
حبیبہ اسماعیل
سرسبز وادی، جھرنے کا بہتا ہوا ٹھنڈا اورشفاف پانی،ہر طرف اونچے،گھنے درخت، جگہ جگہ ہری گھاس اوررنگ برنگےخوشبودارجنگلی پھول، دور
کہیں چھوٹی بڑی ڈھلوانوں والی پہاڑیاں، اور میدان میں چرواہےاپنی بھیڑ بکریاں چرارہےتھے۔ایک چرواہا ایک بڑےسے پتھر پربیٹھا بانسری بجا رہا تھا، جس کی مدھر تان نے پوری وادی کو ایک عجیب سی سحر انگیز خاموشی میں لپیٹ رکھا تھا۔ بھیڑ بکریاں بھی جیسے اس موسیقی کے سُروں میں مست ہو کر ادھر ادھر دوڑ رہی تھیں۔
اسی وادی میں ایک گھاس پھونس سے بنے جھونپڑے سے دو پیارے سے بچےاچھلتےکودتےباہرنکلے۔وہ کبھی جھرنےکےپانی میں پاؤں ڈالتے، کبھی کسی پھول پر بیٹھی تتلی کو پکڑنے کی کوشش کرتے اور خوشی سے کھلکھلاتے۔ اچانک انھوں نے دور سےاپنے والد کو سر پر لکڑیوں کا گٹھا اُٹھائے آتے دیکھا۔ دونوں بچے ایک دوسرے سے پہلے باپ تک پہنچنے کی کوشش میں دوڑنے لگے۔ دوڑتے ہوئےایک بچی ٹھوکر کھا کر گر گئی اور اس کا سر ایک پتھر سے ٹکرا گیا، جس سے خون بہنے لگا۔ بچی کا بڑا بھائی اور باپ فوراًاس کے پاس پہنچے، اُسےاُٹھایا اور جھونپڑے میں لے گئے۔ ماں نے زخم کو صاف کرکے مرہم پٹی کی۔
سویرا اور روحان، جو اپنی شادی کے کچھ دن بعد ہی اس وادی کی سیرکےلیےآئےتھے،یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ان دونوں کو قدرتی مناظر،سکون اور مصنوعی ہنگامہ خیزی سے دور زندگی بہت پسند تھی۔ وہ جب سے وادی میں آئے تھے، وہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہے تھے، سب کے ساتھ گھل مل کر پورے علاقے کی خوب سیر کر رہے تھے، اور دل سے خوش تھے۔
بچی کےزخمی ہونے پر وہ بھی فوراً اس کےپاس پہنچے۔سویرانےاپنےبیگ سےچاکلیٹ نکال کربچی کودی، جوچاکلیٹ کھاکراپنی تکلیف بھول گئی۔آج، واپسی کے سفر پر،سویرا گاڑی کی سیٹ پر سر ٹکائے بیٹھی تھی اور قدرت کے اس حسین، پُرسکون ماحول کا شہر کی گہما گہمی، خوف، دہشت، مصنوعی تعلقات اور مسائل سے بھرپور زندگی سے موازنہ کر رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنی بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں، لیکن انسان ناشکری، حرص، اور مصنوعی چمک دمک کے پیچھے دوڑ کر ان نعمتوں کو نہ صرف نظر انداز کرتا ہے بلکہ خود اپنے ہی ہاتھوں قدرتی ماحول کو برباد کر کے بے شمار مسائل میں خود کو پھنسا چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی انسان کی بھلائی کے لیے پیدا کیا ہے،وہ کبھی نقصان دہ نہیں ہو سکتا۔کاش!ہم انسان فریبِ نظر، چکا چوند، اور دکھاوے کو زندگی کا حصہ نہ بنائیں، تو ہمیں ہر طرف اللہ کی صناعی، قدرت کی خوبصورتی،اورسکون نظر آئے—جو نہ صرف ہمارے ماحول کو بہتر بنائے بلکہ انسانی فطرت میں بھی سادگی اور خلوص پیدا کرےکیونکہ قدرت انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے، جبکہ مصنوعی زندگی اُسے اللہ سے دور لے جاتی ہے۔




































