
ثمین سجاد
زندگی کے بھنور میں ڈوب کریہ ماہ وسال کیسےگزرتےجارہے ہیں، کچھ پتا نہیں چل رہا۔ زندگی گویا ٹرین اسٹیشن پر بیٹھےاُس مسافر کی طرح ہوتی جا رہی ہے جو جانا تو
چاہتا ہے، مگر اُسے اندازہ نہیں کہ منزل کتنی دورہے۔دورِحاضرمیں انسان کی سب سےبڑی خامی"خودغرضی" ہے۔پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک صاحبہ کو یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ: "اپنےآپ سے بے پناہ پیار کریں۔اس کےلیےاگرخودغرض بھی ہونا پڑے، تو ہو جائیں۔"
میں یہ سمجھتی ہوں کہ خودغرضی ایک دیمک ہے، جو آپ کی روح کی اچھائی اور آپ کے ایمان کی روشنی کو چاٹ جاتی ہے۔جب کوئی انسان خودغرضی کےراستےپرچلنا شروع کرتا ہے، تو وہ خود کو ایک پیچیدہ ذہنی کیفیت میں مبتلا کر لیتا ہے۔ وہ ہر چیز صرف خود حاصل کرنا چاہتا ہےاور یہ بھی چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا اُسے حاصل نہ کرے۔ اس طرح وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ دوسروں کو گرا کر صرف اپنا الو سیدھا کرے۔
معاشرے کی بقا کیسےممکن ہے؟
جب ہر شخص دوسرے کو نیچا دکھانےمیں لگاہوتومعاشرے میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے؟
معاشرے قوموں کے نظریات اور اتحاد سے بنتے ہیں، جبکہ خودغرضی اتحاد کی دشمن ہے۔ہم نےیہ خودغرضانہ رویہ بچوں تک میں منتقل کر دیا ہے اور یہی رویہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنے سے روکتا ہے۔
انسان کو اپنی زندگی بنانےاورکامیاب ہونے کا پورا حق حاصل ہےمگراس کےلیےیہ ضروری نہیں کہ ہم دوسروں کی راہیں کھوٹی کر کے اپنی راہ بنائیں۔ کامیابی کے لیے محنت اور مستقل مزاجی ضروری ہوتی ہے، ورنہ یہ سفر بےمعنی ہوجاتا ہے۔محنت ہی وہ سیڑھی ہے جس پرچڑھ کر آپ اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔ خودغرض بننے سے آپ صرف اپنی روح کا خالص پن کھو دیتے ہیں، اور وہی تو نہیں کھونا چاہیے۔




































