
ضیاء الرحمن غیور
سخت دھوپ تھی ۔دھول سےاٹا ہوا چہرہ لئے۔وہ ہوٹل میں داخل ہوا۔قریبی بچھےہوئےتخت پربیٹھ کراس نےجگ سے گلاس میں پانی ڈالا اور غٹاغٹ
ایک ہی سانس میں پورا گلاس پانی پی لیا۔ اس طرح اس نے تین گلاس پانی پئے ۔اس نے مسکراکر بیرے کی طرف دیکھا بیرا بھی مسکرایا ۔ یہ اس کا دوپہر کھانا تھا ۔ہوٹل والا اسے پہچانتا تھا ۔ وہ روزانہ پانی پینے آتا تھا ۔وہ جاکر قریبی پارک میں ایک گھنے درخت کی گھنی چھاؤں میں ایک بنچ پر بیٹھ گیا ۔ابھی وہ اچھی طرح بیٹھا بھی نہیں ۔ اس کا دوست شکیل اس کے قریب آکر بیٹھ گیا ۔ ان دونوں کی بڑی گہری دوستی تھی ۔ یہ دونوں رات گئے یہاں بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے تھے ۔ شام تک آنے والوں سے یہ پارک بھر جاتا تھا ۔ اس میں مرد عورتیں بچے نوجوان سب ہوتے تھے ۔ اس بھیڑ بھکڑ میں وہ کسی کا سامان اٹھوادیتے تھے ۔کسی کی کوئی چیز خرید کر لا دیتے تھے ۔
ان کی خدمت کی قدر کرنے والے بصد اصرار ان کو اپنے ساتھ کھانا کھلا لیتے تھے۔کوئی نقد پیسےدے دیتا تھا جس سے دونوں دوست کھانا کھا لیتے تھے ۔ جب کبھی کچھ نہیں ملتا تو باورچی خانے میں خالی برتن دیکھ کر خاموشی سے سو جاتے تھے ۔ وہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا مگر سب سے زیادہ اسے نظر انداز کیا جاتا تھا مگر یہ اس کی فطرت تھی وہ کتنے مشکل حالات سے گزر رہا ہوتا تھا۔ شکایت زبان پر نہیں لاتا تھا ۔ وہ بہت کم گو تھا ۔ یہ اس کی تنہائی کا احساس تھا یا اس کا تجسس ۔ اسے گھر میں بند رہنا اچھا نہیں لگتا تھا ۔ وہ ایک متوسط گھرانے کا بچہ تھا ۔اس کے دماغ میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی تھی کہ اگر تم نے تعلیم حاصل نہیں کی تو ، تمہاری زندگی میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے ۔ بظاہر وہ آوارہ گردی کرتا نظر آتا تھا لیکن پڑھنے کے لئے اس کے پاس کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہوتی تھی ۔ وہ نویں جماعت میں گیا تو بڑے بھائی نے اسے سائنس دلوادی جبکہ وہ آرٹس سے دلچسپی رکھتا تھا ۔جب وہ فیل ہوا تو اس نے آرٹس پڑھنا شروع کردی ۔اس نے میٹرک میں بہت اچھے نمبر لئے ۔ اس کامیابی سے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔
اس نے پہلی دفعہ گھروالوں کو اپنی تعریف کرتے سنا ۔ اس نے آگے بڑھنے کے جو بھی کام کئے ۔ اپنی کاوشوں سے کئے ۔ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے ۔ ایک وکیل کے پاس نوکری کی ۔ کتابوں کی دکان پر کام کیا ۔ اس طرح وہ آگے بڑھتا رہا ۔ بچوں کے رسالے پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔ پڑھتے پڑھتے آٹھویں جماعت میں اپنی پہلی کہانی اخبار کو لکھ کر بھیجی جو فورا چھپ گئی ۔ بس پھر کیا تھا اسے اپنی پہچان مل گئی۔ وہ اس کامیابی پر بہت خوش تھا ۔اس نے مسلسل لکھ کر اور چھپ کر کہانی نویس کی پہچان بنا لی۔ تو اپنےعلاقے کے ایک اخبار میں ملازم ہوگیا ۔اب اسے باقاعدہ تنخواہ ملنے لگی ۔ باہر کے لوگ ہی نہیں ۔گھر والے بھی اس کی صلاحیتوں کے معترف ہوچکے تھے جس نے اس کی بڑی ہمت بندھائی، اسے اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے ۔اس شہر جانا تھا جس کی باتیں کوہ قاف کی پریوں کی طرح دلچسپ تھیں ۔ اس نے سنا تھا سخت محنت کرنے والوں کی یہاں قسمتیں بدل جاتی ہیں ۔ایک نئے سفر پر روانہ ہوتے ہوئے ماں نے تین سو روپے دیے ۔باقی پیسوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے۔اس نے اپنی وہ سائیکل بیچ دی جو اس نے بہت شوق سے خریدی تھی ۔ یہاں مختلف عزیزو رشتہ داروں کے پاس کم سےکم رہا کہ کہیں کسی کو میری ذات سے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے ۔مشکل دنوں میں وہ کبھی کرائے کے کمروں میں رہا ۔ جس میں کئی لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں ۔ کبھی سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے رات گزاری ۔کبھی بارش کے پانی سے بھرے ہوئے کمرے میں ایک کونے میں کھڑے بےبسی سے اپنی مجبوری دیکھتا رہا ۔ کبھی ایسا بھی ہوا ۔ رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی ۔فٹ پاتھ پر بیٹھ کر یا صبح تک ٹہل ٹہل کر رات گزار دی ۔یہ آگے بڑھنے کا سفر کھسکتا رہا مگر ہمت نہیں ہاری ۔ دانشور کا قول ہے ۔گرمی ، سردی ، حادثات کا مقابلہ اس طرح کرو جیسے جانور کرتے ہیں ۔ منجھے ہوئے صحافیوں کے درمیان راستے بنانا کوئی آسان کام نہیں۔ تمام راستے بند ہوجائیں تو اللہ راستے کھولتا ہے ۔ کسی نے مدد سے صاف معذوری ظاہر کردی ۔کسی نے بات کرنا گوارا نہ کیا ۔ کسی نے جھوٹی تسلی دی۔ کسے نے مدد سے صاف معذوری ظاہر کردی ۔ جتنی مشکلات بڑھیں ۔ اتنا عزم راسخ ہوتا رہا ۔ اس نے ایک اخبار میں میں کام شروع کیا ۔طویل عرصہ اور انتھک محنت کے بعد وہ لوگوں کی زبانی سنتا تھا ۔اس کاشمار شہر کے معتبر صحافیوں میں ہونے لگا تھا ۔ اب اس کا اپنا ایک خوبصورت مکان ہے ۔ایک راز کی بات بتلاؤں اب وہ بچہ نہیں رہا ۔ وہ کیسے بچہ رہ سکتا ہے ۔ کہانی تو کہانی ہوتی ہے،اب وہ خود بچوں والاہے ۔




































