
نائلہ تبسم
گزشتہک مہینے سے غزہ کے حالات مزید کشیدہ اور ناقابلِ برداشت ہوتےجا رہےہیں۔ وہ سرزمین جوانبیاء کرام کی سرزمین تھی، آج گولہ بارود اور دھماکوں
کی زد میں ہے۔ لوگ روٹی کے ایک ایک نوالے کو ترس رہےہیں۔ غزہ میں ایک آٹے کےتھیلےکی قیمت ایک انسانی جان کےبرابرہوچکی ہے۔روٹی کی تلاش میں وہ بے بس باپ، جس کا بیٹا بھوک سے شہید ہو گیا، یاوہ بوڑھا جو کھانے کے انتظار میں قطارہی میں دم توڑ گیا، یا وہ عورت جو ہسپتال کے ملبے میں پانچ دن سے صرف پانی کےچند قطرے پی کر زندہ ہے— کیا یہ سب کچھ قابلِ برداشت ہے؟
ابو عبیدہ،جوچارماہ بعد لائیو دکھائی دیے،اُن کی نقاب سےجھانکتی آنکھوں میں درد،تھکن اورامت سےمایوسی واضح طورپرنظرآرہی تھی۔غزہ میں اس وقت تقریباً بیس لاکھ لوگ بھوک کی اذیت میں مبتلا ہیں۔ لوگ چلتےچلتےگر رہے ہیں، مر رہے ہیں، اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ معلوم نہیں اہلِ عرب اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ضمیر کب جاگیں گے؟ کب اہلِ غزہ آزادی کا سورج دیکھیں گے؟
حال تو یہ ہے کہ میکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے مراکز پھر سےآباد ہو رہے ہیں، مگر غزہ کا دکھ وہیں کا وہیں ہے۔
ذرا سوچیں: ہم بھی کہیں تاریخ کے قاتلوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے؟




































