
ریطہ
کتاب علم کا مرکز ہےجس میں تخیل کے رنگ ہوتے ہیں جو قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتےہیں ۔زمانہ قدیم میں اس کتاب کوتختیوں کی صورت استعمال کیا جاتا۔۔۔۔رفتہ رفتہ
لکھنے والوں نے اپنے خیالات کی دنیائیں اس کتاب میں قلم بند کرکے محفوظ کردیں ۔اکیسویں صدی کے اس دور میں انٹر نیٹ نے اس کتاب کے مقدس وجود پر شب خون مارا۔۔۔کتاب کہیں نہیں ہے ،اب وہ دور ہے جہاں ہر گلی ہر سڑک فوڈ کورٹ بن چکی ہے ۔
بازار میں دکانیں نت نئے برینڈز سےسجی ہیں مگر کتاب اپنے علم کی سلطنت لیے بے جان مردہ کسی دکان میں پڑی ہے۔۔گھروں میں کسی شیلف میں گرد سے اٹی یہ کتاب اپنا وجود لیے پڑی ہے ۔۔۔اکیسویں صدی میں کتاب کی مدھم ہوتی روشنی اب شاذو نادر ہی دل ودماغ کو روشن کرتی نظر آتی ہے۔
کتاب سے منسلک ایک دور کے لوگ وہ تھے جن کی عادت ،حرکات ،مزاج اورلہجےکےٹھہراؤبڑے میٹھے اورمطمئن ہوتے تھے۔۔خلوص سےجڑے رشتےایک دوسرے کی تکریم کرنا ایک دوسرے پر مرنا مٹنا جانتے تھے ۔ زیست کے سفر میں کتاب ہی سونا چاندی اور جائیداد کا قیمتی حصہ ہوتی تھی۔اکیسویں صدی کا انسان آج پچاس ہزار کا برینڈد جوڑا شوق سے خرید لے گا ۔ کتاب سستے داموں لینے کی کوشش کرے گا۔معیاری لباس پہن کر کتابوں سے دور رہنے والے ہم مہنگے لوگ اندر سے بہت سستے ہیں ،سچ یہی ہے۔ تئیس اپریل کتاب کا عالمی دن ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ کتب بینی کے ختم ہوتے رجحان کو زندہ کیا جائے ۔




































