
سنعیہ یعقوب / بہاولپور
گھر محض سیف زون نہیں بلکہ کوئی بچپن یا لڑکپن سے جڑی یادیں ،کچھ والدین ،بہن ،بھائیوں ،نانا ابو اور نانی اماں، دادا ابو اور دادی اماں کے ساتھ
گزارے گئے وقت کی یادیں ۔یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم اپنی ضروریات اور خواہشات کے لیے ایک دوسرے پرانحصار کرتے ہیں ،جب ہماری اپنے ساتھ جڑے رشتوں سے والہانہ جذباتی وابستگی ہوتی ہے ۔
بے لوث محبت ، عزت، احساس اور قدردانی جیسے جذبے سے ہمارے گندھے ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں ۔ان ان مول رشتوں اور احساسات کی انویسٹمنٹ گھر کو گھر بناتی ہے۔ گھر ایک انوکھے احساس کا نام ہے ۔"اپنا گھر" یہ لفظ ہی اتنا پیارا، اتنا مکمل ہے کہ آپ کی پوری دنیا سمائی ہوتی اس میں ۔ آ پ دنیا میں کہیں بھی چلےجائیں ،کیسے ہی شاندار ریزورٹ ، ہوٹل یا تفریحی مقام یا بہت پیار کرنے والے کسی عزیز رشتے دار کے گھر ! پر جو اپنائیت جو سکون اپنے گھر میں آ کے ملتا ہے، وہ دنیا میں کہیں نہیں ملتا ۔
گھر جیسی محفوظ جگہ دنیا میں کہیں نہیں ، گھر کی بھی ا پنی ایک مخصوص خوشبو ہوتی ہے ،جیسے ماں کی خوشبو ہوتی ہے۔ہم میں سے اکثر جب لمبے عرصے بعد سفر سے، سیر سے، تفریح سے ،کسی کو رخصت کر کے یا دیار غیر سے جب لوٹتے ہیں گھر کو تو ان لوگوں سے بہتر کوئی اس خوشبو کو محسوس نہیں کر سکتا ،وہ بلا وجہ دیواروں پر ہاتھ رکھتے ،ہاتھ پھیرتے ہیں، الماریوں کو کھول کے ان کی مہک محسوس کرتے ہیں۔ پرانی کتابوں کے اوراق پلٹتے پرانی یادیں دوہراتے ہیں۔درختوں کو دیکھتے اور کبھی آ سمان کی جانب تکتے پائے جاتے ہیں ان کے رویوں میں ،عمل میں شکر گزاری ہو جیسے یا عاجزی ۔۔۔اپنے لوٹ آنے کی سرشاری ۔
اگر دیکھا جائے معاشرے میں تو بیٹیوں اور بہنوں سے بڑھ کے کوئی اس احساس کو بیان نہیں کر سکتا کیوں کے ان کو ابتدائی زندگی میں ہی یہ باور کروا دیا جاتا ہے کہ تم نے شادی کر کے اپنے گھر چلے جانا ہے، نئے گھر چلے جانا ہے ،یعنی یہ گھر تمہارا نہیں ۔ وہ انسکیورٹی تو فیل کرتی ہے ،ساری زندگی پر دیکھا جائے تو وہ کیسے سینچتی ہے ،بنتی ہے ،بناتی ہے ،سنوارتی ہے اس گھر کو۔ ہر وقت اپنی صلاحیتوں سے ، ہمت سے بھڑ کے گھر اور اسکے مکینوں کا خیال رکھتی ہے حالانکہ انہیں کہیں ان کویہ پتا ہوتا ہے کہ اس کا کوئی آؤٹ پٹ نہیں ملنا ۔گھر میں ان رشتوں میں اپنائیت ، سکون اور ایسی وابستگی رکھی ہے اللّٰہ رب العالمین نے مگر یہ بیٹیاں ساری زندگی گھر کو جنت بنانے اور سنوارنے میں گزار دیتی ہیں لیکن یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ ایک دفع جب اس محبتوں اور احساسات سے سینچے گھر سے علیحدہ ہو جاتے ہو ،ایک عمر کے بعد ، روزگار کے سلسلے میں یا اپنی نئی بننے والی فیملی کو لے کر یا بیٹیاں رخصتی کی صورت میں یا کسی اور وجہ سے ! تو پھر گھر وہ گھر نہیں رہتا ۔
ایک مرتبہ آ پ اپنی جگہ جب چھوڑ دیتے ہیں، نا راضی با لرضا ، موو آن کر جاتے ہیں تو پھر چاہے واپس بھی چلے جائیں اس گھر میں؛ گھر وہ گھر نہیں رہتا ۔ آپ کے احساسات ،جذبات، وابستگی بدل جاتی۔ آپ چاہ کر بھی خود کو منسلک نہیں کر پاتے، ان بہنوں ،بھائیوں والدین سے۔ وہ گزرا وقت، وہ قصے، وہ ذائقے، وہ لمحے، وہ اپنائیت ۔۔۔۔آپ دوبارہ نہیں جی سکتے ۔ ان اپنوں کے ساتھ پھر سے نئی یادیں تو بن سکتی ہیں پر اب آپ کو گھر بننا پڑتا ہے، آپ کوپھر سے گھر بنانا پڑتا ہے
آپ کو دوسروں کے لیے وہ سیف زون بنانا پڑتا ہے ،اپنے سے جڑے رشتوں کے لیے وہ گھر بنناپڑتا ہے پھر جب آپ دوسروں کے لیے وہ گھر بن جاتے ہیں نہ تو اسی میں آپ اپنے گھر والا سکون حاصل کرتے ہیں ۔صرف جگہیں ہی نہیں بلکہ آپ سے منسلک لوگ بھی آپ کا سیف زون ہوتے ہیں ۔ جن کے سامنے آپ کو دکھاوا نہیں کرنا پڑتا ، کوئی ڈر نہیں ،کوئی گھٹن نہیں ہوتی ۔ آ پ جو ہیں ،جیسے ہیں ویسے ہی بے فکری سے جیتے ہیں ۔
ہر کوئی ایک ایسے گھر کا خواب ضرور دیکھتا ہے جہاں عزت ، سکون، ہم آہنگی، اپنائیت، دلاسہ، دوستی، پیار ہو ۔ جہاں اگر کوئی اختلاف رائے ہو تو نقطہ اتفاق بھی ہو ،اگر کوئی دکھ ملے تو تسلی دینے والا بھی ہو۔ اگر مشکل ،پریشانی آ ے تو کوئی خلوصِ نیت سے مشورہ دینے والا کوئی دادرسی کرنے والا بھی ہو ۔
اس کے لیے ہمیں رشتوں کو نبھانا سیکھنا پڑےگا ،رشتوں کو ساتھ لے کر چلنا ،تلخ باتیں برداشت کرنا ،کسی کا دکھ میں احساس کرنا،دلاسہ دینا، بڑوں کا احترام کرنا ،چھوٹوں سے شفیق اور مہربان بن کے ملنا، صدقہ خیرات کرنا دوسروں کی مدد کرنا خلوصِ دل، خلوصِ نیت سے سب سے میل جول رکھنا ۔ایسے ہی تو بنا سکتے ہیں ہم اپنے گھر کو جنت ۔ایک عمر تک ہم جو محبت، شفقت، خلوص سمیٹتے ہیں پھر ایک وقت ایسا آ تا ہے کہ ہم نے وہ سب محبتیں ، شفقت اور خلوص دوسروں میں بانٹنا ہوتا ہے ۔ایسے ہی گھر بنتے ہیں ، خاندان بنتے ہیں ،نسلیں بنتی ہیں ۔




















