
ابن عالم
مسجد ایک مقدس مقام ہےجوصرف اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر،تلاوتِ قرآن پاک اوردینی امورکےلیےمخصوص کیا
گیا ہے، یہ وہ جگہ ہےجہاں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوتےہیں،روحیں پاک ہوتی ہیں اورمومن اپنےخالق سےرازونیاز کرتے ہیں۔ مگر افسوس! آج ہم اس مقدس مقام کواپنی دنیاوی گفتگو، کاروباری معاملات، سیاست اور فضول باتوں سے آلودہ کرتے جا رہے ہیں۔
رسول اکرم ﷺ نےاس خطرناک رجحان کی پیش گوئی کرتےہوئےفرمایا
"عنقریب لوگوں پرایسا وقت آئےگاکہ وہ مسجدوں میں دنیاوی باتیں کیاکریں گے،لہٰذاتم ان کےپاس نہ بیٹھنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔"
(مشکوٰۃ شریف، حدیث: 704)
حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف ایک آنےوالےفتنےسےخبردارفرمایا بلکہ ایک مؤمن کورہنمائی بھی دی کہ وہ ایسے ماحول سے دور رہے جہاں مسجدوں میں دنیا کی باتیں ہونےلگیں۔مسجد دنیا کے بکھیڑوں سے دور اللہ کریم کی رحمتوں کے حصول ،گناہوں کی معافی اور عبادت کا روحانی مقام ہے۔یہ ہازار نہیں، نہ کیفے یا سیاست کا اڈہ ہے۔جب ہم مسجد میں داخل ہوں تو ہمیں یہ شعور ہوناچاہیےکہ ہم اللہ کےگھر میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں ہرلمحہ ہماری عبادت بن سکتا ہےلیکن اس کے لیے نیت کا درست ہونا بھی ضروری ہے ۔دنیاوی باتیں جیسےتجارت، سیاست، گھریلو مسائل، یا کھیل و تفریح کی گفتگو، مسجد میں کرنےسےعبادت کاماحول متاثر ہوتا ہے۔ایسی باتیں عبادت میں خلل ڈالتی ہیں اوردوسرے نمازیوں کی توجہ بھی بٹتی ہےجو گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے واضح طورپرفرمایاکہ ایسےلوگوں کےپاس بھی نہ بیٹھو۔اس سےمعلوم ہوتاہےکہ نہ صرف دنیاوی گفتگوکرناغلط ہےبلکہ اس میں شریک ہونا یا خاموش تائید کرنا بھی ناپسندیدہ عمل ہے کیونکہ جو شخص اللہ کے گھرکا ادب نہیں کرتا،وہ اللہ کی نظر میں بے وقعت ہو جاتا ہے۔افسوس کےساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت سی مساجد میں نمازی جماعت سےپہلے یا بعد میں بیٹھ کردنیاوی موضوعات پربحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ کبھی سیاسی حالات پرکبھی کاروباری مسائل پراور کبھی دوسروں کی غیبت کرتےنظرآتے ہیں۔ایسے لوگ درحقیقت مسجد کےتقدس کوپامال کررہےہوتے ہیں۔
علمائے کرام اورخطباءکوچاہیےکہ جمعہ کےخطبوں اوردروس میں اس موضوع کواجاگرکریں،مسجد کمیٹیوں کو چاہیےکہ مسجد میں نظم وضبط قائم رکھیں اور ایسےافراد کو نرمی سے سمجھائیں،ہرنمازی کو اپنی ذات سےمسجد کا ادب قائم رکھناہوگا۔اپنی زبان کو قابو میں رکھنااوردل کو اللہ کی طرف موڑ دینا یہی اصل عبادت ہے۔




































