غزالہ اسلم
افنان کواسکوٹرچلانےکا بہت شوق تھا،گھر میں ابوکے پاس تواسکوٹرتھانہیں کبھی چاچوکی موٹر سائیکل مانگ کے لے آتا
،کبھی دوست کی اسکوٹر چلا کر شوق پورا کرتا۔افنان کی امی منع کرتی تھیں کہ پرائی چیز استعمال نہ کیا کرو اگر خدا نخواستہ کوئی نقصان ہوگیا تو کیسے پورا کریں گے ۔مگر آج کل کے نوجوان کہاں والدین کی بات سنتے ہیں ۔
افنان کی عمر سولہ سال تھی اور اس کی چھوٹی بہن اریبہ پندرہ سال کی تھی اور میٹرک میں پڑھتی تھی ،اسے عبایا پہننے کا بہت شوق تھا ،امی نے اسے نیا عبایا دلایا تھا وہ اسکول جاتے ہوۓ پہنتی تھی ۔عبایا تھوڑا لمبا تھا ،ان کی سلائی مشین خراب تھی ورنہ اریبہ کی امی فورآ نیچے سے کاٹ کر دوبارہ سلائی لگا دیتیں۔
اریبہ شوق میں لمبا برقع پہن کر اسکول چلی گئی ،اسکول سے واپس آئی توافنان چاچو کی موٹرسائیکل لے کر آیا تھا کہ امی کے ساتھ سلائی مشین ٹھیک کروانے جانا ہے مگر اریبہ ضد کرنے لگی کہ مجھے ایک چکر لگوا دو موٹر سائیکل پر ،مجبورا افنان نے اریبہ کو بٹھا لیا اور مین روڈ پر آگیا ،اریبہ کا عبایا لمبا ہونے کی وجہ سے اس سے سنبھالا نہیں جا رہا تھا اور چاچو کی بائیک میں چین کور بھی نہیں لگا ہوا تھا ۔بایئک جیسے ہی مین روڈ پر آئی عبایا لٹک کر چین کے ساتھ پہیے میں گھوم گیا اور بائیک گرگئی افنان بائیک کےنیچے دب گیا اور اریبہ پیچھے سے آنے والی بس کے نیچے کچل گئی ۔آنآ فانا یہ حادثہ ہوگیا لوگوں نےفوراًایمبولینس بلائی اور دونوں کو اسپتال لے گئے مگر افنان کے سر پر چوٹ آئی اور وہ راستےمیں دم توڑ گیا جبکہ اریبہ کی لاش کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ کسی محلے والے نے حادثہ دیکھ کر افنان کے گھر اطلاع دی۔افنان کی امی نے اس کے ابو کو بلایا اور دونوں سول اسپتال گئے مگر دونوں بچے مر چکےتھے۔دونوں بچوں کی لاشیں دیکھ کر امی کو سکتہ ہوگیا اور ابو کی حالت بھی خراب ہوگئی ۔
اس واقعے میں قصور کس کا ہے،افنان کا،اریبہ کایاان کےچاچو کا؟. یادرکھیں اٹھارہ سال سےکم عمربچوں کو بائیک مت چلانے دیں اور لڑکیاں بائیک پر اپنا عبایا سمیٹ کر پکڑ کر رکھیں اور مرد حضرات اپنی بائیک پر چین کور ضرور لگوائیں، ورنہ ایسے حادثے آپ کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں ۔اللہ ہم سب کو اور ہمارے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثم آمین ۔۔۔




































