوں کو مشورے فراہم کیے جا رہےہیں۔ نجی اداروں کو بھی چاہیےکہ اپنےسسٹمز کی دراڑیں معلوم کرنے کے لیے ریگولر آڈیٹنگ اور پینیٹریشن ٹیسٹنگ کروائیں۔
اگرہم سب ڈیجیٹل ہائجین کاخیال رکھیں اورحفاظتی اقدامات پر عمل کریں تو سائبر دنیا میں محفوظ رہ سکتے ہیں۔ آج ہی اپنی آن لائن عادات کا جائزہ لیں اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر بڑے نقصان سے بچیں۔




































