
اسر'ی شعیب
"امی میرے اعصاب شل ہو گئے اور ہمت جواب دینے لگی ہے بہت ہو گیا۔ مجھ سے سوشل میڈیا ایپس کو کھولا نہیں جاتا دل چاہتا ہے ہر ایک چیز سے کنارہ
کش ہو جاؤں مجھے نہیں دیکھنا یہ سب زارا آخر کیوں یہ سب مجھ کو بھیجتی ہے ،ایسی تصویر یں ایسی ویڈیوز آ خرکیوں؟"
فاطمہ آج انتہائی دلبرداشتہ ہو کر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر رو پڑی۔
فاطمہ کی امی ابو ایک دینی اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اورانہوں نےاپنےبچوں کی تربیت بہترین طریقےسےکی تھی دین کو سمجھنے میں بہترین طریقے سے ان کی مدد کی تھی ان کی ذمہ داریوں کو فرائض اور حقوق کو بہترین طریقے سے سمجھایا تھا ۔
زارا اور فاطمہ کو یونیورسٹی میں دوست بنے ابھی کچھ ہی مہینے ہوئے تھے ایک ساتھ پڑھتے ہوئے دونوں کے مزاج کی ہم آہنگی نے انہیں ایک دوسرے کا بہترین دوست بنا دیا تھا ،اب وہ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے ۔زاراکی زندگی ان لوگوں کے بیچ گزری جس میں نہ صرف دینداری اہم تھی بلکہ عملی طور پر کچھ کرنے کا عزم بھی تھا لہذا جب سات اکتوبر طوفان الاقصیٰ کا واقعہ ہوا تو زارا نے بھرپور طریقے سے مجاہدین کو سپورٹ کرنے کا کام شروع کیا ۔اب بھلا زارا کے بس میں کیا تھا۔ زاراکے بس میں اس کا دل تھا، اس کا دماغ ،اس کی زبان، اس کے ہاتھ، اس کا قلم اس کا موبائل۔اس نے سوچا کیا یہ سب کافی نہیں کسی کی حمایت کے لئے ۔اس نے اپنا جہاد شروع کیا دنیا میں ج ہ اد شروع ہو چکا تو کیا اس نے ج ہ اد میں اپنا حصہ نہیں ڈالنا تھا ،اس نے ٹھان لیا کہ میں بھلے فرنٹ لائن ج ہ اد کا حصہ نہیں مگر میں م ج اہ دی ن کی صفوں کا آخری حصہ بن کر لڑوں گی مگر بیٹھنے والوں میں جگہ نہیں لوں گی ،بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا تو ویسا ہی معلومات سے بھرا پڑا تھا، اب صرف اس کو اپنا ٹارگٹ سیٹ کرنا تھا اور کام کرنا تھا تو اس نے اپنا کام شروع کیا ۔ اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے انسٹاگرام پر، واٹس ایپ کی سٹیٹس پر،اس نےغزہ کی حمایت میں پوسٹس اپلوڈ کرنا شروع کی۔ غزہ کے لوگوں کے لیے فنڈز اکھٹا کیا۔ اپنے رشتہ داروں ، اپنے جاننے والوں اور دوستوں کو سمجھانا شروع کیا کہ اسرائیلی چیزوں کا بائیکاٹ کس طرح کارآمدثابت ہو سکتا ہے۔ پھر احتجاج شروع ہوا تو زارا نے فرض عین جانتے ہوئے اس میں اپنی شرکت کو یقینی بنایا ،نہ صرف خود ان تمام امور کو سرانجام دیا بلکہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک بھی غزہ کی بات پہنچائی اور سمجھائی اور فاطمہ چونکہ زارا کی بیسٹ فرینڈ بن چکی تھی۔ لہٰذا زارا کا کیا جانے والا کام فاطمہ کو معلوم تھا زارا نے اپنے سوشل میڈیا سے جو تشہیر کا کام شروع کیا تو ان تمام ویڈیوز کو فاطمہ تک پہنچنا ہی تھا ۔
فاطمہ جیسے ہی اپنی بات کہہ کر اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر روئی تو ان کی امی بھی اپنےآنسوؤں کو روک نہ پائی۔ بہت دن سے سب ایک دوسرے سے نظریں چراچرا کر رو رہے تھے لیکن آج کا موقع کچھ الگ تھا آج دونوں ماں بیٹی خوب ایک دوسرے کو گلے لگا کر روئے۔
