
ضیاء الرحمن غیور
ایک ایسی فرضی کہانی جو وطن سے محبت کا انوکھا جذبہ پیدا کرتی ہے
وہ لڑکی اگرچہ دیہات میں پیدا ہوئی تھی لیکن اپنے چلبلے پن سے بہت ذہین نظر آتی تھی،بچی تھی لیکن ماں سے چپکی رہتی تھی یا اس کا چھوٹا ہاتھ ماں کے سینے پر رہتا تھا کہ دودھ
ملنے میں مشکل نہ ہو۔اس کی پیدائٗش کے بعداس کے والدنے اپنا چھوٹا کاروبار ایک بڑے شہر میں شروع کردیاتھا۔ بچیاں رحمت ہوتی ہیں ناں ماں باپ کے لیے۔جب وہ ذرا بڑی ہوئی تو ماں کو کسی چیز کو ڈھونڈنے میں مدد دیتی۔ چھوٹی ہونے کے باوجود بیڈ کے نیچے سے گم ہوئی چیز نکال لاتی،ہر چیز پر اس کی نظر ہوتی تھی۔جب ذرا بڑی ہوئی تو اسے اسکول میں داخل کروادیا گیا۔کلاس کی ہرلڑکی اس کی دوست تھی۔ اسکول میں ایک دن عجیب واقعہ ہوا۔ اس وقت وہ چھٹی کلاس میں تھی۔ اس کی کلاس کی ایک لڑکی کا موبایٗل چوری ہوگیا۔ بڑی ڈھونڈ مچی مگر نہیں ملا۔ پتہ نہیں کلاس ٹیچر کو اس کا آخری حل یہ نظر آیا ،انہوں نے اس چلبلی لڑکی کو اپنے پاس بلایا اوراس سے کہا تمہیں یہ کیس دیتی ہوں تمہیں پتا لگانا ہوگا کہ کس کے پاس موبائل ہے۔اس نے ہنس کر کہا جاسوسہ کے لیٗے کیا مشکل ہے اس کا پتا لگانا۔ اسے اپنی کلاس کی ایک لڑکی پرشک تھا لیکن وہ ایسے اسے پکڑ نہیں سکتی تھی۔برابر کلاس میں اس کی ایک گہری دوست تھی۔وہ سیدھی اس کے برابر میں بینچ پر بیٹھ گی۔ وہ لڑکی اس کو دیکھ کربری طرح گھبرا گئی۔
جاسوسہ نے کہا شرافت سے موبائل نکال دو۔اس نے فورا موبائل نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا اوراس نے یہ بھی بتلادیا کہ تمہاری کلاس کی فلاں لڑکی نے موبائل چوری کیا اور میرے پاس رکھو ا گئی تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہواورکون اس راز میں شریک ہے ،اس نے دوسری دوست کانام بتلایا۔ جاسوسہ اس کے پاس گئی۔ اس نے بھی تصدیق کردی ،ہاں تمہاری کلاس کی لڑکی نے موبائل چوری کیا ہے۔اب جاسوسہ کلاس میں پہنچی اس نے مجرمہ لڑکی جس نے موبایٗل چوری کیا تھا۔ اس نے اسے بالوں سے پکڑا اوردوتماچے اس کے منہ پر جڑدیٗےاورکہا اب ٹیچر صاحبہ کو اپنا کارنامہ سناؤ۔ اس نے اس چوری کا بھی اقرار کیا اورمزید تین چوریاں اورپکڑی گٗیئں۔ایک لڑکی نے کھڑے ہوکر کہا تم نے اس کو کیوں مارا۔ جاسوسہ نے کہا اگر یہ میرا اسکول نہیں ہوتاتو اس چوری کی رپورٹ تھانے میں ہوتی۔تمہیں چور سے بڑی ہمدردی ہورہی ہے۔جاسوسہ اب پورے اسکول میں مشہور ہوچکی تھی۔ اب چوریوں کا سلسلہ رک چکا تھا۔آٹھویں جماعت میں اس کے اسکول میں ایک خاتون پویس آفیسر آئی اوراس نے دفترمیں آکر جاسوسہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ہیڈ مسٹریس نے اسے بلوالیا۔ انہوں نے جاسوسہ کو دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ وہ بہت خوبصورت نازک اندام لڑکی لگ رہی تھی۔تم ہی جاسوسہ ہو ہمارے لیٗے کام کرو گی۔ بتلاوٗ پولیس میں شامل ہونا ہے یا اجرت پر کام کرو گی۔تمہیں مختلف اسکولوں کالجز لڑکیوں اورلڑکوں میں مجرموں کے لیٗے کام کرنے والوں کی جاسو س بن کر ہمیں نشاندہی کرنا ہوگی۔ہماری پولیس ٹیم ان کو پکڑ لے گی لیکن اس کے لیٗے تمہیں مکمل ٹرینگ کرنا ہوگی۔ جب ہی تم مکمل جاسوسہ کہلاؤگی۔اس نے وہ ٹریننگ بہت جلد مکمل کرلی اوراپنا مشن انجام دینا شروع کردیٗے۔ وہ اپنا کام پوری معلومات، تمام معاملات کی نگرانی اورجرم کی نشاندہی ہونے کے بعد پولیس کوآگاہ کرتی تھی اورمجرم بچ نہیں پاتے تھے۔اس کاشہرہ دور دور تک تھا لیکن کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا۔ اسے اسلامی تاریخ اوراقوام عالم کی تاریخ سے دلچسپی تھی۔وہ یونی ورسٹی کے آخری سمسٹر کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی اورسستا رہی تھی۔ اسے اپنی ملک کے حفاظتی ادارے کی طرف سے بلالیا گیا۔جاسوسہ کا نام نیلم تھا۔اس ادارے نے ذمہ دار نے اسے بتلایا کہ ہم یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہم تمہیں مکمل جانتے ہیں۔تم ہمارے اس کام کے لیے بہت موزوں ہو اورہماری ممبر بھی نہیں ہو۔یہ تمہارا مشن ہے۔ اب تمہارا کیا خیال ہے؟میں حاضر ہوں اوراس مشن کی تکمیل کرنا میرا فرض بنتا ہے۔پہلے تمھیں مکمل ٹریننگ دی جاےٗ گی۔ اتنے بڑے ادارے کے لیےٗ کام کرنا اس کے لیےٗ بڑا اعزازتھا۔ تھا۔اس کاشوق بھی تھا اوراسے ان کاموں کا تجربہ پولیس ٹریننگ اور ان کے لیےٗ کام کر کے ہو چکا تھا۔ اس نے یہاں بھی اپنی ٹریننگ وقت سے پہلے مکمل کرلی۔تمام ضابطہ کی کارروائی ہوچکی تھی اب اسے جانا تھا۔ سخت مشق جس ملک کا خاصہ ہو۔ و ہاں جانے کی بھی رہرسل ہوئی اورایک رات خاموشی سے ایک طرف سے جنگل میں اتر گئی وہ خالی ہاتھ تھی، اسے اللہ اور اپنی ٹریننگ پرپورابھروسہ تھا۔تھوڑی دور کے بعد مکئی کا کھیت شروع ہوگیا۔ اس نے دشمن کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے اللہ سے مد دطلب کی اورآگے بڑھ گئی۔ تھوڑی دور چلنے کےبعداسےسرگوشی سنائی دی ۔خاموشی سےچلتی رہو یہ کوئی عورت تھی۔ یہ سفر کئی میل تھا لیکن اندھیرے کی وجہ سےاسےنظرکچھ نہیں آرہاتھا۔پھروہ ایک مکان میں داخل ہوئے۔تھوڑا ٹھہر کرپھر عورت کے بتلاےٗ ہوےٗ راستے پر چلنے لگے ۔ یہ بھی میلوں کاسفر تھا چلنے کےبعد وہ ایک ایک وسیع چاردیواری میں داخل ہوگئے۔یہاں خواتین اورکچھ مرد بھی تھے۔چارے اور بوریوں کا ڈھیر تھا۔اسے بتلایاگیا کہ کس طرح کام ہوتا ہے۔ اس نے ساری رات اس کام کی مشق کی اورپھر سوگئی اسے پتا تھا ابھی اس کی تفتیش ہوگی۔پھر کام پرجانےوالےچلےگئےاوروہ ان کا کام دیکھتی رہی۔ عورتوں نے بتلایا کہ فوجی افسر عورتوں اورشراب کے بہت شوقین ہیں۔ان سے بچنا بہت دشوار ہے۔کچھ لوگ آئے،ان میں عورتیں مرد تھے۔ وہ سارا دن اس کی تلاشی لیتے رہے اور اس کی ہرچیز کا معائنہ کرتے رہے۔
