
صبا احمد
دو سال ہونے کو ہیں کہ غزہ میں مسلسل بمباری اور جنگ مسلط ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے غزہ کو جنگ کی آگ میں جھونک رکھا ہے۔ عالمی
برادری یہود و نصاریٰ کی غلام بن چکی ہےجبکہ امتِ مسلمہ کے حکمران ڈونلڈ ٹرمپ جیسےعالمی مجرموں کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں اوردوستی کے تعلقات بڑھا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پراسرائیلی سفاکی، بربریت اورظلم وستم کی تمام حدود پارہوچکی ہیں۔ بچوں کی نسل کشی اسرائیلی حکومت کا واضح مقصدبن چکا ہے۔ بھوکے پیاسے بچے گاڑیوں کے پیچھے گرتے ہوئے قطروں کے لیے ترس رہے ہیں۔ جوان بیٹوں کی شہادت کے بعد بوڑھے والدین بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر کھانے کی قطاروں میں کھڑے ہیں۔ گرمی اور مسلسل بمباری سے ان کا برا حال ہے۔ سانس لینا دوبھر ہو چکا ہے۔
چھوٹے بچے دودھ اور خوراک کے لیے بلک رہےہیں۔ آٹے کی ایک بوری لینےوالوں پراندھا دھند فائرنگ کردی جاتی ہے۔اسرائیلی دہشت گرد فوج کتنے ہی معصوموں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنا چکی ہے، جبکہ ان کے اہلِ خانہ صرف روٹی کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔
روٹی کے لیے ترسے ہوئےان لوگوں کایہ حال ہےکہ جب ان کے گھرکامرد آٹےکی ایک بوری لےکرآتاہے،توبچےخوشی سےجھوم اٹھتے ہیں— چاہے وہ روٹی صرف زیتون کے تیل اور پودینے کے سوکھے پتوں کے ساتھ ہی کیوں نہ کھائیں۔ گوشت، مرغی اور سبزیاں ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ غزہ میں شدید مہنگائی ہے۔
ایک صحافی، جو کبھی دوسروں کی خبریں بنایا کرتا تھا، اب اپنے بچوں کے لیے آٹے کی ایک بوری کے بدلے اپنی بائیک بیچنے پر مجبور ہے۔کُنافہ اور بَقلاوہ تو اب تصور کی چیزیں بن چکی ہیں۔ کوئی خریدار بائیک لینے کو تیار نہیں، کیونکہ کسی کے پاس پیسے نہیں۔
کچھ خواتین ایسی ہیں جن کے شوہراوربچےشہید ہوچکےہیں، کچھ باپ اپنےپورےخاندان سےمحروم ہوچکےہیں،تنہا کھڑے ہیں۔ ان کے پیاروں کے جسدِ خاکی کے پاس لاوارث بچے کھنڈرات میں بھٹک رہے ہیں۔ معصوم بچوں اور بڑوں کے اعضا بکھرے پڑے ہیں۔ چھوٹے بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ایک دو سے ڈھائی سال کابچہ اسپتال میں اپنی گود میں ماں کاسررکھےتیمارداری کررہا ہے۔وہ بچہ سمجھ چکا ہےکہ اب اس کی ذمہ داری کیا ہے۔ زندگی اب شہادت کے لیے ہے۔القدس اور مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت اب صرف فلسطینیوں کی ذمہ داری بن چکی ہے۔ مسلمان اپنی ذمہ داریاں بھول چکے ہیں۔
کیا ہم امتِ مسلمہ کے افراد غزہ کی طرف اپنی کوئی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ ہم نے سب کو اپنا بھائی کہا، مگر عرب مال و دولت کی ہوس میں عیاشی میں مبتلا ہیں۔ انہیں اپنے عرب بھائیوں کا کوئی خیال نہیں۔ عجمی حکمران اپنی حکومتیں بچانے کے لیے امریکہ کے دربار میں کھڑے ہیں، اس کی سازشوں کے شریک بنے ہوئے ہیں۔یونیسیف اور اقوامِ متحدہ نے مسلمانوں پر نیٹو کے حملے کو جائز بنا رکھا ہے۔ عوام غزہ میں رو رہے ہیں ، خوراک کے گودام خالی ہو چکے ہیں۔ رفح کا بارڈر بند ہے۔ مصر، امریکہ کا "ٹٹو" بن چکا ہے۔
اب ہمارے پاس صرف ایک راستہ ہے— بائیکاٹ کی زنجیر۔ ہم ان مکار یہود و نصاریٰ کےپاؤں اسی بائیکاٹ سےجکڑسکتے ہیں۔ ہمیں اپنی صنعت وتجارت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ اس کے منافع سے اپنے بھائیوں کی مدد کر سکیں۔ فلسطینی مکمل طور پر تنہا ہیں۔ صرف حماس اور اللہ تعالیٰ کی مدد ان کے ساتھ ہے۔
"حسبی اللہ و نعم الوکیل" کا ورد جب مائیں بھوکے بچوں کو کراتی ہیں،تووہ پرسکون ہوجاتے ہیں۔ جن کا کوئی نہیں، ان کا اللہ ہے۔
کے ایف سی اور میکڈونلڈ دنیا بھرمیں کم ہو رہے ہیں، مگر ہمیں مسلمانوں کومکمل بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ اب "ڈبل چیز" کے نام سے نئی نئی فاسٹ فوڈ چینز کھل رہی ہیں اور عرب انہیں حج کےدنوں میں بھی کھا رہے ہیں۔ وہ گویا اپنے ہی بھائیوں کا گوشت اور خون پی رہے ہیں—پیپسی، کوکا کولا جیسےبرانڈز کے ذریعے۔
ہم انہی جگہوں پر بیٹھ کر اپنے بچوں کا قتل عام کروارہے ہیں۔ وہاں کے بچے بھوک اور غم سےنڈھال ہیں۔ سوچیں! ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور ان معصوم شہید بچوں کو کیا جواب دیں گے؟
غزہ، اس وقت، کربلا سے کم کربناک نہیں۔
موت سے کس کو رستگاری ہے؟
آج وہ... کل ہماری باری ہے۔




