ہر تصویر ان کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی تباہ شدہ عمارتیں ،اسرائیلی سفاکیت، بموں کی گرج، بچوں کے سکول پر بمباری کے مناظر، میڈیا ورکرز کی شہادت کی تصویریں ،بھوک پیاس سے بلکتے بچے، ہسپتالوں کے باہر دم توڑتے مریض ،پانی کی قلت، دواؤں کی قلت، انستھیسیا کے بغیر سرجری کے مناظر ۔کیا کچھ نہیں تھا جو انہیں یاد نہ آیا اور اب تو ایسی ویڈیوز اور تصویر آ چکی ہیں بیان کرنے کے لیے لوہے کا جگرچاہیے۔
فاطمہ کی امی کافی دیر تک اس کے ساتھ بیٹھی رہیں۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی رہیں۔ آخر وہ ایک زیرک خاتون تھیں۔ پھر فاطمہ سے مخاطب ہوکرکہنے لگی کہ" بیٹا زارا نے کچھ غلط نہیں کیا اس نے وہی کیا جو اس کا فرض اس سے کہتا رہا۔ ہم اگر اپنی آنکھیں بند کر لیں گے تو کیا وہاں پر یہ سب کچھ ہونا بند ہو جائے گا زارا کا وجود ایک چراغ کی مانند ہے اس سے اگاہی اور شعور کی روشنی نکل رہی ہے اور روشنی تم تک پہنچ چکی ہےاب تمہارا فرض بنتا ہے کہ وہ روشنی لے کر تم چراغ بنو اور اپنے ارد گرد اس روشنی کو پھیلاؤ، اس طرح چراغ سے چراغ جلیں گے تو یہ شعور ہماری قوم کو بیدار کرنے میں مدد کرے گا ۔پھر اس سے ہمیں کئی فائدے ہوں گے ہم اگاہی سے ایک قوت بنیں گے بائیکاٹ سے دشمن کو کمزور کریں گے۔ فنڈ کے ذریعے مظلومین کی مدد کریں گے اور اپنے احتجاج کے ذریعے دشمن کے ایجنٹوں کو بے نقاب کریں گے اور ان پر دباؤ بڑھائیں گے۔ پھر ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ آخری کام دعا کریں گے۔اپنے رب سے استغفار اور مدد کے درخواست کریں گے۔دعا مومن کا ہتھیار ہے لیکن اس ہتھیار کو استعمال کرنے کا بہترین وقت وہ جب ہم ہر طرح سے باطل کے خلاف اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا چکے ہوں گے ۔لہذا میری بچی غم نہ کرو۔ کھڑے ہو جاؤ کہ یہ وقت کھڑے ہونے کا ہے۔ چاہے بدن میں قوت نہ ہو۔ انکھوں میں مناظر کو دیکھنے کی سکت نہ ہو۔"
دونوں ماں بیٹی کی سسکیاں اتنی تھی کہ صاف سنی جا سکتی تھی ایک لمحہ توقف کے بعد فاطمہ کی امی پھراپنے انسوؤں کو صاف کرتے ہوئے بولیں " بے شک ہمارے اعصاب شل ہو چکے ہیں ،ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن یہ تکلیف کچھ نہیں جو اہل غزہ اٹھا رہے ہیں تم محسوس کرو گی کہ تمہیں خود اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی تکلیف کتنی بڑی ہے اور پھر تمہیں اپنا انجام کن کے ساتھ چاہیے غزہ کےمجاہدین کے ساتھ نہ؟ اسرائیل کے خلاف نہ؟" فاطمہ نے سر ہلایا اور کہا "جی امی میں تو ہمیشہ سے غزہ کی حمایت میں ہوں۔ "
فاطمہ کی امی" تو پھر جس طرح وہ تکلیفیں اٹھا رہے ہیں جب تک ان تکلیفوں کو تم محسوس نہیں کرو گی انکھیں بند کر لو گی اپنی دنیا میں مگن ہو جاؤ گی تو سوچو کہ آخرت میں تم ان کے پیچھے کھڑی ہو پاؤ گی ۔حق کےراستے میں چلنےکی سعادت حاصل کر پاؤ گی۔
فاطمہ آ نسو پوچھتے ہوئے بولی" میں اب سمجھ گئی ہوں امی کہ ساتھ دینا کسے کہتے ہیں ؟ صرف اپنی تکلیف کو کم کرنے کے لیے مجھے انکھیں نہیں بند کرنی ہیں۔مجھے اس تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ہی ان کی مدد کرنی ہے جس طرح مدد کرنا میرے اختیار میں یے۔بائیکاٹ ،غزہ کے بیانیہ کی تشہیر، فنڈنگ، احتجاج اور دعا فاطمہ کی امی" بالکل میرا بچہ اب فاطمہ خود کو بہت مطمئن محسوس کرنے لگی ہے اور اسے معلوم ہو چکا تھا کہ اس کے کرنے کا کام کیا ہے۔




































