
فاریہ شروانی
انسانیت کو ایک ایسی شدید آفت کا سامنا ہے جو طاعون کے بعد سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس وقت2025 میں سب سے بڑا خطرہ جس کا
ہمیں سامنا ہے، وہ ہے عالمی حدت( گلوبل وارمنگ ) اگرچہ کچھ لوگ اب بھی اس کےوجود پر سوال اٹھاتے ہیں لیکن سائنسدانوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ یہ عمل شروع ہو چکا ہے اور تیزی سے بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی حدت دراصل ان زہریلی گیسوں کے اخراج کی وجہ سے ہوتی ہے جو سورج کی حرارت کوزمین کی فضا میں قید کردیتی ہیں، جس کےنتیجےمیں دنیا کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ یہ اضافی حرارت موسمیاتی تبدیلیوں، بارشوں اور طوفانوں میں شدت، اور زرعی پیداوار کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔فی الحال، دنیا کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے لیکن اگر یہی رفتار برقرار رہی تویہ مستقبل میں خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے، جس سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق چین میں گزشتہ سو برس کا سب سے سرد موسم ریکارڈ ہوا ہےاورامریکہ کےکچھ علاقوں میں بھی اسی قسم کی صورت حال سامنے آئی ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو اس خیال کی مخالفت کرتا ہے کہ زمین صرف گرم ہو رہی ہے۔قطب شمالی کی برف بھی سست رفتاری سے پگھل رہی ہے، اور اندازہ ہے کہ 2025 کے بعد برف کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ناسا کےڈیٹا میں سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سےتبدیلیاں کی جا رہی ہیں. چند ماہرین نےبھی اعتراف کیا ہےکہ موسمیاتی ۔
پانی کی بھاپ کو سب سے مؤثر گرین ہاؤس گیس مانا جاتا ہےجو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کہیں زیادہ گرمی کو جذب کرتی ہے،اگرچہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی اہم سمجھا جاتا ہےلیکن اس کے اثرات نسبتاً کم ہیں۔
عالمی حدت پر قابو پانے کےاقدامات
کاربن ڈائی آکسائیڈ اوردیگر آلودہ گیسوں کےاخراج میں کمی لائیں
درختوں کی کٹائی بند کریں اور شجرکاری کو فروغ دیں
قابل تجدید توانائی جیسے شمسی یا ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے ذرائع اپنائیں
گھروں اور دفاتر میں ماحول دوست توانائی کا استعمال کریں
روزمرہ کی زندگی میں ٹرپل آر اصول اپنائیں
ری سائیکل ،ریڈیوس ،ری یوز
اس سے توانائی کی بچت ہوگی
کم ایندھن جلے گا، کم آلودگی ہوگی
گرین ہاؤس ایفیکٹ میں کمی آئے گی
جیسےپرانے کاغذ کو دوبارہ استعمال کریں، درخت لگائیں وغیرہ
اگر عالمی رہنما عالمی حدت کو ایک سنجیدہ خطرہ سمجھ کر اس پر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو انسانیت کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
مصنفہ کے بارے میں ۔۔۔
بلاگر محترمہ فاریہ شروانی جامعہ کراچی میں ماس کمیونیکیشن کی سال دوم کی طالبہ ہیں۔




































