
عائشہ بی
فلسطین کے مسلمانوں پراسرائیلی دہشت گردوں نے ظلم و ستم کا پہاڑ توڑ رکھا ہے۔وہاں اس قدرظلم کیا گیا ہے کہ غزہ کولاشوں کا شہربنا دیا گیا ہے۔
مسلمانوں کو جان و مال سے محروم کرنےکےساتھ ہرقسم کےتکلیف میں مبتلا کر دیاگیا ہے۔.
معصوم بچوں کے لاشوں، تڑپتے ہوئے زخمیوں کے چیخ و پکار، بھوک اور پیاس سے تلملاتے ننھے ننھے معصوم بچوں کی پکار، ملبے تلے دم توڑتے ہوئے بچوں کی تڑپ، زخمیوں کے بہتے ہوئے خون کی ندیاں ساری دنیا خاموشی سے دیکھ رہی ہے ۔ اسی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 26 اپریل کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ایسے موقع پر تمام مسلمانوں کو ایک ہو کر ہمارے مظلوم مسلمان بھائیوں کے لیے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ہم وہاں جا کر ان کی کچھ مدد نہیں کر سکتے۔ اس لیے ان سے یکجہتی کے اظہار کے لیے تمام مسلمانوں کو اٹھنا ہوگا۔ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں پر کب تک ظلم ہوتے ہوئے دیکھ سکتا ہے؟
اس ہڑتال کے ذریعے میڈیا کی بدولت ہم ساری دنیا تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ ہڑتال کرنے سےکسی کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔۔۔ جلاؤ گھیراؤ وغیرہ نہیں ہوگا بلکہ یہ پرامن احتجاج ہوگا۔
میری تمام تاجر برادری اور دکانداروں سے درخواست ہے کہ وہ 26 اپریل کو اپنا کاروبار اور دکانیں فلسطین کے حق میں بند کر کے اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔ اللہ سے دعا گو ہیں ہمارا پرامن احتجاج پر دنیا کے پالیسی ساز اداروں کو اہل فلسطین کے حق میں بیدار کر دے اور ہم اللہ رب العالمین سے راضی ہو ۔ آمین یا رب العالمین




































