
ہاجرہ عبدالمجید
تو پیارے بچو! میں تمہاری ہی طرح کا ایک عام سا بچہ تھا۔عمر کوئی دس گیارہ سال اورحالت ایسی جیسے کوئی تھکا ہارا سپاہی جو ہر بار سائنس کی کتاب دیکھتے ہی سفید
جھنڈا لہرا دیتا ہو۔ مجھے لگتا تھا یہ کتابیں کسی خلائی مخلوق کے لیے لکھی گئی ہیں—کیمسٹری، فزکس، بائیولوجی، میتھ سب ایک ایسے خواب کی طرح جو سمجھ میں تو آتا ہے مگر یاد نہیں رہتا۔
جب امتحانات قریب آتےتو ہم جیسے"بس دعا سے ہی پاس ہونے والے"طلبہ کی پریشانیاں بڑھ جاتیں اورکمرے میں وہی کامل، عمیر، ولیداختر، نعمان چیمہ جیسے روشن دماغ لڑکے ہمیں بچانے کی کوشش کرتے۔ پرچے سے پہلے پڑھانے آتےاور پرچے کے دوران اشارے کرتے لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں اشارے بھی سمجھنے سے قاصر ہوتا! جیسے کوئی ریڈیو ہو جس پر چینل ہی نہ لگے۔
ایک دن میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا یا تو میں ہمیشہ "دماغ کی دہی" بنواتا رہوں گایا پھر "دماغ کی روشنی" تلاش کروں گا۔اسی تلاش میں، میں نے سائنس کو ایک نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا—کہانیوں کی نظر سے زندگی سے جوڑ کر۔
کیمسٹری: دادی اماں کی سائنس
میں نے سوچا: دادی اماں جب سالن بناتی ہیں تو وہ بھی توسائنس ہی ہے! چولہا،مصالحے،مقدار کا حساب اور وہ سنہری جملہ: "بیٹا، دھیان رکھنا، جل نہ جائے!"۔
یہی تو کیمسٹری ہے! بس فرق اتنا ہے کہ یہاں بنسن برنر ہوتا ہے، ٹیسٹ ٹیوب ہوتی ہےاور نمک مرچ کی جگہ ایسڈ اور بیس ہوتے ہیں۔ جیسے سالن میں کچھ چیزیں واپس اپنی اصل حالت میں نہیں آتیں (اب اُبلے انڈے کو دوبارہ کچا تو نہیں کر سکتے نا)، ویسے ہی کچھ کیمیائی عمل بھی ایک طرفہ ہوتے ہیں۔ تب مجھے لگا، ارے! یہ تو میں روز دیکھتا ہوں تو پھر ڈر کیسا؟
فزکس: زمین پر کیوں گرتے ہیں؟
نیوٹن کی کہانی سنی؟ درخت کے نیچے بیٹھےتھے۔ سیب گرااور وہ چونک گئے! "یہ نیچے کیوں گرا؟اوپرکیوں نہیں گیا؟" اوریوں کششِ ثقل کی تلاش شروع ہوئی۔مجھے فزکس تب سمجھ آئی جب میں نے محسوس کیا کہ اگر میں کرسی سے کودوں گا تو ہوا میں نہیں جاؤں گا، سیدھا زمین پر آؤں گا اور جب دیوار کو زور سے دھکا دوں گا تو وہ بھی مجھے دھکا دیتی ہے، چاہے وہ ہلے نہ! یہ ہے نیوٹن کا تیسرا قانون! واہ بھئی، کیا کمال کی سائنس ہے!۔
بائیولوجی:اندر کی دنیا
ایک دن پیٹ میں گڑگڑ ہوئی، اور میں نے سوچا،یہ ہو کیا رہا ہے؟ پھر زخم خود ہی بھر گیا،نیند خود ہی گئی۔ بائیولوجی نےان سب سوالوں کا جواب دیا۔جب میں نے جانا کہ ہمارا جسم ایک خودکار فیکٹری ہے، جس میں ہر چیز کی اپنی جگہ ہے، تو مجھے لگا: واہ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتنی خوبصورتی سے بنایا ہے۔ اور ہاں، دباؤ سے بخار آنا؟ یہ بھی بائیولوجی کا کرشمہ ہے!
میتھ: زندگی کا حساب کتاب
مجھے میتھ سے ڈر لگتا تھا، سچ! لیکن جب میں نےسوچا کہ اگرمیتھ نہ ہوتی تومیں جیب خرچ گن نہ پاتا، دکاندارمجھےچونا لگا دیتا اورامی ہرہفتے بھول جاتیں کہ پچاس روپے پہلے ہی دیے تھے—تب سمجھ آیا،یہ تو میری روزمرہ کی سپر پاور ہے!پھر میں نے میتھ کو کھیل کی طرح لینا شروع کیا—جیسے کرکٹ میں اسکور گننا، یا لوڈو میں چالوں کا حساب لگانا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ خوف ختم ہو گیا۔
آخری بات: تم بھی کر سکتے ہو۔
بچو! سائنس ایک راز ہے لیکن ایسا راز جو مزے دار بھی ہے اور زندگی بدل دینے والا بھی، اگر میں جو ایک زمانے میں سائنس سے ڈرتا تھا، آج اسے اپنا دوست بنا سکتا ہوں… تو تم کیوں نہیں؟
یاد رکھو: سائنس کو رٹا نہیں جاتا، سمجھا جاتا ہے اور جب تم کسی چیز کو کہانی، کھیل، یا تجربے کی صورت میں سمجھو گےتو تمہارے دماغ کی دہی نہیں بنے گی بلکہ وہ روشنی سے بھر جائے گا!اب تمہاری باری ہے—چلو، سائنس کو مزے کی دنیا میں بدل ڈالتے ہیں۔




































