
ام یحییٰ
سیٹھ صاحب کی چمچماتی گاڑی کو دیکھ کرمزدوروں کی آنکھیں بھی چمچما اُٹھیں ۔اکبرکےکانوں میں گڑیا کی آواز بار بار گونج رہی تھی۔ ابا اس بار عید پر
لال فراک لاؤگے،ا کل عید ہے،اُسےجلدازجلد اپنی تنخواہ لےکر بازار جانا تھا۔
تنخواہ ہاتھ میں آتے ہی اکبر کے پاؤں گویا سیٹھ کی گاڑی کے پہیے بن گئے۔ بھیڑ میں پھنستا پھنساتا دکان پہنچ کر گڑیا کی فراک نکلوائی، جیب سے پیسے نکالنے کیلئے جیسے ہی ہاتھ ڈالا تو ہاتھ سوراخ سے باہر نکل آیا ۔۔اکبر بد حواسی کے عالم میں کبھی فراک کو دیکھتا اور کبھی اپنے خالی ہاتھ ۔اکبر کے کانوں میں گڑیا کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔ابا میری لال فراک۔




































