
نائلہ تبسم
کبھی کبھی زندگی میں کچھ لوگوں کو دیکھ کردل میں ایک سکون سا بھرجاتا ہے۔وہ خوش قسمت لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ ہاتھ پکڑ کرصراطِ مستقیم پر لے آتے ہیں، جن کے دل بدل
جاتے ہیں جو عاجز بن جاتےہیں،اپنی زندگیوں کارُخ موڑ لیتےہیں، قرآن پر غوروفکراورتدبرکرتےہیں جنہیں دیکھ کرواقعی اللہ یادآجاتا ہے۔
میں نے ذاتی طور پر جب ان لوگوں کی زندگی کا جائزہ لیا تو ایک چیزجو تقریباً سب میں مشترک تھی، وہ یہ کہ ان افراد نے قرآن کی کوئی ایک آیت سنی اور ایمان لے آئے۔ ان کے دل بدل گئے، اور وہ افراد معاشرے کے مہذب ترین انسان بن گئے۔
اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرماتے ہیں
ترجمہ: "اگرہم نےیہ قرآن کسی پہاڑ پربھی اتاردیاہوتاتوتم دیکھتےکہ وہ اللہ کےخوف سے دبا جا رہا ہےاورپھٹ پڑتا ہے۔"
(الحشر: 21)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ اپنےگھرمیں قرآن کی تلاوت کرتے تو مشرک عورتیں اور بچےان کی طرف متوجہ ہو جاتے۔عصرِ حاضر میں دنیا کی ذلتوں اور مصیبتوں کی ایک بڑی وجہ قرآن سے دوری ہی ہے۔
فرمانِ الٰہی ہے
کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیاکہ ان کےدل اللہ کےذکرسے پگھلیں اور اس کےنازل کردہ حق کے آگے جھکیں؟
(الحدید: 16)
یعنی زندگی میں تمام معاملات کی درستگی اور زندہ دلی کے لیےقرآن پرعمل ناگزیر ہےاورعمل نہ کرنےکی صورت میں دل کی سختی اورانسان کی اپنی خواہشات کی پیروی رہ جاتی ہے۔ یعنی ہر غلط کام بھی اس کے لیے درست محسوس ہوتا ہے۔ مگر انسان چاہے جہاں مرضی چلا جائے، کامیابی کی جتنی سیڑھیاں مرضی چڑھ لے، وہ حقیقتاً ناکام ہی ہوتا ہے۔
پھر اس کا حل کیا ہے؟ کیونکہ کوئی ذی نفس نہ آخرت کا منکر ہوتا ہے اور نہ ہی دنیا میں ناکامی برداشت کرناچاہتا ہے۔
تو ان امراض (مسائل) کا حل کیا ہے؟
اس کا جواب بھی قرآن ہی دیتا ہے:
"لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی نصیحت آ چکی ہے۔ یہ وہ چیز ہےجو دلوں کے امراض کی شفا ہےاورجواسے قبول کر لیں،ان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔"
(یونس: 57)
مگر اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے دلوں اور سینوں میں کیا ہے؟
دنیا کی عارضی زندگی کی محبت؟ یا آخرت کی جستجو؟
یا الٰہی:ہمیں اہلِ قرآن اور صاحبِ قرآن بنا دے اور ان چنیدہ خوش نصیبوں میں شامل کر دے جن کے دل قرآن سنتے ہی لرز اٹھتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔آمین ۔




