مرد نیلم کے حسن کوللچائی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے لیکن اس نے اپنا بچاؤ کیا اورکوئی اس سے زبردستی کرنہیں سکتا تھا ، اس لیےٗ خاموش رہے۔ تفتیش کاروں نے اسے اوکے کردیا۔اسے مقامی عورتوں کا لباس ملاتھا لیکن وہ بھی اس کے جسم پر جچ رہا تھا۔آج اس کاپہلا دن تھا۔وہ پلو سے اپنے منہ کو چھپاےٗ ہوئے تھی۔ ایک دفعہ جب وہ چارہ اتار رہی تھی وہ کن انکھیوں سے دیکھ چکی تھی یہاں کابڑا انچارج آفیسر اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا تھا۔اس نے موقعہ بہتر دیکھا اس نے چارہ اتارتے زیادہ وزن کی وجہ سے ایک چھٹکا کھایا ،گرتے گرتے، اس کے طویل بال لہراےاوراڑتے ہوےاس آفیسر کو ڈھانپ لیا۔آفیسر نے نیلم کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئےاٹھالیا اوراپنے آفس لے گیا۔اوراپنے پاس بٹھالیا۔ نیلم کو اس وقت کا انتظار تھا۔ اس نے کسی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا اوراس کے اورقریب ہوگئی۔ انچارج آفیسر اس حسن کی دیوی اوراس کے حسین چہرے کو دیکھ کر بے قابوہوا جارہا تھا۔اس نے بے بسی سے کہا میں تجھ سے فوراً شادی کروں گا۔ نیلم نے اس سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں بھی تم سے شادی کے لیے بے چین ہوں لیکن ہمارے یہ تہوار اوریان رسمیں ہیں ،ان کے بعد ہم فورا شادی کرلیں گے۔اس نے نیلم سے کہہ دیا تم اب میرے پاس رہو گی کہیں نہیں جاوٗ گی۔تمہیں الگ کمرہ دیا جاےٗ گا۔ تم الگ سو سکتی ہو مگر شادی تک اس کے بعد تم میری بیوی ہوجاؤگی۔آفیسر سوائے نیلم کے سب بھول چکا تھا۔ خود جاکر اسے اس کی پسندکے کپڑے اورسینڈل دلواتا تھا۔اچھے سے اچھے کھانے کھلاتا تھا۔معائٗنہ کے دوران اسےخفیہ اڈے میں لیے پھرتا تھا اورصبح گھوڑوں پر یہ سیر کے لیے نکلتے تھے، یہاں عورتیں بھی گھوڑ سواری کرتی تھیں۔دفتر میں نیلم اس سے چپک جاتی وہ سب کام چھوڑ کر اس کے حسن کی شاعری شروع کردیتا۔نیلم اپنے ملک کی دیے ہوئی خفیہ آلات اپنی تمام معلومات پہنچاتی رہی۔ یہ اتنے جدید آلات تھے جو کسی فرینکوسی میں نہیں آسکتے تھے ۔ وہ تو خودساری فائلیں ٗ نیلم کو دے کرسوجاتا ،نیلم اسےبہت شراب پلاتی تھی اور وہ مدہوش رہتا تھا ،بس اسے اتنا اطمینان تھا کہ نیلم اس سے جلد شادی کرنے والی ہے۔