
اسری شعیب
مزدوری دین اسلام میں ایک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ اسےحقارت سے کبھی نہیں دیکھا گیا بلکہ پیغمبروں اور صحابیوں نے بھی وہ کام کئےجو مزدوری کے
زمرے میں آتے ہیں ۔ جیسے بکریاں چرانا ،کسی کے باغ میں اجرتا ًکام کرنا وغیرہ ۔اسلام میں مزدوروں کی مزدوری ان کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "مزدور کو اس کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو"(ابن ماجہ)
یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کمزورطبقہ کی ضرورت کوکسی صورت ٹالنےکی کوشش نہیں کرنی چاہیےاوراگرکسی نےایسا کیا تو اس پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح احادیث مبارکہ موجود ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن خود اس کے مدعی بنیں گے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا وہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں چمکتےموتی کی طرح ہےاوراس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہےکہ جس میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ سے بیت المقدس کے لیے روانہ ہوئے جس میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام ساتھ تھے اور باری باری اونٹ پر سواری لیتے جاتے تھے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ بیت المقدس میں داخل ہوتے ہیں اور اس وقت وہ خود اونٹ کی مہار تھامے ہوئے تھے ۔غلام اونٹ پر موجود تھے ،اس واقعے نے عیسائی پادریوں اور روم کے جرنیلوں کے دلوں میں مسلمانوں کے عدل وسادگی اور تقوی ٰکی گہری چھاپ چھوڑی۔




































