
ماریہ حسان
بچپن سے جہاد فلسطین کی کہانیاں پڑھتے سنتے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ان کی جرات و شجاعت،
معرکہ حق و باطل اور کبھی معجزات کے قصے سن کر یوں لگتا تھا کہ شاید یہ اس دنیا کی باتیں نہیں ، بلکہ وہ کوئی دوسری گھاٹی ہے یا کوئی منفرد شہر جو اس دنیا سے الگ ہو۔اس رنگ و روشن، بے باک دنیا سے بالکل الگ، مگر سوشل میڈیا نے اس دیس کی سیر بھی کروائی اور پھر اس مزاحمت سے محبت الفت اس سے وفاداری کئی گنا بڑھ گئی ، اپنی آنکھوں سے چلتے پھرتے اللہ کے عظیم بندوں کو اس کی راہ میں صف بستہ دیکھ کر دل کو عجیب سا قرار آتا رہا ۔کبھی لگتا کہ کاش میں بھی اس میدان کا حصہ ہوتی اور مراد پالیتی پھر دل کہتا تم میں اتنا ظرف کہاں؟ وہ تو زیتون کی طرح سخت اور پائیدار ہیں ان کا خمیر خون سے سینچا ہے۔ شہادت ان کا مقصد ہے وہی تو اس دنیا میں اللہ کے حقیقی مجاہد ہیں۔
وہی تو امت کے اصل وارث ہیں
وہ امت مسلمہ کے درد کی واحد پکار ہیں
"انہیں یہ بھی بتا دینا جو ہم اس راہ پہ نکلے سوائے درد امت کے ہمیں درپیش غم نہ تھے"
کچھ ماہ قبل مزاحمت کی اہم کڑی کمانڈر عبیدہ کی شہادت کی خبریں تیزی سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جب جب سنا دیکھا تو جسم کانپ اٹھتا تھا، آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ امت کا عظیم لیڈر اس کی قیادت کے بغیر اقصیٰ کا دفاع کیسے ممکن ہے ؟مظلوم نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی ان کی آ ہ و بکا کی واحد آ واز کیسے دم توڑ سکتی ہے؟ دل ماننے کو تیار نہ تھا ،ذہن یہی کہہ رہا تھا کہ ایک بار پھر یہ سب یہود کا جھوٹا پروپیگنڈہ نکلے گا ، خاموشی ٹوٹے گی، آ پ پھر سے امت مسلمہ کو للکارتے ہوئے خاموشی توڑیں گے اور ہمارے دل قرار پائیں گے۔ جب بھی سوشل میڈیا استعمال کیا دل میں چھپی خواہش کو لیے اسکرالنگ کرتی رہتی کہ شاید کوئی اعلان، کوئی خبر کہ کمانڈر صاحب خطاب کریں گے، تقریر کا اعلان ہو گا کوئی نوید ملے گی مگر ہمیشہ خاموشی کا راج رہااور اب جب کہ شہادت کا باضابطہ اعلان ہو چکا ہے تو ایک عجیب سی اداسی غم و غصّے نے دل میں گھر کرلیا ہے۔ غم اس بات کا کہ امت مسلمہ ایک عظیم مجاہد ایک عظیم لیڈر سے محروم ہوگئی اور غصہ اس بات کا کہ مسلم حکمران اگرچہ وہ کھلے منافق ہیں، اس بڑے نقصان پہ خاموش تماشائی ہیں۔
اب امت کے بے سہارا ہونے کا خوف سینے پہ منڈلائے ہوئے ہے ۔ عبیدہ کی وہ پکار مسلم حکمرانوں اور مسلمانوں کی خاموشی پر رب العالمین کی بارگاہ میں شکایت کرتی، وہ ایک انگلی سے للکار، اپنے احتساب کا ڈر کچھ بھی سکون سے جینے نہیں دے رہا ۔۔
یا اللہ ایسے حذیفہ ہماری مائیں کیوں جنم نہیں دیتیں ؟ ایسے مضبوط قدم چٹانوں جیسے جذبے ہمارے ہاں کیوں پروان نہیں چڑھتے؟ اتنے برسوں میں فلسطین کی مائیں کئی عبیدہ جنم دے چکی ہوں گی۔ اے کاش ہماری سرزمین پر بھی ایسے عبیدہ پیدا ہوجو کفار کے سینوں میں چبھتے ہوں ۔ یہ وقت کی ضرورت اور امت مسلمہ کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ پوری امت کی مائیں حذیفہ سمیرالکحلوت جیسے لخت جگر پیدا کریں ۔آمین
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