اتنا وقت گزرچکا تھا اس کے محکمے کی طرف اس خفیہ اڈے کی مکمل معلومات ملنے کی اطلاع مل چکی تھیں، اب دنیا کی نگاہ سے اوجھل یہ زیر زمیں خفیہ اڈا خفیہ نہیں رہا تھا، اسے نیلم نے فتح کرلیا تھا۔ فورا ًاس جگہ کو چھوڑ دواوراس راستے سے جنگل کی طرف آنا۔یہ ایک انتہائی خفیہ اڈا تھا،اس میں جدید ترین آلات تھے اورمیزائل نصب تھےاوردوسرے ہتھیار تھے، یہاں آلات اتنے جدید تھے ،اس نگرانی کے چند لیےافراد تھے۔ اسے ہائی لیول پر کنٹرول کیا جاتا تھااورفوجی باہر اس کی حفاظت پر مامور تھے۔ انچارج فوجی آفیسر سب اس کی نگرانی میں تھا۔ بہت قابل انسان تھا۔ اندرکے تمام فوجی آفیسر نیلم کو اپنے آفیسر کی ہونےوالی بیوی سمجھا کرتے تھے۔ اس نے جانے کےدن اپنے تمام کپڑے اورسامان پیک کرکے سفر کرنیوالی جیپ میں خانوں میں رکھ دیے تھے۔ تمام پیسے زیور جو اس نے دلوا ئے تھےوہ سب اس نے چھپاکررکھ دیےٗ تھے۔ اس آفیسر کے بری طرح گلے لگ کراسے کہا آج ہم اس جگہ چلیں گےجوجگہ اسے بتلا ئی گئی تھی اور خوب شراب پئیں گے، ناچیں گے اورکل شادی کرلیں گے۔اس آفیسر نے اپنی پگڑی کو سنمبھال کے نعرہ لگایا اورتیاری کیا کرنی تھی تھوڑا کھانے پینے کا سامان اورہر قسم کی شراب اس نے اپنے تمام آفیسر کو اعلیٰ شراب کی بوتلیں پہنچادیں۔ وہ اورنیلم شام ڈھلے جیب میں بیٹھ کر بتلائی ہوئی جگہ پرپہنچے۔نیلم نے ایک چادر نیچے بچھائی اندھیر ہوچلا تھا۔ اس نے آفیسر کو دکھانے کے لیے ایک جعلی شراب کی بوتل نکالی وہ شربت سےبھری ہوئی تھی اس شراب کی طرح پیا پھر انتہائی مہارت سے رقص شروع کردیا۔ آفیسر اس رقص کو دیکھ دیوانہ ہوگیا۔ نیلم نے فورا وہ شراب کی بوتل اٹھائی جس میں اس نے بے ہوشی کی دوا ملادی تھی ، اس نے ناچتے ہوئے آفیسر کو اٹھایا اور اپنے ہاتھوں سےشراب پلادی اوراس کے ساتھ رقص کرنے لگی۔ آفیسر تھوڑی دیر مستی میں ناچتا رہا پھر بے ہوش ہوکر ہوکر گر پڑا۔ نیلم نے آفیسر کوکندھےپر اٹھا کر اسے اسٹیرنگ سیٹ پر بٹھادیا۔ اس کے ہتھیار اس کے قدموں میں رکھ دیٗے۔اس نے اپنے کپڑے اورسینڈلیں بیگ کھول کر سامنےرکھ دیئےاوراس کے دیےہو ئے زیورات اوراب تک دیے ہوےاس کے سارے ڈالر جیپ کی جیب میں اورزیورات اس کی وردی کی جیب میں رکھ دیئے اوجلدی سے کپڑے اتار کر سیاحوں والے کپڑے پہنے اوربیگ میں ضروری کاغذات رکھ کر وہ جنگل میں اتر گئی۔ا س نے جاتے جاتےآفیسر کوسلوٹ مارا اس کی اچھائی پرکچھ دور جاکر اسے وہی مانوس آواز آئی اب بے فکر ہوکر چل پڑو ،اب کوئی خوف نہیں۔ ادارے کا دیا ہوامشن پورا ہوگیا تھا۔ اس کے ہاتھوں نہ کوئی موت ہوئی اور نہ تباہی مچی، معلومات اس کے بیگ میں تھیں۔ وہ اب بھی خالی ہاتھ تھی، یہ اللہ کی مہربانی اوراس کی ٹریننگ کا نتیجہ تھا۔




















